نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے آج قوم کے نام خطاب کے دوران تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کر دیا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، زراعت کو بہتر بنانے کے لیے تین قانون لائے گئے۔ تاکہ چھوٹے کسانوں کو زیادہ طاقت ملے۔ برسوں سے یہ مطالبہ ملک کے کسانوں اور ماہرین معاشیات کی طرف سے کیا جا رہا تھا۔ جب یہ قوانین لائے گئے تو پارلیمنٹ میں اس پر بحث ہوئی۔ ملک کے کسانوں اور تنظیموں نے اس کا خیر مقدم کیا، حمایت کی۔ میں سب کا بے حد مشکور ہوں۔

انہوں نے مزید کہا، دوستو! کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہماری حکومت نے یہ قانون ملک کی زرعی دنیا کے مفاد میں، غریبوں اور گاؤں کے مفاد میں مکمل تعاون کرتے ہوئے، نیک نیتی کے ساتھ منظور کئے تھے لیکن ہم کسانوں کے مفاد کے بارے میں اپنے نیک مقاصد کچھ کسانوں کو پوری طرح بیان نہیں کر سکے۔ ہم نے مذاکرات کی کوشش کی۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھی گیا۔ اب ہم نے زرعی قوانین کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی پی ایم مودی نے کسانوں سے اپیل کی، آپ اپنے گھروں کو لوٹیں، کھیتوں میں واپس آئیں، خاندان کے پاس واپس آئیں، ایک نئی شروعات کریں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس موقع پر گرو نانک کی جینتی پر مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ گرونانک جی کے مقدس پرکاش پرو پر میں دنیا بھر کے تمام لوگوں اور ہم وطنوں کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ کئی دہائیوں سے کسانوں کے مسائل کو بہت قریب سے دیکھا اور محسوس کیا ہے۔ ’جب سے مجھے موقع ملا، ہماری حکومت نے ان کی بہتری کے لیے کام کرنا شروع کر دیا۔‘ دریں اثنا، وزیر اعظم مودی نے ڈیڑھ سال کے وقفے کے بعد کرتارپور کوریڈور کے کھلنے پر خوشی کا اظہار کیا۔

واضح رہے ایک سال سے زیادہ مدت سے کسان ان قوانین کو واپس لینے کے لئے احتجاج کر رہے تھے اور اس کو لے کر حکومت کی کسانوں سے کئی دور کی بات چیت بھی ہوئی لیکن ہر دور کی بات چیت بے نتیجہ ہی رہی۔ حکومت کا کہنا تھا کہ قوانین کسانوں کے مفاد میں ہیں جبکہ کسانوں کی رائے اس کے خلاف تھی اور وہ حکومت سے چاہتے تھے کہ ان قوانین کو واپس لے لیا جائے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔