لکھنؤ: حیدرآباد کی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم)، جس نے یوپی انتخابات میں 100 سیٹوں پر امیدوار کھڑے کرنے کا اعلان کیا تھا، ریاست میں کھاتہ کھولنے میں ناکام رہی ہے۔

اے آئی ایم آئی ایم کے سپریمو اور حیدرآباد لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے ایک نیا محاذ شروع کیا تھا، بھگیداری تبدیلی مورچہ، جس میں مسلمانوں، دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) اور دلتوں کے درمیان حمایت کی بنیاد رکھنے والی پارٹیاں شامل ہیں۔

مجلس اتحادالمسلمین نے یو پی اسمبلی انتخابات 2022 میں کل 100 امیدوار میدان میں اتارے تھے جن میں سے 94 سیٹوں کے نتائج ظاہر ہوگئے ہیں اور مجلس ایک بھی سیٹ پر قبضہ کرنے سے ناکام رہی۔

رحجانات کے مطابق مجلس نے اب تک کسی بھی سیٹ پر جیت حاصل نہیں کر پائی ہے۔ اگر ووٹنگ میں حصہ داری کی بات کی جائے تو دوپہر تک پوری ریاست سے مجلس کو صرف 438579 ووٹ ہی حاصل ہو پائے ہیں جو کہ صرف 0.48 فیصد ہی ہے۔