لکھنو:(ایجنسیز)اتر پردیش انتخاب کے ختم ہوتے ہی گزشتہ شب نیوز چینلوں اور ایجنسیوں نے اپنے ایگزٹ پول جاری کیے تھے۔ اس میں الگ الگ ایجنسیوں کے ذریعہ اعداد و شمار بھی الگ الگ پیش کیے گئے۔ اتر پردیش کی بات کریں تو تقریباً سبھی ایگزٹ پول میں بی جے پی حکومت تشکیل دیتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ 11 رپورٹوں میں دعویٰ کیا گیا کہ یوپی میں بی جے پی کی حکومت واپسی کر رہی ہے، لیکن ایک رپورٹ ایسی بھی ہے جس میں اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی اتحاد کو مکمل اکثریت مل رہی ہے۔ اس ایگزٹ پول نے جہاں بی جے پی کی دھڑکنیں بڑھا دی ہیں، وہیں اکھلیش یادو اینڈ ٹیم کی امیدوں کو نئی طاقت دی ہے۔ اب مزید ایک سروے سامنے آیا ہے جس میں ریاست میں اقتدار تبدیلی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

4-پی ایم اور دی پالیٹکس ڈاٹ اِن کے سروے کا اندازہ ہے کہ ریاست میں اس مرتبہ اکھلیش یادو حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ سروے کے مطابق سماجوادی پارٹی کو 238 سیٹیں مل سکتی ہیں، وہیں بی جے پی کے اکاؤنٹ میں 157 سیٹیں جائیں گی۔ بی ایس پی کو چھ اور کانگریس کو ایک سیٹ ملنے کا اندازہ ہے۔ دیگر کے حصے میں بھی ایک سیٹ جا سکتی ہے۔ سروے کا اندازہ ہے کہ 2017 کے مقابلے بی جے پی کا ووٹ شیئر بھی گھٹ جائے گا۔ 2017 میں بی جے پی کو 39.67 فیصد ووٹ ملے تھے، جو اس بار گھٹ کر 32 فیصد رہ جائے گا۔ سماجوادی پارٹی کا ووٹ شیئر 21.82 فیصد سے بڑھ کر 41 فیصد تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔

دیش بندھو کے سروے کی بات کریں تو سماجوادی پارٹی کو اس بار 228 سے 244 سیٹیں مل سکتی ہیں۔ بی جے پی کو 134 سے 150 سیٹیں ملنے کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ کانگریس کو ایک سے 9، بی ایس پی کو 10 سے 24 اور دیگر کے حصے میں صفر سے 6 سیٹیں تک جا سکتی ہیں۔بہرحال، سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو ایگزٹ پول سے پہلے ہی دعویٰ کر چکے ہیں کہ ریاست میں سماجوادی پارٹی کی ہی حکومت بن رہی ہے۔ اکھلیش نے کہا کہ ’’عوام اس بار ڈبل انجن حکومت کی پٹریاں اکھاڑنے کے لیے تیار ہے۔ سماجوادی پارٹی اتحاد کو 300 سیٹیں ملنا طے ہے۔‘‘ اکھلیش نے ایک دیگر ٹوئٹ میں کہا کہ ’’ساتویں اور نتیجہ خیز مرحلہ میں سماجوادی پارٹی اتحاد کی جیت کو اکثریت سے بہت آگے لے جانے کے لیے سبھی ووٹروں، خصوصاً نوجوانوں کا بہت بہت شکریہ! ہم حکومت بنا رہے ہیں۔‘‘