• 425
    Shares

نواب علی اختر
اترپردیش کے لکھیم پور کھیری میں طاقت اور اقتدار کے گھمنڈ میں کسانوں پر گاڑی دوڑا کر کئی لوگوں کو موت کی نیند سلا دینے والا مرکزی وزیر مملکت کا فرزند آخر کار گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ہفتے کے روز کرائم برانچ کے دفتر میں مجسٹریٹ کے سامنے تقریباً 12 گھنٹے کی پوچھ گچھ کے بعد خوفناک واقعہ کے کلیدی ملزم آشیش مشراعرف مونو کو قتل، حادثے میں موت، مجرمانہ سازش اور لاپرواہی سے گاڑی چلانے جیسی متعدد دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا۔ یہ شائد ہندوستان کی تاریخ کا شاذ و نادر پیش آنے والا واقعہ کہا جاسکتا ہے جب ملک کے عوام کی جان و مال کے تحفظ کے ذمہ دار مرکزی وزیر مملکت کے فرزند نے احتجاج کرنے والے کسانوں کو زندہ روند ڈالا۔

حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ ملک کے کسان ایک سال سے احتجاج کر رہے ہیں لیکن مرکزی حکومت ان کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار نہیں ہے بلکہ اب اس کے وزراء اور ان کے افراد خاندان کسانوں کی زبان بندی کے لیے انہیں روند رہے ہیں اور ایک طرح سے ان کا قتل کیا جا رہا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں کسانوں کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرنے سے روکنے کے لیے طاقت کا بیجا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف اترپردیش حکومت کسانوں کے احتجاج کو دبانے و کچلنے کے لیے نت نئے ہتھکنڈے اختیار کر رہی ہے تو دوسری طرف مرکزی وزیر کے فرزند کسانوں پر گاڑی دوڑاتے ہوئے انہیں موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں۔

کسانوں کی جانب سے اترپردیش کے نائب وزیراعلیٰ اور دوسرے بی جے پی قائدین کے خلاف احتجاج کیا جا رہا تھا اور مرکزی وزیر مملکت اجئے مشرا عرف ٹینی کے فرزند آشیش مشرا عرف مونو نے غصہ اور برہمی کی حالت میں مظاہرین پر گاڑی دوڑا دی جس کے نتیجہ میں چار کسانوں سمیت 8 افراد ہلاک اور کئی دوسرے زخمی ہوگئے۔ یہ واقعہ ہندوستان کی تاریخ کا بدترین واقعہ بھی کہا جاسکتا ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ابھی تک مرکزی وزارت سے اجئے مشرا نے استعفیٰ پیش نہیں کیا ہے۔ اس سے ظاہرہوتا ہے کہ مشرا کو کسانوں یا ملک کے عوام سے ذرہ برابر بھی ہمدردی نہیں ہے۔ اگر انہیں اپنی وزارت کا احساس ہوتا تو اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وہ استعفیٰ دے دیتے۔

اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ وزیر داخلہ امت شاہ نے اس واقعہ پراب تک کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔ امت شاہ کو اس لئے بھی رد عمل کرنا چاہئے کیونکہ ان کے جونئیر وزیر کے فرزند نے کسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے۔ اس سے زیادہ حیرت اس بات پر ہے کہ اس سے پہلے تقریباً ہر معاملے میں قانون کا سہارا لے کرمعاوضہ دینے سے بچنے کی کوشش کرنے والی حکومت نے لکھیم پوری کھیری کے واقعہ کے چند گھنٹے کے اندر ہی مہلوکین کے لیے ایکس گریشیا اور زخمیوں کو امداد دینے کا اعلان کرتے ہوئے ایک طرح سے بری الذمہ ہونے کی کوشش کی، حالانکہ یہ سبھی جانتے ہیں کہ چند ماہ بعد ریاست میں ہونے والے انتخابات کے پیش نظر معاوضہ کا اعلان کیا گیا ہے۔

واقعہ کی شروعات لکھیم پوری کھیری میں اترپردیش کے نائب وزیراعلیٰ کیشو موریہ کی آمد سے ہوتی ہے جب ہیلی پیڈ پر تقریباً پانچ ہزارکسان جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ اچانک تو ہو نہیں سکتا ہے کہ کسی جلسے میں موجود کسان میٹنگ چھوڑ کر ہیلی پیڈ پر پہنچ جاتے ہیں اور قبضہ کرلیتے ہیں۔ یہ خبر لکھنوٗ پہنچ گئی پھر بھی کیشو موریہ نے اپنا پروگرام منسوخ یا تبدیل نہیں کیا۔ کسانوں کی تحریک کے حوالے سے یوگی اور بی جے پی کے مخالف رخ کے باوجود کہیں بھی پولیس کسی چیز کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی نظر نہیں آرہی ہے۔ اس واقعہ میں اپنے والد کے عہدے کے زعم میں کئے گئے مجرمانہ عمل کے ساتھ ساتھ سیاست کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔غیر انسانی واقعہ اور اس کے بعد کی صورتحال پرغور کرنے کے بعد جو نتائج اخذ کئے جا رہے ہیں اس میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ آمنے سامنے نظر آرہے ہیں۔

اس پہلو پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ لکھیم پور کھیری واقعہ کے بعد جب تمام بڑی ہستیوں کو جائے وقوعہ پر جانے سے روکا جا رہا تھا، عین اسی دوران کسان تحریک کے مرکزی کردار نریش ٹکیت بغیر کسی روک ٹوک کے موقع پر پہنچ جاتے ہیں۔ خبر یہ بھی ہے کہ ٹکیت کے رابطہ میں رہنے والے افسران نے ان سے مل کر معاملے کو جلد نپٹانے کی دہائی دی، جس کے بعد حکومت کی طرف سے آناً فاناً معاوضے کا اعلان کر دیا گیا اور رات کے 3 بجے ایف آئی آر درج ہو جانا بھی کئی سوال کھڑے کرتا ہے۔ مبصرین کی مانیں تو ٹکیت نے افسران سے کہا ہوگا کہ مودی اور امت شاہ سے آپ (یوگی) کی ٹھنی ہوئی ہے، اس لئے آپ اس معاملے میں ہیرو بن سکتے ہیں۔

یاد ہوگا کہ اس سے پہلے کئی بار خبریں آئی ہیں کہ مودی اور امت شاہ یوگی کو وزارت اعلیٰ کے عہدے سے ہٹانا چاہتے ہیں جس پر یوگی نے بغاوت کے تیور دکھا دیئے ہیں۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو کئی ماہ سے یوگی اور امت شاہ کے درمیان جاری سرد جنگ اب سطح پر آگئی ہے اور افسران ان کے مہرے بن رہے ہیں۔ یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ مرکز (مودی اور امت شاہ) اور ریاست (یوگی) کے درمیان تلخی پائی جا رہی ہے۔ ان حالات میں یوگی آدتیہ ناتھ لکھیم پور کھیری کے واقعہ کو ایک موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں تبھی تابڑ توڑ معاوضہ، ایف آئی آر اور گرفتاری سامنے آرہی ہے۔ واقعہ کے تقریباً ایک ہفتہ بعد بھی ابھی مکمل طور پر یہ صاف نہیں ہوا ہے کہ واقعہ کا ذمہ دار، قصوروار اور بے قصور کون ہے، یہ طویل قانونی لڑائی کے بعد ہی واضح ہوسکے گا۔

باوجود اس کے بڑی تیزی سے معاوضہ منظور کر دیا گیا جو معمولی بات نہیں ہے۔ پہلے صرف 4 لوگوں کے لیے معاوضہ کا اعلان کیا گیا تھا مگر جب ہائے توبہ مچی تب تین دن بعد باقی لوگوں کو معاوضہ دیا گیا۔ معاوضہ کی پہلی لسٹ میں متوفی بی جے پی کارکن کا نام نہیں تھا، حیرت کی بات ہے کہ بابا یوگی آدتیہ ناتھ متوفی بی جے پی کارکن کو بھول گئے، یہ بھول چوک کا معاملہ کم حساب ’چکتا‘ کرنے کی بات زیادہ سمجھ میں آرہی ہے۔ بہر حال جو بھی ہو امت شاہ اور یوگی کے درمیان جو لڑائی اب تک پردے کے پیچھے چل رہی تھی وہ اب منظرعام پر آگئی ہے اور یوگی آدتیہ ناتھ انتخابات کے پیش نظر اس کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی جگاڑ میں لگ گئے ہیں، یہ بات بی جے پی کو بھی اچھی طرح سمجھ آرہی ہے۔

اس واقعہ سے حکومت میں شامل افراد اور ان کی ذہنیت کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔ ایک طرح سے یہ دہشت گردانہ کارروائی کے مترادف ہی ہے کیونکہ دہشت گرد بھی اسی طرح زندہ انسانوں پر اپنی گاڑیاں دوڑاتے ہوئے دھماکے کرتے ہیں۔ یہاں مرکزی وزیر کے فرزند نے زندہ انسانوں کو اپنے والد کے عہدے کے زعم میں اپنی گاڑی سے روند دیا۔ حکومت نے حالانکہ اس واقعہ کی موجودہ جج کے ذریعہ تحقیقات کا اعلان کر دیا ہے لیکن چونکہ یہ معاملہ انتہائی سنگین نوعیت کا ہے اس لئے اجے مشرا کو چاہئے تھا کہ اخلاقی بنیاد پر مرکزی وزارت سے علیحدہ ہوجاتے۔ ایسے میں وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کلیدی ملزم کے والد کو مرکزی کابینہ سے باہر کرکے کم از کم اب سنجیدہ ہوکر کسانوں کے ساتھ انصاف کریں۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔