سلطان پور :اتر پردیش کے سلطان پور ضلع پنچایت صدر کا الیکشن اختتام پذیر ہونے کے دو دنوں بعد یعنی پیر کے روز آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم)  نے اپنے 3 ضلع پنچایت اراکین کے خلاف سخت کارروائی کی ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم ضلع صدر نے بی جے پی امیدوار اوشا سنگھ کو ووٹ کرنے کے الزام میں پارٹی حمایت یافتہ تین ضلع پنچایت اراکین کو پارٹی سے نکال دیا ہے۔

دراصل سلطان پور میں کل 44 ڈی ڈی سی جیت کر آئے تھے، جس میں اے آئی ایم آئی ایم کے تین ڈی ڈی سی سمیت پانچ مسلم ڈی ڈی سی جیتے تھے اور پانچوں نے سلطان پور ضلع پنچایت صدر الیکشن میں بی جے پی کے حق میں ووٹ دے دیا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ سلطان پور میں بی جے پی کے پاس محض 3 ڈی ڈی سی تھے اور اسے جیت کے لیے 20 دیگر ڈی ڈی سی کی حمایت کی ضرورت تھی۔ ایسے میں بی جے پی نے پانچ مسلم ڈی ڈی سی، جس میں اے آئی ایم آئی ایم کے تین ڈی ڈی سی، عآپ کے ایک ڈی ڈی سی اور ایک دیگر ڈی ڈی سی کو توڑ کر اپنے حصے میں کر لیا تھا۔ اس کے علاوہ ایس پی اور آزاد ڈی ڈی سی کو ملا کر بی جے پی نے 25 ڈی ڈی سی کی حمایت حاصل کر لی اور پنچایت صدر عہدہ پر قبضہ کر لیا۔

اس پورے معاملے کے سامنے آنے کے بعد پیر کے روز اے آئی ایم آئی ضلع صدر سرفراز احمد نے بتایا کہ پارٹی کے تینوں ضلع پنچایت اراکین کو باہر کا راستہ دکھا دیا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پارٹی سے نکالے جانے کی کارروائی پارٹی کے ریاستی صدر شوکت علی کی ہدایت پر کی گئی ہے۔ ریاستی صدر نے گائیڈ لائن جاری کی تھی کہ غیر بی جے پی امیدوار کو ووٹ کرنا ہے، اس کے باوجود وارڈ نمبر 30 علی گنج سے جیتے ضلع پنچایت رکن نثار احمد، وارڈ نمبر 32 اسلام گنج سے فتحیاب رفعت جہاں اور وارڈ نمبر 34 بنکے پور سے جیتنے والی شہناز بانو نے بی جے پی امیدوار اوشا سنگھ کو ووٹ دے کر پارٹی کے ساتھ سازش کی ہے۔