لکھنو: (ایجنسیز) اتر پردیش میں 27 قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) سیٹوں کے لیے ووٹ شماری کا عمل جاری ہے۔ صوبہ کی 27 سیٹوں پر 95 امیدوار میدان میں ہیں جن میں سے بیشتر سیٹوں پر بی جے پی اور سماجوادی پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس درمیان خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ وارانسی میں بی جے پی امیدوار کو شکست فاش ہاتھ لگی ہے، اور دیوریا-کشی نگر سے سماجوادی پارٹی امیدوار ڈاکٹر کفیل خان کو بھی فتح نصیب نہیں ہوئی۔

وارانسی میں بی جے پی امیدوار ڈاکٹر سداما پٹیل کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی، کیونکہ انھوں نے تیسرا مقام حاصل کیا۔ اس سیٹ پر برجیش سنگھ کی بیوی اناپورنا سنگھ بطور آزاد امیدوار کھڑی ہوئی تھیں اور انھوں نے سب سے زیادہ 4234 ووٹ حاصل کیے۔ دوسرے نمبر پر سماجوادی پارٹی امیدوار امیش یادو رہے جنھیں 345 ووٹ حاصل ہوئے۔ بی جے پی امیدوار ڈاکٹر سداما پٹیل کو محض 170 ووٹ ملے۔دیوریا-کشی نگر سیٹ سے سماجوادی پارٹی امیدوار ڈاکٹر کفیل خان کو بی جے پی امیدوار ڈاکٹر رتن پان سنگھ نے شکست دی۔ شکست کے بعد ڈاکٹر کفیل خان کا رد عمل بھی سامنے آ گیا ہے۔ انھوں نے اپنی شکست کو جمہوریت کی شکست قرار دیا اور کہا کہ ’’جیت کسی کی نہیں ہوئی ہے۔‘‘ ڈاکٹر کفیل نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ یہاں لوگوں کو پیسوں کا لالچ دیا گیا اور پردھان-بی ڈی سی اراکین پر پولیس انتظامیہ نے دباؤ بنایا۔