اناؤ: یوپی کے اناؤ میں ایک کھیت سے تین لڑکیاں بیہوشی کی حالت میں برآمد ہوئیں جس کے بعد علاقہ میں ہڑکمپ مچ گیا۔ تینوں لڑکیوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے اور ان میں سے دو کی موت واقع ہو چکی ہے۔ ’اے بی پی نیوز‘ کی خبر کے مطابق بدھ کے روز انناؤ ضلع مین اسوہا علاقہ کے ببورہا گاؤں کی دلت سماج سے تعلق رکھنے والی تین لڑکیاں بیہوشی کی حالت میں ایک کھیت سے برآمد ہوئیں۔ ان میں سے دو لڑکیوں کی موت واقع ہو گئی اور موت کی وجہ پوسٹ مارٹم کے بعد ہی معلوم چلے گی۔ تیسری لڑکی کو علاج کے لیے اسپتال بھیج دیا گیا ہے۔

ادھر، دو بہنوں کی موت کے بعد سماجوادی پارٹی کے ایم ایل سی اور اناؤ سے تعلق رکھنے والے سنیل ساجن نے اتر پردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت پر نشانہ لگاتے ہویے کہا ہے کہ ایک مرتبہ پھر اناؤ کے واقعہ نے پوری ریاست کو شرمسار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش میں جنگل راج ہے اور پسماندہ اور دلت سماج کی بیٹیاں محفوظ نہیں ہیں۔

’اے بی پی نیوز‘ پر شائع خبر کے مطابق اناؤ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ نے بتایا ہے کہ ببورہا گاؤں میں ایک ہی خاندان کی 14، 15 اور16 سال کی تین لڑکیاں سہ پہر تین بجے جانوروں کے لئے چارا لینے گھر سے نکلی تھیں۔ دیر شام تک جب وہ واپس گھر نہیں لوٹیں تو ان کی تلاش شروع ہوئی۔ تلاش میں تینوں گاؤں کے باہر ایک کھیت سے برآمد ہوئیں اور وہ ایک دوپٹہ سے بندھی ہوئی تھیں۔

موقع پر پہنچی پولیس نے تینوں لڑکیوں کو نزدیکی کمیونٹی طبی مرکز میں بھیجا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ دو لڑکیاں انتقال کر گئی ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ تیسری لڑکی کی حالت نازک تھی اور اسے کانپور کے لئے ریفر کر دیا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق بادی النظر لڑکیوں کو زہر دیا گیا ہے، تاہم حقیت پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔