رامپور: سیاست کے کھیل بھی نرالے ہیں۔ کون جانتا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کے وعدے اور ارادے کب بدل جائیں۔ ایسا ہی کچھ رامپور ضلع کی چمروّہ اسمبلی سیٹ پر ہوا جہاں کانگریس پارٹی سے جڑے سابق رن اسمبلی یوسف علی یوسف کو کانگریس اعلیٰ کمان نے اپنا امیدوار بنایا تھا، لیکن یو پی میں سماجوادی پارٹی کی ہوا دیکھ کر وہ اس ہوا کے شکار ہو گئے اور کانگریس کو چھوڑ کر سوامی پرساد موریہ کے ساتھ سماج وادی پارٹی سربراہ اکھلیش یادو کے پاس چلے گئے۔ اب یوسف علی سماجوادی پارٹی پر دھوکہ دینے کا الزام عائد کر رہے ہیں کیونکہ چمروہ سیٹ سے سماجوادی پارٹی نے موجودہ رکن اسمبلی نصیر احمد خان کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ اس اعلان کے بعد یوسف علی کے خواب چکناچور ہو گئے اور وہ سمجھ گئے کہ اب وہ گھر کے رہے نہ گھاٹ کے۔

بی ایس پی سے کانگریس میں گئے یوسف سماجوادی پارٹی سربراہ اکھلیش یادو سے ملاقات کو اپنی بڑی غلطی بتا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ واپس اپنے گھر لوٹ آئے ہیں اور کانگریس کے مضبوط سپاہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر انہوں نے اپنی اس غلطی کی معافی بھی پرینکا گاندھی سے مانگی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ایک خط بھی لکھا ہے جس میں وہ اپنی غلطی کا اقرار کانگریس اعلیٰ کمان سے کر رہے ہیں۔ یوسف علی نے سماجوادی پارٹی سربراہ اکھلیش یادو پر سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ مسلم رہنماؤں کو اپنی سیاسی چالوں سے ختم کر رہے ہیں۔ خاص طور سے کانگریس کے بڑے مسلم چہروں کو وہ برداشت نہیں کر رہے ہیں۔ ان کی سیاسی حکمتِ عملی ہے کہ وہ مسلمانوں کو پوری طرح سے پسپا کر دیں،

کیونکہ اگر مسلم رہنما سیاست میں مضبوط رہیں گے تو مسلم عوام کو انہیں اپنا غلام بنانے میں نا کامی ہوگی۔یوسف علی نے کہا کہ مغربی یوپی میں اکھلیش یادو نے مسلم رہنماؤں کے ٹکٹ بڑی تعداد میں کاٹے ہیں۔ یوسف علی کا یہ بھی کہنا ہے کہ کانگریس ہی واحد پارٹی ہے جو ملک کے جمہوری نظام کے تحت سیاست کر رہی ہے۔ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کی رہنمائی میں ہی یہ ملک اور صوبہ ترقی کر سکتا ہے۔ انہیں امید ہے کہ کانگریس پارٹی پھر سے انہیں چمروہ سیٹ سے اپنا امیدوار بنا دے گی۔ حالانکہ پرینکا گاندھی نے کہا تھا کہ جو لوگ پارٹی چھوڑ کر چلے گئے ہیں ان سے ابھی کوئی بات نہیں ہوگی۔ یوسف علی کی سیاسی قسمت کا دار و مدار اس وقت کانگریس اعلیٰ کمان کے ہاتھ میں ہے۔ سماجوادی پارٹی اعلیٰ کمان نے انہیں جس دو راہے پر چھوڑ دیا ہے وہاں سے ان کی سیاست کا خاتمہ نظر آ رہا ہے۔ یوسف علی نے اپنی غلطی کا اعتراف تو کر لیا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ انہیں معافی ملتی ہے یا نہیں۔