یوکرین میں یورپ کے سب سے بڑے جوہری پلانٹ میں لڑائی رک گئی ہے اور فائر فائٹرز عمارت میں داخل ہو کر آگ پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے جوہری پلانٹ پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ‘فوری طور پر انھیں بند کرنے’ کا مطالبہ کیا ہے۔

یوکرین میں روسی مداخلت کو ایک ہفتے سے زیادہ وقت گزر چکا ہے اور اہم شہروں پر افواج کے حملے بڑھ رہے ہیںیوکرین کے 10 لاکھ سے زیادہ شہری ملک چھوڑ چکے ہیں اور اطلاعات کے مطابق اس مداخلت کے بعد سے سینکڑوں شہری ہلاک بھی ہوئے ہیں

روسی افواج نے جنوبی شہر خیرسون پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ روسی قبضے میں آنے والا پہلا بڑا شہر ہے
اگر روسی دستے مزید جنوبی شہروں پر قبضہ کر لیتے ہیں تو یوکرینی افواج کے لیے سمندری راستہ بند ہوسکتا ہےروسی سرحد کے قریب واقع ساحلی شہر ماریوپل میں شدید شیلنگ کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات درپیش ہیںدارالحکومت کیئو اب بھی یوکرینی حکومت کے کنٹرول میں ہے تاہم اس کی جانب ایک بڑے روسی فوجی قافلے کی پیش قدمی جاری ہے

روسی صدر ولادیمیر پوتن کے وزیر خارجہ نے متنبہ کیا ہے کہ تیسری عالمی جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال ہوسکتے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ روسی اس بارے میں نہیں سوچ رہے