یوپی:بلیک فنگس کا قہر،54مریضوں نے گنوائیں آنکھیں

0

لکھنو:31مئی(یواین آئی) عالمی وبا کورونا وائرس کی خطرناکی سے ابھی عوام کو راحت بھی نہیں ملی ہے کہ نئے مرض بلیک فنگس نے اپنا اثر دکھانا شروع کردیا ہے۔بلیک فنگس کی شناخت کےبعد سے اب تک ریاست میں تقریبا ایک ہزار سے زیادہ مریض اس کی زد میں آچکے ہیں جن میں سے 54 نے اپنی آنکھیں اور 80افراد نے جانیں گنوائیں ہیں۔


ریاست کے مختلف اضلاع سے موصول ہورہی اطلاعات کے مطابق بلیک فنگس کاقہر بڑھتا جارہا ہے لیکن اس کا مکمل علا ج ابھی نادارد ہے۔بڑے شہروں کی حالت تو قدر غنیمت ہے لیکن چھوٹے شہروں میں بلیک فنگس کے مریضوں کو صرف ریفر کرنے کے سوا ڈاکٹروں کے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہے۔اور حالت ہے یہ کہ جب تک ایسے مریض ہائر سنٹر پہنچتے ہیں ان کی حالت بگڑ چکی ہوتی ہے۔


وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے بلیک فنگس کی دوائیوں کی کمی نہ ہونے دینے کی ہدایت کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ ریاست میں نہ تو دوائیوں کی دستیابی کی جانچ کا کوئی نظم نہیں ہے۔اور نہ ہی مریضوں کی مانیٹرنگ کا کوئی سسٹم۔پرائیویٹ اسپتالوں میں بلیک فنگس کے مریض زیر علاج ہیں لیکن محکمہ صحت کے پاس اس کا کوئی ریکارڈنہیں ہے۔
ریاست میں فلیک فنگس کا سب سے زیادہ اثر زدہ ضلع مرادآباد ہے۔یہاں سے موصول اطلاع کے مطابق ابھی تک تقریبا 17مریض بلیک فنگس کے علامات پائے گئے ہیں اور سبھی کی آنکھیں نکالنی پڑی ہیں۔وارانسی میں کل 128مریضوں میں سے 19 کی موت ہوئی ہے جبکہ 14کی آنکھیں نکالنی پڑی ہیں۔یہ اعداد فنگس کے حولناکی کی گواہ ہیں۔


ریاست کے متعدد اضلاع سے بلیک فنگس کے مریضوں کو دوائیں و انجکشن نہ ملنے کی شکایات موصول ہورہی ہیں۔ غازی آباد میں تو ایک مریض کے اندر تینوں فنگس کےعلامات پائے گئے۔لیکن بروقت علاج نہ ملنے کی وجہ سے مریض کو بچایا نہیں جاسکا۔ضلع پیلی بھیت میں 3مریضوں میں فنگس کی تصدیق ہوئی لیکن کسی ایک کو بھی نہیں بچایا جاسکتا۔دوائیوں و انجکشن کی عدم فراہمی کی وجہ سے شاہجہاں پور میں 5مریضوں کو بڑے شہر کے لئے ریفر کردیا گیا۔وہ مریض جب تک ہائیر سنٹر پہنچتے دو مریضوں کی موت ہوگئی۔حیران کن ہے کہ بجنور کے اے ڈی جے راجو پرساد کی موت کا سبب بھی بلیک فنگس کو بتایا جارہا ہے لیکن انتظامیہ نے ا س کی ابھی تصدیق نہیں کی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مسٹرپرساد میں جوعلامات تھے وہ فلیک فنگس کے ہی تھے اور اسی کا علاج چل رہا تھا۔

وہیں دوسری جانب ریاستی حکومت نے بلیک فنگس نے مقابلے کے لئے جو اقدامات کئے ہیں اس کے مطابق لکھنو کے ایس جی پی جی آئی کو بلیک فنگس کے علاج کا نوڈل سنٹر بنایا گیا ہے۔یہاں 13ڈاکٹروں کی ٹیم تعینات کی گئی ہے۔جو ریاست کے دوسرے سنٹروں کے ڈاکٹروں سے رابطہ کر کے یہاں سے دیکھ بھال کررہی ہے۔وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ افسروں کو ہیلپ لائن کے ذریعہ مریضوں سے بات چیت کرنے کے ساتھ علاج کے لئے ضروری انجکشن ایمفوٹیرسن۔بی اور دو دیگر ٹیبلیٹ کی کمی نہ ہونے دینے کا حکم دیا ہے