اتر پردیش میں گنگا کنارے دفن اور بہتی ہوئی لاشوں کو دیکھ کر اپوزیشن پارٹی لیڈران نے حکمراں بی جے پی حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ کورونا سے ہلاک ہونے والے لوگوں کی کم تعداد پیش کر رہی ہے۔ اب بی جے پی کے ہی ایک لیڈر نے ریاست میں کم و بیش 10 لاکھ افراد کے کورونا سے ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ بی جے پی لیڈر کے اس دعویٰ نے یوگی حکومت کے ذریعہ پیش کردہ اعداد و شمار پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔

اتر پردیش میں برسراقتدار بی جے پی کی ایگزیکٹیو کمیٹی رکن اور سابق رکن اسمبلی رام اقبال سنگھ نے پیر کے روز اپنے ایک بیان میں کورونا انفیکشن سے ریاست میں دس لاکھ لوگوں کی موت کا دعویٰ کیا۔ حالانکہ اپنے دعویٰ کو ثابت کرنے کے لیے انھوں نے کوئی اعداد و شمار یا دستاویز پیش نہیں کیا ہے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ کورونا سے ہلاک ہونے والوں کی جو تعداد بتائی جا رہی ہے، وہ غلط ہے۔

یہاں قابل ذکر ہے کہ رام اقبال سنگھ نے ہفتہ کے روز بھی ایک بیان دیا تھا جس میں کہا تھا کہ ہر گاؤں میں کورونا انفیکشن سے کم از کم دس لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ بی جے پی لیڈر نے یہ بھی کہا تھا کہ بڑی آبادی والے گاؤں میں یہ تعداد کئی گنا زیادہ ہے اور شہروں میں بھی کثیر تعداد میں لوگوں کی کورونا سے موت ہوئی ہے۔

میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق رام اقبال سنگھ کے بیانات سے بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کافی ناراض ہے اور ان کے خلاف کارروائی کی تیاری ہو رہی ہے۔ گورکھپور میں پارٹی کے مقامی سربراہ دھرمیندر سنگھ نے ایک خبر رساں ادارہ سے بات چیت کے دوران کہا کہ بی جے پی کی ریاستی ایگزیکٹیو کمیٹی کے رکن اور سابق رکن اسمبلی رام اقبال سنگھ کے پارٹی مخالف بیانوں کے معاملے پر ریاستی قیادت کارروائی کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ رام اقبال سنگھ کے متنازعہ بیانات پر مبنی خبروں کے تراشے جمع کر لیے گئے ہیں جسے ریاستی قیادت کو بھیجا جا رہا ہے۔