یوپی الیکشن : 6دسمبر کومتھرامیں فرقہ پرستوں کی شرارت کاڈر!

5

جاوید جمال الدین
اترپردیش میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لیے برسر اقتدار بی جے پی نے کمر کس لی ہے،خود وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں یہ کہاجارہاہے کہ وہ خاص دلچسپی کے رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اسمبلی انتخابات سے پہلے ہی کئی منصوبوں کے لیے شیلانیاس کرچکے ہیں،لیکن اس درمیان حزب اختلاف نے بھی دم خم بتانا شروع کردیا ہے،دوسابق وزرائے اعلیٰ اکھلیش یادو اور شریمتی مایاوتی بھی سیاسی مہم چھیڑچکے۔خصوصی طور پر اکھلیش کے حالیہ کئی انتخابی جلسوں میں جم غفیر دیکھ کر یوگی اور ان کے حواریوں کے ہوش اڑچکے ہیں۔

دوسری طرف ذرائع بتاتے ہیں اور ذرائع ابلاغ کے غیر جانب دار اور کہیں کہیں ان کے ہمنوااور حامی صحافی اور سنگھ پریوار کے اندرونی ذرائع کے مطابق انتخابی سروے کے اعداوشمار ہوش ربا ہیں۔جوکہ بی جے پی کے حق میں بہتر نہیں ہیں ،اس طرح کی اطلاعات نے پارٹی کے کو ترقی کے دعووں کے ساتھ ساتھ اپنی پٹری تبدیل کرنے پر مجبور ہو کرجارحانہ رخ اختیار کرناپڑا ہے،یہ کہنابہتر ہوگاکہ بی جے پی دو کشتیوں پر سوار ہونا چاہتی ہے۔ترقیاتی منصوبوں،تیزرفتار شاہراہوں اور ہوائی اڈوں کی تعمیر کے اعلانات کے ساتھ ساتھ متنازع معاملات کوبھی چھیڑنے کی کوشش کرتی نظر آرہی ہے۔اور اس نے متھرا کی شاہی مسجد عیدگاہ کے قضیہ کو چھیڑدیاہے جس سے پرامن اور بھائی چارہ اور قومی ہم آہنگی کے لیے مشہور متھراشہر میں کشیدگی پھیل گئی ہے،اقلیتی فرقے میں کچھ حد خوف وہراس کے بعد بیداری پیدا ہوئی اور انہوں نے صبر وتحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے نمازظہراور عشاء میں شاہی مسجد عیدگاہ کارخ کیا،اور دوجمعہ سے بڑی تعداد میں مسلمان اورخاص طورپر نوجوانوں نے نماز کی ادائیگی کے لیے مسجدآنا شروع کردیا،یہ کب ہوا ،اس کے بارے میں آگے ذکر کریں گے۔

دراصل ہوایہ کہ پہلے ہندو مہاسبھا متھرا ضلع نے پیر 6دسمبر کوعیدگاہ کے صدر دروازے پر جوکہ ایک شاندار مسجد کی شکل میں ہے،”جل ابھیشیک” کرنے کااعلان کردیا،اس پر طرہ یہ کہ دراصل ایودھیا کے بعد کاشی اور متھرا کو لے کر ان ہندو تنظیموں کے ساتھ ہی اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ متھراعیدگاہ پربار بار اپنےبیانات دہرارہے ہیں،اس سے معاملہ سنگین ہوتا نظر آ رہا ہے۔انہوں نے یہ بیان داغ دیاکہ دراصل ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا راستہ صاف ہونے کے بعد اب کاشی-متھرامیں بھی آسانی پیداہو۔
کیشو پرساد موریہ نے یکم دسمبر کو نائب وزیر اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ "ایودھیا، کاشی میں بھویہ مندر کی تعمیر جاری ہے،اب متھراکی تیاری ہے۔ اس طرح کے بیانات کے بعد حساسیت کو دیکھتے ہوئے متھرا میں مسجد کے قریب حفاظتی انتظامات میں اضافہ کردیا گیاہے۔ کیشو پرساد موریہ نے پہلے بھی کہا تھا کہ” میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا اپوزیشن پارٹیاں متھرا میں شری کرشنا کے شاندار مندر کی تعمیر کی مخالفت کرتی ہیں یا حمایت کرتی ہیں۔ اکھلیش کا کہنا ہے کہ میں کرشن کا بھکت ہوں، رام کا بھکت ہوں، تو بتائیں کہ وہ کرشن کی جائے پیدائش پر مندر بنانا چاہتے ہیں یا نہیں۔”سن متنازع بیانات نے جلتی پر تیل کاکام کیا اورپہلے ہی مقامی ہندو مہاسبھا نے بھی 6دسمبرکو” جل ابھیشیک "کرنے کابیان دے دیاتھا،یوپی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی یہ جارحانہ بیان دیاہے کہ اب ہندوؤں کو اپنے مقدس مقامات کے لیے لڑنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

خیراس پہلے ہی مسلمان جوکہ اجودھیا میں دھوکہ کھا کے ہیں،بیدار ہوگئے،کوئی خفیہ میٹنگ نہیں ہوئی اور نہ چوک میں جمع ہوئے ،بلکہ متنازع بیانات جوکہ سوشل۔میڈیا کو رونق بخش رہے تھے،انہوں نے اس بیداری میں اہم رول ادا کیا۔اس لیے بروزجمعہ 26نومبر کومتھراشہر اورقرب وجوار کے مسلمان نماز جمعہ کے لیے ہزاروں کی تعداد میں امڈ پڑے،تب انتظامیہ اور پولیس کی آنکھیں کھلیں،اورآنافاناہندومہاسبھا کی جل ابھیشیک کی درخواست کو خارج کیا گیا اور سلامتی کے اقدامات پر توجہ دی گئی۔ہفتے پولیس جگہ جگہ محلے محلے گھوم کر مسلم ذمہ داروں کی میٹنگ طلب کی اور ساری طاقت اس پر لگادی کہ جمعہ 3دسمبر کو بڑی تعداد میں مسلمان شاہی عیدگاہ مسجد نہ پہنچیں،پولیس نے مساجد سے اعلانات کروائے کہ مسلمان محلے کی مساجد میں ہی نماز جمعہ اداکریں۔بدھ کوپولیس نے حساس علاقوں میں فلیگ مارچ کیا،لیکن ان شرپسندوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جنہوں نے شہر کے امن کو غارت کرنے کا بیڑہ اٹھایا اور عیدگاہ کے صدر دروازے پر ابھیشیک کی اجازت نہ ملنے بعد بھی تنظیم کی خاتون عہدیدار بڑی ڈھٹائی سے گلی گلی محلے محلے ابھیشیک کرنے کے لیے لوگوں کو اکسا رہی ہیں اور پولیس نے مبینہ طور پر مسلمانوں پر دباؤ بنائے رکھا،

جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے لیے آنے والے مصلیوں کی سخت چیکنگ کی گئی اور ان سے آدھار کارڈ بطور شناخت پیش کرنے کے لیے کہاگیااورعیدگاہ مسجد میں جانے کی اجازت دی گئی۔ احتیاط کے طور پر مسجد کے باہر پی اے سی کی 10بٹالین تعینات کی گئیں ۔اکھل بھارتی ہندو مہاسبھا نے 6دسمبر کو متھرا میں شری کرشن جنم بھومی میں جل ابھیشیک کرنے کا جواعلان کیا گیا ہے۔ اس کے پیش نظر پولیس سختی برت رہی ہے۔متصل شری کرشن جنم بھومی کی حفاظت بھی بڑھا دی گی ہے۔واضح رہے کہ اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کے قریب آتے ہیں سیاسی بیان بازی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ سماج وادی پارٹی(ایس پی) سربراہ اکھلیش یادو نے کہا ہے کہ متھرا میں مندر تعمیر کے نئے منتر سے اس بار بی جے پی کی نیا پار نہیں ہوگی۔اکھلیش نے اترپردیش کے نائب وزیر اعلی کیشو پرساد موریہ کے اجودھیا اور کاشی کے بعد اب متھرا میں بھی مندر تعمیر کی تیاری کرنے کے بیان پرپلٹ وار کیاہے، انہوں نے بیان میں کہاہے کہ آئندہ اسمبلی انتخاب میں رتھ یاترا اور نیا انتخابی منتر بی جے پی کی مدد کرنے والے نہیں ہیں۔دراصل عوام اب انہیں جان چکی ہے اورایسا کوئی منتر کام نہیں کرے گاجوکہ فرقوں کو لڑانے اور تقسیم کرنے کے لیے پڑھاجائے۔

متھرا میں فی الحال امن ہے ،لیکن کشیدگی پائی جاتی ہے،اقلیتی فرقے میں ہلکاساخوف قدر بھی ہے،کیونکہ پولیس اور انتظامیہ اپناکام۔کررہے ہیں ،لیکن اس کاکیاکیاجائے کہ اعلیٰ عہدوں پر فائز منتخب نمائندے متنازع بیانات دیتے ہیں،جس کاذکر جاچکاہے کہ جیساکہ نائب وزیر اعلی موریہ نے بدھ کو اپنے ٹوئٹ میں لکھا تھا”اجودھیا۔کاشی میں شاندار مندروں کی تعمیر جاری ہے۔ اب متھرا کی تیاری ہے۔ جئے شری رام،نئے شیو شمبھو، جئے رادھے کرشن”اس کے بعد سے ہی سبھی اپوزیشن پارٹیوں نے انہیں اور بی جے پی کو گھیرنا شروع کردیا ہے۔اس قسم کے بیانات سے فرقہ پرستوں کے حوصلے بلند ہوتے ہیں اور پولیس اور انتظامیہ کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔اس لیے منتخب نمائندوں کواس طرح کے بیانات سے احتراز کرنا چاہیئے،جبکہ متھراکے اقلیتی فرقے نے جس صبر وتحمل کا مظاہرہ کیاہے،وہ قابل ستائش ہے۔انہیں ایک کام آپسی ہم آہنگی اور بھائی چارہ کے لیے بھی کرناچاہیئے۔جوکہ مستقبل کارآمد ثابت ہوگا،ماضی میں متھرامیں ایسی کئی مثالیں پائی جاتی ہیں کہ دونوں فرقوں نے مل جل کرشرارت پسند عناصر کو شکست دی ہے۔ہاں چاک وچوبند بھی رہناہوگا،6،دسمبر 1992کوقوم وملت نے پی وی نرسمہا راؤ پر بھروسہ کیاتھا،لیکن انجام ہم ان گنہگار آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔