مودی حکومت کے 4 وزرء یوکرین سے ملحق ممالک میں موجود ہیں اور ہندوستانی طلبا کو واپس بھیجنے کے لیے مبینہ طور پر انتظام کر رہے ہیں۔ اس دوران ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں مرکزی وزیر برائے شہری ہوابازی جیوترادتیہ سندھیا ہندوستانی طلبا سے بات کر رہے ہیں۔ لیکن اسی دوران وہاں موجود رومانیہ کے میئر انھیں ٹوکتے ہوئے یاد دلاتے ہیں کہ ان طلبا کے رہنے اور کھانے کا انتظام ہم نے کیا ہے، آپ نے نہیں۔ آپ صرف اپنی بات کیجیے۔ اس پر سندھیا تھوڑا سبکی محسوس کرتے ہیں اور پھر چڑچڑا کر بولتے ہیں کہ ’’میں کیا بولوں گا یہ میں طے کروں گا۔‘‘ اس جواب پر میئر پھر بولتے ہیں کہ ’’آپ اپنی بات کیجیے۔‘‘ رومانیہ کے میئر کی بات پر ہندوستانی طلبا تالی بجا کر ان کی بات کی تصدیق بھی کرتے ہیں۔اس بات چیت کے دوران سندھیا تھوڑا عجیب محسوس کرتے ہیں، اور پھر اپنی جھینپ مٹانے کے لیے آخر میں کہتے ہیں ’’میں آن ریکارڈ رومانیہ کے افسران کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے طلبا کی مدد کی۔‘‘ اس ویڈیو پر لوگ طرح طرح کے تبصرے کر رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا ہے کہ جس طرح سندھیا نے تکبر میں رومانیہ کے افسر سے بات کی ہے، اس سے بچوں کو آگے مدد ملنے میں تکلیف ہو سکتی ہے۔

اس بات چیت کے دوران سندھیا تھوڑا عجیب محسوس کرتے ہیں، اور پھر اپنی جھینپ مٹانے کے لیے آخر میں کہتے ہیں ’’میں آن ریکارڈ رومانیہ کے افسران کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے طلبا کی مدد کی۔‘‘ اس ویڈیو پر لوگ طرح طرح کے تبصرے کر رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا ہے کہ جس طرح سندھیا نے تکبر میں رومانیہ کے افسر سے بات کی ہے، اس سے بچوں کو آگے مدد ملنے میں تکلیف ہو سکتی ہے۔

اس درمیان نیوز چینل این ڈی ٹی وی نے ہندوستان لوٹے طلبا سے بات کی۔ ایک طالبہ نے بتایا کہ سرحد پار کرنے کے بعد تو وہ ہندوستان آنے کی کوئی بھی فلائٹ خود ہی پکڑ سکتے ہیں۔ اس طالبہ نے کہا کہ ہندوستان جانے کا ٹکٹ تو محض 30 ہزار کا ہے، اگر ہمارے والدین لاکھوں روپے خرچ کر پڑھنے کو بھیج سکتے ہیں تو اس ٹکٹ کا خرچ بھی اٹھا لیتے۔ اس نے کہا کہ اگر ہمیں جنگی علاقے سے نکالنے میں مدد ملتی تو کوئی بات تھی۔دوسری طرف کانگریس لیڈر رندیپ سنگھ سرجے والا نے بھی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یوکرین سے لوٹے طلبا ہی بی جے پی حکومت کی پی آر مشینری کی قلعی کھول رہے ہیں۔ ویڈیو میں ایک ہندوستانی طالب علم کہہ رہا ہے کہ ’’اب وزیر ہمیں پھول دے رہے ہیں۔ لیکن جب ضرورت تھی تو حکومت نے مدد نہیں کی۔ اگر صحیح سے مدد کی ہوتی تو اب پھول دینے کی نمائش کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔‘‘