یوپی میں خانگی دینی مدارس کے سروے کی تیاریاں مکمل

182

لکھنو: حکومت اترپردیش خانگی دینی مدارس کا سروے کرانے والی ہے ایسے میں ان مدارس کے ذمہ داراندیشہ مند ہیں کہ مدرسوں کو غیرقانونی قراردے کر ان پر بلڈوزرچلادیاجائے گا۔ ذرائع کے بموجب نئی دہلی میں 6 ستمبر کو جمعیت علمائے ہند کی میٹنگ میں اس اندیشہ کا اظہارکیاگیا۔

جمعیت‘ دیبندی مکتب فکر کے علماء کی بڑی تنظیم ہے۔ ریاستی وزیر دانش آزاد انصاری کا کہنا ہے کہ اندیشہ بے بنیاد ہے۔ صدرجمعیت مولانا ارشدمدنی نے پی ٹی آئی سے کہا کہ حکومت‘ خانگی مدرسوں کا سروے کراناچاہے تو کسی کو بھی اعتراض نہ ہوگا لیکن خیال رکھنا ہوگا کہ اس سے مدرسوں کے داخلی امور میں مداخلت نہ ہو۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن اور شہر لکھنو کے قاضی مولاناخالدرشید فرنگی محلی نے اویسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہرچیز کو سیاسی رنگ نہیں دیناچاہئیے۔ انہوں نے تاہم کہا کہ خانگی مدرسوں کا سروے کرانے سے قبل ریاستی حکومت کو سرکاری ملحقہ مدارس کو مستحکم کرنے کے اقدامات کرنے چاہئیں۔ ایسا ہی سروے ہرسرکاری پرائمری اسکول کا بھی ہوناچاہئیے۔ یوپی میں فی الحال 16461 دینی مدرسے ہیں اور ان میں 560 حکومت کے پاس رجسٹر ہیں جنہیں سرکاری مالی امداد مل رہی ہے۔

سروے ٹیم میں ڈپٹی کشمنر‘ ڈسٹرکٹ بیسک ایجوکیشن آفیسر اور ڈسٹرکٹ مائناریٹی ویلفیرآفیسر شامل ہوں گے۔ سروے 15اکتوبر تک مکمل ہوجائے گا۔ ضلع مجسٹریٹس(کلکٹر) 25اکتوبر تک حکومت کو رپورٹ سونپ دیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ میٹنگ میں طئے پایاکہ مسلم فرقہ کی رائے حکومت کے سامنے رکھی جائے۔ سروے پر گہری نظررکھی جائے۔مستقبل کا لائحہ عمل طئے کرنے 24 ستمبر کو دارالعلوم دیوبند میں اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔قبل ازیں حیدرآباد کے مجلسی رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی اور بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے سروے پر سوال اٹھائے تھے۔ اویسی نے اسے چھوٹا این آرسی کہاتھا۔ یوگی حکومت کے واحد مسلمان وزیردانش آزاد انصاری نے کہاکہ ریاستی حکومت‘ مدرسوں کو قومی دھارا میں لانے کیلئے دیانتداری سے کام کررہی ہے۔