غازی پور:(ایجنسیز)اتر پردیش میں اسمبلی انتخاب ختم ہوتے ہی وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے دعووں اور وعدوں کی ہوا نکلنے لگی ہے۔ پوری ریاست میں جس نظامِ قانون کے دم پر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے عوام سے ووٹ مانگے تھے۔ اب اس نظامِ قانون پر سنگین سوال کھڑے ہونے لگے ہیں۔ اتر پردیش کے غازی پور کے جمانیا اسمبلی حلقہ میں مبینہ چست درست نظامِ قانون کا شورش پسندوں نے اتوار کی شب کو سرعام مذاق اڑایا اور خوب ہنگامہ برپا کیا۔

الزام ہے کہ دلدار نگر تھانہ حلقہ کے رکسہاں شریف گاؤں میں ایک مزار پر عرس کے دوران کچھ شرپسند گھس گئے۔ مزار شریف کے احاطہ میں یہ شورش پسند نشہ خوری کر رہے تھے۔ الزام ہے کہ اس دوران عرس میں موجود خواتین کے ساتھ وہ چھیڑخانی کرنے لگے۔ جیسے ہی انتظامیہ سے جڑے ایک شخص نے یہ دیکھا تو انھوں نے منع کیا۔ اس دوران شر پسندوں نے انتظامیہ سے جڑے اس شخص کو ہی بری طرح سے پیٹ دیا، جس کے بعد زخمی شخص کو سنگین حالت میں غازی پور ریفر کرنا پڑا۔


الزام ہے کہ شرپسندوں نے مزار کے کمپاؤنڈ کو چاروں طرف سے گھیر کر جم کر پتھر بازی کی۔ پتھراؤ کے دوران مزار احاطہ میں لوگ جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگتے دیکھے گئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ مزار احاطہ میں موجود خواتین اور بچوں کو بھی چوٹیں آئیں۔ پتھراؤ میں چار لوگ سنگین طور سے زخمی ہو گئے۔ مجموعی طور پر آٹھ سے زیادہ لوگ زخمی بتائے جا رہے ہیں۔ عرس میں ملک کے الگ الگ حصوں سے لوگ یہاں آئے ہوئے تھے۔ زخمیوں میں باہر کے لوگ بھی شامل ہیں، جو ملک کے دیگر حصوں سے یہاں عرس میں شامل ہونے کے لیے آئے تھے۔واضح رہے کہ واقعہ اتوار کی شب تقریباً 8 بجے کا ہے۔ رات میں ہی ’نوجیون‘ کی ٹیم موقع پر پہنچی اور وہاں پر لوگوں سے بات کی۔ لوگوں نے بتایا کہ پتھر بازی کر رہے شرپسندوں نے مزار میں گھس کر ’جے شری رام‘ کے نعرے بھی لگائے۔ شرپسند اتنے پر ہی خاموش نہیں ہوئے، لوگوں نے بتایا کہ انھوں نے مزار شریف کے کمپاؤنڈ کے باہر کھڑی گاڑیوں میں جم کر توڑ پھوڑ کی۔ توڑ پھوڑ کے دوران گاڑیوں کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ اطلاع ملنے کے بعد دلدار نگر سمیت کئی تھانوں کی پولیس موقع پر پہنچی اور حالات کو قابو میں کیا۔ ساتھ ہی پولیس نے زخمیوں کو اسپتال بھی پہنچایا۔

رکسہا گاؤں کے شکیل خان نے بتایا ’’ہمارے یہاں جلسہ ہو رہا تھا۔ ہر سال یہاں قیامو صوفی دادا کا عرس ہوتا ہے۔ 45 سالوں سے یہاں عرس ہو رہا ہے۔ 45 سالوں میں ایسا واقعہ کبھی ہوا نہیں۔ جو لوگ بھی اس واقعہ کے لیے ذمہ دار ہیں، انھیں بخشا نہیں جائے گا۔ پولیس انتظامیہ کی مدد سے انھیں سزا دلوائی جائے گی۔ جس نے بھی واقعہ کو انجام دیا ہے اسے ہم معاف نہیں کریں گے۔ مزار شریف پر پتھراؤ کیا گیا۔ پورے احاطہ میں پتھراؤ کیا گیا۔ تقریباً 14-12 گاڑیوں کو شرپسندوں نے برباد کر دیا۔ شرپسندوں نے اس کے لیے پہلے سے منصوبہ بنا رکھا تھا۔ انھوں نے یہاں کے ماحول کو خراب کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔‘‘

غور کرنے والی بات یہ ہے کہ اتنے بڑے واقعہ کے باوجود دیر رات ایک بجے تک جائے حادثہ پر کوئی بھی اعلیٰ افسر نہیں پہنچا۔ موقع پر موجود پولیس معاملے میں کچھ بھی آفیشیل طور پر بولنے کو تیار نہیں تھی۔ جب سی او سے فون پر بات کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کا فون نیٹورک ایریا سے باہر بتا رہا تھا۔ پیر کی صبح جب دلدار نگر تھانے کے ایس ایچ او سے اس سلسلے میں بات کی گئی تو انھوں نے کچھ بھی بولنے سے منع کر دیا۔ انھوں نے بس اتنا کہا کہ اتوار کو وہ چھٹی پر تھے۔ ایس ایچ او کملیش پال نے کہا کہ میں جائے حادثہ پر جا رہا ہوں۔ اس کے بعد ہی میں اس واقعہ کے تعلق سے کچھ بول پاؤں گا۔ معاملہ درج کر لیا گیا ہے۔ تقریباً 17 ملزمین نامزد ہیں۔ جائے حادثہ پر فی الحال پولیس فورسز تعینات کی گئی ہے۔