• 425
    Shares

الہ آباد: الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش غیرقانونی تبدیلی مذہب قانون 2021 کے آئینی جواز کو چیلنج کرنے والی عرضی پر یوگی حکومت کے خلاف نوٹس جاری کیا ہے۔ قائم مقام چیف جسٹس منیشور ناتھ بھنڈاری کی سربراہی والی بنچ نے عرضی کو دیگر زیر التواء درخواستوں کے ساتھ منسلک کر دیا اور اسے تین ہفتوں بعد کے لئے لسٹ کر دیا۔

تبدیلی مذہب قانون کے خلاف پہلے ہی دو مفاد عاملہ کی عرضیاں دائر کی جا چکی ہیں۔ نئی عرضی سمیت تمام درخواستوں پر اب آئندہ تاریخ پر سماعت متوقع ہے۔ یہ عرضی آنند مالویہ نے ایڈوکیٹ شادان فراست اور طلحہ عبدالرحمان کے ذریعے دائر کی تھی۔

عرضی گزار آنند مالویہ ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم ہیں، جنہوں نے حکومت ہند کے قومی نمونہ سروے آفس میں سینئر شماریاتی افسر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں ہیں۔ انہوں نے دلیل دی ہے کہ قانون آئین کے سیکولر کردار کے خلاف ہونے کے ساتھ انتخاب کی آزادی اور مذہب کی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قانون بنیادی طور پر موجودہ آئینی حیثیت کی نفی کرنے کی کوشش کرتا ہے اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو شادی سے پہلے ریاست سے ‘اجازت’ لینے پر مجبور کرتا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ یہ عمل فرقہ واریت کی آگ کو بھڑکانے اور معاشرے کو ذات اور مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی ایک کوشش ہے۔

عرضی گزار نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ بین مذہبی شادی کے معاملات سامنے آنے کے بعد کانپور میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی تھی لیکن ایس آئی ٹی کو ‘لو جہاد’ کی کوئی بڑے پیمانے پر سازش نہیں ملی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس قانون کو گزٹ میں ’لو جہاد‘ کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ اس معاملے سے متعلق دیگر درخواستوں کے ساتھ سماعت 5 اکتوبر کو دوبارہ ہوگی۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔