• 425
    Shares

لکھنؤ:14ستمبر(یواین آئی) ساڑھے چار سال قبل یوپی کی باغ ڈور سنبھالنے کے بعد یوگی کی قیادت والی یوپی حکومت نے گئو تحفظ اور گئو اسمگلنگ کے خلاف اپنی خصوصی مہم کے تحت یوپی کے 150سلاٹر ہاوس بند کئے ہیں جبکہ 356مویشی مافیا کی نشاندہی کے ساتھ 1823ملزمین کے خلا ف قانونی چارہ جوئی کی ہے۔علاوہ ازیں68اسمگلر کے خلاف یوپی گینگسٹر ایکٹ اور اینٹی سوشل سرگرمی ایکٹ کے تحت کاروائی کرتے ہوئے 18کروڑ روپئے کی پراپرٹی ضبط کی ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ یوپی میں گئو اسمگلنگ اور گئو تحفظ ہمیشہ سے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے اور گائے کے نام پرریاست میں مختلف قسم کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جس میں یوگی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد مبینہ گئومحافظوں کےذریعہ ہجومی تشدد اور گئو کشی کے نام پر پولیس کی کاروائی سب سے عام بات ہے۔

آفیشیل ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سماج وادی اقتدار میں مبینہ گئو اسمگلنگ کے معاملات اپنے شباب پر تھے۔سماج وادی اقتدار میں سلاٹر ہاوس کی ریگولیشن اور اس کی دیکھ بھال کو مکمل طور سے نظر انداز کردیا گیا تھا۔اس دوران قواعد و ضوابط کی پابندی کو یقینی بنائے بغیر سلاٹر ہاوس کھولنے کی خواہش رکھنے والے ہر شخص کو اجازت فراہم کر دی گئی تھی ۔تاہم چیزیں تبدیل ہونا اور سلاٹر ہاوس چلانے والوں کو دقتوں کا سامان اس وقت کرنا پڑا جب سال 2017 میں اقتدار کی تبدیلی ہوئی اور وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے یوپی کی باغ ڈور سنبھالی۔یوگی نے حلف لینے کے فورا بعد اس ضمن میں مرکزکی گائیڈلائنس اور سپریم کورٹ کے آرڈر کو سختی سے نافذ کرنے کی ہدایات جاری کیں۔

محکمہ شہری ترقیات کے مطابق یوپی میں کے مختلف اضلاع میں قواعد و ضوابط کی پابندی نہ کرنے کے پاداش میں 150ایسے سلاٹر ہاوس بند کئے گئے ہیں جہاں ایک محتاط اندازے کے مطابق 300سے 500مویشی یومیہ ذبح کئے جاتے تھے ۔آفیشل اعداد کے مطابق اس وقت میعار کے مطابق اترنے والے صرف 35 سلاٹر ہاوس ریاست میں چل رہے ہیں۔
محکمہ پولیس کے تازی ترین ڈاٹا کے مطابق گذشتہ ساڑھے چار سالوں میں گئو اسمگلنگ کے الزام میں 319افراد کو گرفتار کیا ہے۔جبکہ 2افراد کی پراپرٹی سیز کی گئی ہے اور 14کے خلاف نیشنل سیکورٹی ایکٹ کے تحت کاروائی کی گئی ہے۔280ملزمین کے خلاف گینگسٹر ایکٹ کے تحت اور 114کے خلاف غنڈہ ایکٹ کے تحت کاروائی کی گئی ہےجبکہ 156افراد کی ہشٹری شیٹ دوبارہ کھولی گئی ہے۔
وزیر اعلی یوگی نے بے سہارا گایوں کے لیے ’ایک نئی گائے گود‘کی اسکیم کی شروعات کی تاکہ کسانوں کو آوارہ مویشیوں کو پالنے اور ان کی پرورش کرنے کے لئے آگے آنے کی ترغیب دی جائےسکے۔ اس اسکیم کے تحت کسانوں اور مویشی کے مالکوں کو آوارہ مویشیوں کی دیکھ بھال کے لئے 900روپئے فی ماہ کا الاونس دیا جاتا ہے۔شہری ترقیات محکمہ کے مطابق 83203گایوں کو43168افراد کو دیا جاچکا ہے۔اس سال جولائی کے ماہ تک ریاست میں دیہی اور شہری علاقوں میں 5278پرماننٹ گئو شیلٹر ہاوس بنائے جاچکے ہیں جس میں 586793گائیں رہتی ہیں۔
وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے حکومت سلاٹر ہاوس کی حالت میں بہتری کے لئے میونسپل باڈیز ایکٹ میں ترمیم کیا ہے۔سال 2018 میں اس ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے ریاستی حکومت نے حکومتی سلاٹرہاوسوں کو بنانے اور اسے چلانے کی ذمہ داری سے میونسپل باڈیز کو آزاد کردیا۔یہ قدم حکومتی سلاٹر ہاوسوں کو درپیش مسائل کو حل کرنے اور اس کی حالت میں بہتری کے لئے اٹھایا گیا۔
اس ترمیم کے بعد کوئی بھی شخص محکمہ شہری ترقیات کی ریاستی سطح کی کمیٹی سے اجاز ت لے کر سلاٹر ہاوس چلا سکتا ہے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔