لکھنو :حکومت اترپردیش کی کورونا وائرس کے بڑھتے انفکشن کو دیکھتے ہوئے نے پہلے مرحلے میں ریاستی دارالحکومت لکھنو کے ساتھ وارانسی، کانپوراور پریاگ راج جیسے بڑے شہروں میں گزشتہ رات کرفیو کااعلان کردیاہے۔ نگرنگم سرحد میں رات 9بجے سے صبح 6بجے تک اسے نافذ کیا گیا ہے ۔ لکھنو کے کمشنر رنجن کمار نے کل رات افسران کے ساتھ منعقدہ میٹنگ کے بعد رات میں کرفیوکے نفاذ کا اعلان کیا۔ چہارشنبہ کو ریاست میں کورونا کے اب تک سب سے زیادہ 6023معاملے سامنے آئے تھے جن میں 1333 صرف لکھنو کے تھے۔ نائٹ کرفیوکا نفاذ فی الحال 16اپریل تک رہے گا۔ بعد میں جائزہ کے بعد اس میں اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔ مقامی علاقوں میں پنچایت انتخابات کی وجہ سے اس میں چھوٹ دی گئی ہے ۔علاوہ ازیں 50سے زیادہ کیس والے یا روزانہ 100سے زیادہ نئے مریضوں والے 12 اضلاع میں بھی رات میں کرفیوکے نفاذ کا اعلان کیا جاسکتا ہے ۔ ان میں پریاگ راج، وارانسی، کانپور شہر میں تو رات کے کرفیو کا اعلان ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ گورکھپور، میرٹھ، گوتم بدھ نگر، جھانسی، بریلی، غازی آباد، آگرہ، سہارنپور اور مرادآباد اضلاع شامل ہیں۔ چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے گزشتہ رات ان اضلاع کے ڈی ایمز کو مقامی حالات کا جائزہ لے کر نائٹ کرفیو کے بارے میں فیصلہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو حالات کے مطابق اسکول،کالجوں میں چھٹی (امتحانات کو چھوڑ کر)کے بارے میں بھی فیصلہ کرنے کو کہا گیا ہے ۔ لکھنو سمیت ان اضلاع کی ویڈیو کانفرنس سے جائزہ لیتے ہوئے یوگی نے کہا کہ زیادہ متاثرہ اضلاع میں رات میں لوگوں کی نقل و حرکت کو روکا جائے لیکن کسی بھی صورت میں ضروری اشیاء جیسے دوا، اناج وغیرہ کی دستیابی میں روکاوٹ پیدا نہ کی جائے ۔ ماسک نہ لگانے والوں پر جرمانہ بھی لگایا جانا چاہئے ۔اس سے لوگوں میں ماسک لگانے کی عادت میں اضافہ ہوگا۔ ڈی ایم غازی آباد اجے شنکر پانڈے نے تعلیمی اداروں کو بندکرنے کے ساتھ ہی آج سے نائٹ کرفیو لگانے کا اعلان کردیا۔


اپنی رائے یہاں لکھیں