یوگا کے شرکیہ اثرات سے امت کو کیسے بچائیں؟ بقلم: محی الدین غازی

485

(بجائے اس کے کہ ہم ہر اکیس جون کو بہت سے مسلمانوں پر دینی بے غیرتی کی تہمتیں لگائیں، ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ملت کو فتنوں سے بچانے اور صورت حال کو بدلنے کی ٹھوس تدبیریں کریں۔)
ابھی حال میں کچھ دینی مدارس کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، جن میں طلبہ کو یوگا کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس پر کافی ہنگامہ ہوا۔ سوشل میڈیا میں ان مدارس کے منتظمین اور اساتذہ پر دینی بے غیرتی کی تہمتیں لگائی گئیں۔
ایسے فتوے بھی سامنے آئے جن کی رو سے ’’اگر کوئی مسلمان’ یوگا‘ یا اس جیسے کفریہ ‘ شرکیہ عمل میں شریک ہو یا اس کی تعریف و تحسین کرے یا نماز جیسی عبادت کے مقابلہ میں اس کو روحانی و جسمانی صحت کا ضامن تصور کرے یا اس کی تعظیم میں کوئی فعل کرے تو وہ شخص دائرہ اسلام سے خارج ہوجائے گا، اس پر تجدید ایمان لازم و ضروری ہوگا اور اگر شادی شدہ ہے تو تجدید نکاح بھی لازم و ضروری ہوگا۔‘‘
خاص بات یہ ہے کہ یوگا کی حرمت کے سلسلے میں تمام تر فتوے سنہ 2014ء کے بعد دیے گئے، جب بی جے پی حکومت نے قانون سازی کے ذریعہ یوگا اور سوریہ نمسکار کو ملک بھر میں نافذ کرنے کی کوشش کی اور سنہ 2015ء میں اقوام متحدہ کے ذریعہ اکیس جون کو عالمی یوگا دن قرار دینے میں کامیابی حاصل کرلی۔ اس سے پہلے یوگاسے خود مسلمانوں کو خاص تنفر نہیں تھا، بعض دین دار لوگ بھی یوگا ورزشوں کو صحت کے لیے مفید سمجھتے اور انھیں کرتے تھے۔ لیکن حکومت کے اقدامات نے ان کے اندر یوگا کے سلسلے میں شدید قسم کے اندیشے پیدا کردیے۔ ہندوستانی مسلمانوں نے یوگا کو فقہی نقطہ نظر سے دیکھنے کے بجائے بجا طور سے تہذیبی سیاست کے نقطہ نظر سے دیکھا اور اس سے پرہیز کو اپنے تہذیبی تحفظ کے لیے ضروری سمجھا۔ یہاں یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ دینی مدارس جو اَب تک یوگا کرنے کے سخت مخالف تھے، ان میں سے بعض اب کیوں اس میں ملوث ہوگئے؟ آیا وہ حکومت کی پالیسیوں کے سامنے خود کو بے بس محسوس کررہے ہی یا شدید قسم کے عدم تحفظ کے احساس سے دوچار ہیں؟
ہم سمجھتے ہیں کہ انھیں اس عمل کو انجام دینے سے پہلے اپنا موقف واضح کرنا چاہیے تھا، آیا وہ یوگا ورزشوں کو جائز سمجھتے ہیں یا مدرسے کے تحفظ کی خاطر اسے حالت اضطرار میں شمار کرتے ہیں۔ دلائل کے ساتھ علمی موقف ظاہر کرنے کے بعد جب کسی عمل کو انجام دیا جاتا ہے تو سوالات اٹھنے اور شکوک و شبہات پھیلنے کے مواقع کم ہوجاتے ہیں۔
اگر یہ بات درست ہے کہ موجودہ حکومت یوگا کے ذریعہ ہندو کلچر کو پورے ملک پر مسلط کرنا چاہتی ہے، تو ہمیں دینی مدارس سے زیادہ تشویش سرکاری ملازمین اور اسکولوں کے اساتذہ و طلبہ کے سلسلے میں ہونی چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دینی مدارس کے طلبہ واساتذہ توحید اور شرک کا فرق سمجھتے ہیں اور وہ ضروری احتیاط کو ملحوظ رکھ سکتے ہیں۔ بڑا مسئلہ ان مسلم طلبہ واساتذہ اور سرکاری و غیر سرکاری ملازمین کا ہےجو اس فرق کو سمجھے بغیر یوگا کرتے ہیں۔ اگر انھیں ضروری رہنمائی نہیں کی گئی تو اندیشہ ہے کہ وہ یوگا سے جڑے شرکیہ اعمال کا ارتکاب بھی کربیٹھیں اور شرکیہ عقائد سے بھی متاثر ہوجائیں۔
جو لوگ یوگا سے مکمل طور پر احتراز کرنے کے قائل ہیں، ان کی یہ بات مضبوط ہے کہ اس دروازے سے شرکیہ ثقافت کو مسلمانوں کے اندر نفوذ کرنے کی راہ ملے گی، اس لیے اس دروازے کو مکمل طور پر بند رکھا جائے۔
لیکن ملک کی موجودہ صورت حال میں اس دروازے کو بند کرنا ممکن نہیں رہا۔ سرکاری آفسوں کے ملازمین ہوں یا سرکاری و غیر سرکاری اسکولوں کے طلبہ واساتذہ، کہیں پر قانونی جبر کی وجہ سےاور کہیں ماحول کے دباؤ میں وہ یوگامیں شریک ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے اگر یہ مطالبہ کیا جائے کہ وہ یوگا میں شریک نہ ہوں تو وہ مطالبہ بے سود ثابت ہوگا۔
ایسے میں اگر کچھ ایسی رہنمائی کی جائے جو انھیں یوگا کے شرکیہ اثرات سے محفوظ رکھ سکے تو امید ہے کہ اس کا فائدہ ہوگا۔
وہ رہنمائی کیا ہو؟ اس پر گفتگو سے پہلے یوگا کے بارے میں یہ جاننا بہرحال ضروری ہے کہ آیا یوگا کے حرام ہونے کے سلسلے میں امت متفق ہے یا یہ اختلافی مسئلہ ہے؟
اگر عالم اسلام کے مختلف اداروں سے جاری ہونے والے فتووں کی روشنی میں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یوگا کے سلسلے میں کچھ باتوں پر اتفاق ہے اور کچھ باتوں میں اختلاف ہے۔
اس بات پر تو سب کا اتفاق ہے کہ یوگا کے دو پہلو ہیں، ایک یہ کہ وہ ورزش ہے اور دوسرے یہ کہ اس میں ہندو مذہب کے کچھ اعمال و عقائد بھی شامل ہیں۔ اس پورے مجموعے کو اختیار کرنا سب کے نزدیک حرام ہے۔
البتہ اگر اس میں سے صرف ورزشوں کو الگ کرکے لے لیا جائے اور مذہبی پہلو سے احتراز کیا جائے، تو علمائے اسلام کے درمیان دو طرح کی رائیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس صورت میں بھی وہ حرام ہی ہے، دوسری رائے یہ ہے کہ اس صورت میں وہ بعض شرطوں کے ساتھ جائز ہے۔
عالم اسلام کا مشہور ترین فتوی پورٹل اسلام ویب کے نام سے ہے، جس میں محققین کی ایک ٹیم اجتماعی تحقیق کے بعد فتوی جاری کرتی ہے، اس کا فتوی یہ ہے کہ اگر یوگا میں سے شرکیہ کلمات اور سوریہ نمسکار کو الگ کردیا جائے، تو پھر درج ذیل دو چیزوں کی رعایت کے ساتھ اسے کرنے میں کوئی مانع نہیں ہے:
پہلی چیز یہ کہ یوگا کے آسنوں کی ترتیب بدل دی جائے اور اس میں کچھ نئے آسن شامل کردیے جائیں تاکہ مشابہت نہیں رہے۔
دوسری چیز یہ کہ اسے ان اوقات میں نہیں کیا جائے جن میں کرنے کا ہندو التزام کرتے ہیں، جیسے سورج نکلنے کا وقت۔
نیز ان ورزشوں کو کرتے ہوئے اللہ کا ذکر کرنے اور حمد وتسبیح کے الفاظ ادا کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ (اسلام ویب، فتوی نمبر 1043، فتوی نمبر 316831)
برصغیر کے مشہور ادارے جامعہ دار العلوم کراچی کا فتوی بھی کچھ شرطوں کے ساتھ جواز کا ہے۔
اسلام آن لائن دینی رہنمائی کا عالمی سطح کا پورٹل ہے، اس کی رہنمائی درج ذیل ہے:
’’جس نے یوگا کیا اس طور سےکہ وہ عقیدے کا حصہ ہے، اور اس سے روح و نفس کا ارتقا ہوتا ہے، جیسا کہ ہندو عقیدے میں ہے، تو اس کے لیے یوگا کرنا حرام ہے۔ البتہ جس نے یوگا کو عقیدے کے کسی دخل کے بغیر خالص ورزش کی نیت سے کیا، تو اس کا یہ کرنا جائز ہوگا۔ اس فتوے کی بنا جمہور فقہا کا یہ اصول ہے کہ تمام چیزیں حلال ہیں جب تک کہ حرمت کی نص نہ آجائے، اور یہ اصول بھی کہ انسان کے عمل کا اعتبار اس کی نیت کے مطابق ہوگا، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: اعمال کا دارو مدار نیت پر ہے۔‘‘
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ جواز کے یہ فتوے مجبوری کی حالت کے لیے نہیں ہیں، بلکہ ان لوگوں کے لیے ہیں جو یوگا کو صحت بخش اور مفید ورزش کے طور پر کرنا چاہتے ہیں۔
یہاں یہ بات سامنے رہنی چاہیے کہ مسلم ملکوں میں یوگا کرنے کے وہ تہذیبی اثرات نہیں ہوسکتے ہیں، جو ہندوستان جیسے ملک میں کرنے سے ہوسکتے ہیں۔ خاص طور سے جب کہ وہ ہندتو تحریک کے ایجنڈے کا خاص حصہ ہو۔
اور اسی لیے ملت کے ان تمام افراد کے سلسلے میں فکر مند ہونا اور ان کی دینی سلامتی کی تدبیریں سوچنا ضروری ہے، جو کسی بھی وجہ سے یوگا کرنے کے لیے خود کو مجبور پاتے ہیں۔
ایک تدبیر یہ ہوسکتی ہے کہ یوگا سے جوشرکیہ عقائد وابستہ ہیں انھیں مسلمانوں کے سامنے مدلل طریقے سے واضح کیا جائے تاکہ یوگا کرتے ہوئے مسلمانوں کو ان شرکیہ عقائد کا علم رہے اور وہ اپنے دل و دماغ کو ان عقائد و تصورات سے محفوظ رکھ سکیں۔
مسلمانوں کے اندر توحید و شرک کا صحیح شعور عام کیا جائے۔ ان کے دلوں میں شرک سے بیزاری اور توحید سے محبت پیدا کی جائے۔
اگر کوئی مسلمان یوگا ورزشیں کرنے سے پہلے سوچ سمجھ کر کلمہ شہادت پڑھتا اور یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لایق نہیں، تو گویا وہ یوگا ورزشوں سے وابستہ شرکیہ تصورات سے شعوری طور سے براءت کا اعلان کرتا ہے۔
یاد رہے کہ ملک کی موجودہ صورت حال میں ہم اسے کافی نہیں سمجھتے کہ مسلمان یوگا کے عقائد والے حصے کو ترک کرکے ورزشوں والے حصے کو اختیار کرلیں، بلکہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان ورزشوں کو کرتے ہوئے بھی شعوری طور سے شرک سے بیزاری کو محسوس کریں۔ یوگا کرتے ہوئے ان کے دل شرک سے پاک ہوں اور ان کی زبان پر توحید کے نغمے جاری ہوں۔
ملک کے موجودہ حالات اور ملت کی موجودہ صورت حال میں یہ فتوی دینا آسان ہے کہ یوگا حرام ہے۔ لیکن اس وقت ملت کو ایسے فتوے سے زیادہ اس کے حرام عنصر سے بچانے کی ضرورت ہے۔
ہم ملت کے لاکھوں افراد کو یوگا کرنے سے نہیں روک سکتے ہیں، لیکن یوگا کے شرکیہ اثرات سے بچانے کی ٹھوس تدبیریں تو کرہی سکتے ہیں۔ خطبات جمعہ سے لے کر سوشل میڈیا تک اس کے لیے بہت سے کار آمد پلیٹ فارم مسلمانوں کے پاس موجود ہیں۔
دوسری طرف یہ بھی ضروری ہے کہ مسلمان ملک میں یہ رائے عامہ بنائیں کہ کسی ایک کلچر کو تمام لوگوں پر مسلط کرنا ملک کے حق میں کسی طرح درست نہیں ہے۔ اس رویے سے فرقہ وارانہ منافرت بڑھے گی اور خود اس خاص کلچر سے نفرت بڑھے گی جسے بزور قانون مسلط کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
بجائے اس کے کہ ہم ہر اکیس جون کو بہت سے مسلمانوں پر دینی بے غیرتی کی تہمتیں لگائیں، ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ملت کو فتنوں سے بچانے اور صورت حال کو بدلنے کی ٹھوس تدبیریں کریں۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔ (بشکریہ ہفت روزہ دعوت 30 جون، 2022)