یو پی ایس سی سول سروسز میں مسلمانوں کا پچھلے 10 سالوں میں بدترین ریزلٹ ، صرف 25 امیدوار کامیاب

0 19

یو پی ایس سی (یونین پبلک سروس کمیشن) کے ذریعہ جاری سول سروسز 2021 کے نتائج میں صرف 25 مسلم امیدواروں نے کامیابی درج کی ہے۔ افسوسناک یہ ہے کہ کوئی بھی مسلم امیدوار سر فہرست 100 کامیاب امیدواروں میں شامل نہیں ہے۔

سول سروسز 2021 کے امتحانات میں مسلم امیدواروں کی کارکردگی کا اگر پچھلے 10 سالوں میں ان کے نتائج سے موازنہ کیا جائے تو اس سال کے نتیجے سب سے خراب ہیں۔ گزشتہ 10 سالوں میں مسلم امیدواروں کی سب سے بہترین کارکردگی 2016 میں دیکھنے کو ملی تھی جب 52 امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔

2017 میں 50 امیدوار کامیاب ہوئے، اور پھر 2018 (27)، 2019 (42) اور 2020 (31) میں کارکردگی پھر مایوس کن رہی۔ لیکن 2021 میں مسلم امیدواروں کے ریزلٹ انتہائی افسوسناک قرار دیا جا سکتا ہے۔

اگر ہم اس خراب کارکردگی کے پیچھے موجود اسباب کو جاننے کی کوشش کریں تو سب سے بڑی وجہ کورونا بحران کو ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ دراصل اقلیتی طبقہ کورونا بحران کے دوران تعلیمی امور میں کافی پیچھے ہو گیا کیونکہ معاشی طور پر کمزور کئی امیدوار اسمارٹ فون، انٹرنیٹ اور دیگر سہولیات سے محرومی کے سبب ٹھیک طرح پڑھائی نہیں کر سکے۔

جو باصلاحیت مسلم امیدوار کسی رہائشی کوچنگ میں یا پھر اقلیتی طبقہ کو یو پی ایس سی کی تیاری کرا رہے کسی ادارے میں تعلیم و رہنمائی حاصل کر رہے تھے، انھیں سخت کووڈ ضابطوں کی وجہ سے کئی مہینے گھروں میں قید رہنا پڑا۔ لاک ڈاؤں میں نرمی کے باوجود تعلیمی سرگرمیاں شروع نہیں ہوئیں اور گھروں میں رہ کر یو پی ایس سی کی تیاری بری طرح متاثر ہوئی۔

بہرحال، اگر اس بار یو پی ایس سی میں کامیاب مسلم امیدواروں کی کارکردگی پر ایک نظر ڈالیں تو یہ دیکھنا حیرت انگیز ہے کہ پہلا نام 109ویں مقام پر دکھائی دیتا ہے۔ اریبا نعمان نے یہ مقام حاصل کیا ہے، یعنی انھوں نے یو پی ایس سی میں کامیاب مسلم امیدواروں میں ٹاپ کیا ہے۔ آل انڈیا 1 رینک حاصل کرنے والی شروتی شرما کی طرح ہی اریبا نے بھی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے رہائشی کوچنگ اکادمی میں یو پی ایس سی کی تیاری کی۔ کامیاب مسلم امیدواروں میں دوسرا مقام محمد صبور خان (125) اور تیسرا مقام سید مصطفی ہاشمی (162) نے حاصل کیا۔ سبھی کامیاب مسلم امیدواروں کے نام ذیل میں دیے جا رہے ہیں:

اریبا نعمان (109)

محمد صبور خان (125)

سید مصطفی ہاشمی (162)

عفنان عبدالصمد (274)

ارشد محمد (276)

محمد ثاقب عالم (279)

اسرار احمد کچلو (287)

عاشق علی پی آئی (305)

محمد عبدالر‎‎ؤف شائق (309)

نازش عمر انصاری (344)

فیصل خان (364)

شمائلہ چودھری (368)

مہوش عبدالکریم (386)

محمد قمرالدین خان (414)

محمد شبیر (419)

فیصل رضا (441)

معصوم رضا خان (457)

آصف اے (464)

مسکان ڈاگر (474)

تحسین بانو داؤدی (482)

شیخ محمد زیب ذاکر (496)

محمد صدیق شریف (516)

محمد شوکت عظیم (545)

حسنی مبارک (575)

انور حسین (600)

واضح رہے کہ یونین پبلک سروس کمیشن نے 30 مئی کو سول سروسز امتحان 2021 کے حتمی نتائج کا اعلان کیا۔ اس بار شروتی شرما ٹاپر کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ انکیتا اگروال دوسرے اور گامنی سنگلا تیسرے مقام پر رہیں۔ جاری ریزلٹ میں خواتین امیدواروں نے سرفہرست تینوں مقامات پر قبضہ کر لیا ہے۔ حتمی نتیجہ ابتدائی، مینس اور انٹرویو راؤنڈ کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ اس بار 685 امیدواروں نے اس باوقار امتحان میں کوالیفائی کیا ہے، ان میں سے 244 عام زمرہ (General) سے، 73 معاشی طور پر کمزور طبقوں (EWS) سے، 203 دیگر پسماندہ طبقات (OBC) سے، 105 درج فہرست ذات (SC) سے اور 60 درج فہرست قبائل (ST) سے تعلق رکھتے ہیں۔

کامیاب امیدواروں کو مبارکباد دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ’’ان تمام لوگوں کو مبارکباد جنہوں نے سول سروسز (مین) امتحان 2021 میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ان نوجوانوں کے لیے میری نیک تمنائیں جو ہندوستان کی ترقی کے سفر کے ایک اہم وقت میں اپنے کیریئر کا آغاز کر رہے ہیں، اور اس وقت جب ہم آزادی کا امرت مہوتسو منا رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید لکھا کہ ’’میں ان لوگوں کی مایوسی کو پوری طرح سے سمجھتا ہوں جو سول سروسز کے امتحان میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ یہ باکمال نوجوان ہیں، جو کسی بھی شعبے میں اپنا نام روشن کریں گے اور ہندوستان کا سر فخر سے بلند کریں گے۔ ان کے لیے میری نیک تمنائیں۔‘‘

(رپورٹ: نوازش عالم)