نئی دہلی :کموڈیٹی کی اونچی قیمتوں کے ساتھ ساتھ ایکویٹی بازار میں غیر ملکی فنڈوں کے نتائج نے ہندوستانی روپے کو امریکی ڈالر کے مقابلے ایک نئے ریکارڈ ذیلی سطح پر پہنچا دیا۔ روس-یوکرین جنگ سے پیدا دیگر چیزوں کے ساتھ خام تیل کی بڑھتی قیمتوں نے روپے پر کمزور دباؤ بنائے رکھا۔یوکرین بحران نے پیر کو برینٹ خام تیل کی قیمت کو 130 ڈالر فی بیرل پر دھکیل دیا۔ اس کے علاوہ روس-یوکرین جنگ نے ہندوستانی ایکویٹی بازار میں ایف آئی آئی کی فروخت میں تیزی لائی ہے۔ نتیجتاً ہندوستانی روپیہ پیر کے روز کاروباری سیشن میں 77.02 ڈالر کے نئے ریکارڈ ذیلی سطح پر پہنچ گیا۔

آئی آئی ایف ایل سیکورٹیز وی پی، ریسرچ، انوج گپتا نے کہا کہ ’’بڑھتی مہنگائی، خام تیل اور کموڈیٹی کی قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ ایکویٹی بازار سے ایف آئی آئی کا آؤٹ فلو روپے کی گراوٹ کا اہم سبب ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہمیں امید ہے کہ یہ 77.50 سے 78 کی سطح کا تجربہ کرے گا۔‘‘کیپٹل وایا گلوبل ریسرچ: لیڈ کموڈیٹیز اینڈ کرنسیز سے منسلک چھتج پروہت کے مطابق ’’ہندوستان کا روایتی طور پر غیر مداخلت والا مرکزی بینک یوکرین جدوجہد کی شروعات کے بعد سے ایشیا کی سب سے خراب کارکردگی کرنے والی کرنسی کے مزید گراوٹ کی اجازت دے سکتا ہے۔ اس امید میں کہ کمزور روپیہ برآمدگی مقابلہ آرائی کو بڑھائے گا اور تیل کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے ممکنہ طور سے بڑھتے فرق میں مدد کریں۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ’’ڈالر کے مقابلے مزید ایک فیصد ٹوٹ گیا ہے اور 76.87 پر کاروبار کر رہا ہے۔‘‘

ایچ ڈی ایف سی سیکوریٹیز کے ریٹیل ریسرچ کے ڈپٹی چیف دیورش وکیل نے کہا کہ ’’خام تیل کی بڑھتی قیمتوں کے سبب اعلیٰ کاروباری خسارے کی بڑھتی فکر پر ہندوستانی روپیہ کمزور ہوا۔ جذبات پر بگڑتے جوکھم کے نتیجہ میں ممکنہ بڑے آئی پی او فنڈ کے ملتوی ہونے کا امکان ہے۔‘‘ ایکویٹی بازاروں میں لگاتار ایف پی آئی بکوالی سے بھی ہندوستانی کرنسی پر دباؤ پڑ رہا ہے۔