لکھنؤ: ۔ اترپردیش میں یوگی حکومت مسلمانوں کو نت نئے مسائل میں گھیر کر انہیں بے سہارا کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ لوجہاد سے لے کر مسلمانوں کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرانے کا سلسلہ جاری ہے ۔ کئی مسلم اکثریتی علاقوں میں مسلمانوں کے گھروں کو گرانے کے لیے حکام کو ہدایت دی گئی ہے ۔ شہر لکھنؤ میں مسلمانوں کے اندر خوف کا ماحول پیدا ہوگیا ہے ۔ یوگی حکومت نے سیاسی انتقام لیتے ہوئے ایک تازہ کارروائی کی ۔ سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اعظم خاں ، ان کے فرزند اور اہلیہ کو نشانہ بنانے کے بعد ایک اور سماج وادی پارٹی کے سابق رکن پارلیمنٹ عتیق احمد کے قریبی ساتھی آصف درانی کے مکان کو منہدم کردیا گیا ہے ۔ الہ آباد میں عتیق احمد اور ان کے رشتہ داروں اور قریبی افراد کے مکانوں کو زمین دوز کرنے کی کارروائی گذشتہ 6 ماہ سے جاری ہے ۔ الہ آباد میں یوگی حکومت نے اب تک 48 مکانوں کو منہدم کیا ہے ۔ آصف درانی کے کریلی کالونی میں واقع رہائش گاہ کو جے سی بی مشینوں کے ذریعہ منہدم کردیا گیا ۔ الہ آباد ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے اعلیٰ عہدیداروں نے 400 مربع گز پر تعمیر مکان کی مالیت 4 کروڑ سے زیادہ بتائی ہے ۔ آصف درانی پر شہر کے پولیس اسٹیشنوں میں کئی مقدمات درج ہیں ۔ گاؤ کشی کے معاملوں اور گائے کی اسمگلنگ کے سنگین دفعات عائد کرتے ہوئے ان پر مقدمہ چلایا جارہا ہے ۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے آصف درانی کی گرفتاری پر روک لگائی تھی ۔ جسٹس انیل کمار نے پولیس کو حکم دیا تھا کہ ان کے خلاف کیسوں کی جانچ مکمل ہونے تک آصف درانی کو گرفتار نہ کیا جائے ۔ اس کے بعد یوگی حکومت سیاسی انتقام لینے کے لیے مسلم تاجروں اور دیگر مسلمانوں کے مکانات کو گرانا شروع کردیا ہے ۔۔


اپنی رائے یہاں لکھیں