ناندیڑ: 16 فروری (ورق تازہ نیوز)ادارہ ’ورق تازہ“ اور ادارہ فروغ اردو فورم ناندیڑ کے زیراہتمام آج 16فروری بروز منگل شب ساڑھے آٹھ بجے دفترورق تازہ میں ”یومِ غالب“ کے موقع پر یادِ غالب کے عنوان سے ادبی نشست کاانعقاد عمل میں آیا ۔

معروف شاعر اورادیب ڈاکٹرفہیم احمدصدیقی کی صدارت میں منعقدہ اس نشست میں عبدالملک نظامی‘ علیم اسرار ‘ ڈاکٹرانیس الرحمن‘ڈاکٹرمحمدعبدالرافع ‘ڈاکٹر ارشاداحمدخاں (صدرشعبہ اردو نیتاجی سبھاش چندربوس کالج ) ‘محمدتقی مدیراعلیٰ ‘ محمدنقی شاداب ودیگر اردو احباب نے شرکت کی ۔

ڈاکٹر فہیم احمدصدیقی نے اپنی صدارتی تقریر میں مرزاغالب کی شاعرانہ عظمت پراظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ غالب اردو زبان وادب کابڑا شاعرتھا ۔

انھوں نے کہاکہ غالب نے خود کہاتھا کہ انکی شاعری کو آنیوالے زمانے میں سمجھا اورپڑھاجائے گا۔اس کی قدرو منزلت کی جائے گی۔چنانچہ ان کی وفات کے دیڑھ سو سال بعد دیوان غالب کے دنیا کی تقریبا زبانوں میں ترجمے ہوئے ہیں ۔ ان کی شاعری کے قدردان ارد و والوں کے مقابلے میں غیر اردو داں زیادہ ہیں ۔

محمدتقی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہرسال اردودنیا 15 فروری کے دن کو”یوم غالب“ کے طورپرمناتی ہے ۔ 15فروری 1869ءکودہلی میں غالب نے وفات پائی تھی ۔انھوں نے کہاکہ مجھے غالب کی ذاتی زندگی سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔ میں ان کی فکراورمنفرد شاعرانہ انداز بیان سے بے حد متاثر رہا ہوں ۔ خود غالب نے کہا تھا کہ

ہیں اوربھی دنیا میں سخنور بہت اچھے

کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیان اور

جناب محمدتقی نے کہاکہ غالب اپنی صلاحیتوں ‘ذہانت اور خوبیوں سے واقف تھے ا س لئے کہاکرتے تھے کہ ان کاانداز بیان طرزتحریر سب سے جُدا ہے ۔ہراردو قاری اور طالب علم کو میر‘غالب‘اقبال اورفیض کے کلام کوپڑھنا ضروری ہے۔

محمدتقی نے کہا کہ ان کی ذاتی لائبریری میں ان چاروں قدآور شعراءکے کلام کے دیوان موجود ہیں ۔میں انھیں باربار پڑھتا ہوں پھربھی تشنگی باقی رہتی ہے ۔ خاص کر دیوان غالب کو جتنی بار پڑھئے لطف دوبالا ہوتا ہے اورکلام غالب کے نئے معنی ومفہوم ہوتے جاتے ہیں ۔اردو ادب کے نامور معروف نقاد اور ادیب عبدالرحمن بجنوری کاایک مشہور جملہ ہے۔انھوں نے کہاتھا ۔”ہندوستان کی الہامی کتابیں دو ہیں ۔ ایک مقدس ویداور دوسری” دیوان غالب“ ۔

بجنوری نے دیوان غالب کوالہامی کتاب کادرجہ دیاتھا ۔محمدتقی نے کہا کہ تین سال قبل غالب کی فارسی مثنوی”چراغ دیر“ کاہندی میں ترجمہ ہواتھا ۔ آج ہندی طبقہ میں اسے بڑے ذووشوق سے پڑھاجارہاہے ۔ اس لئے یہ کہاجاسکتا ہے کہ غالب کسی ایک زبان ‘طبقہ یامذہب کاشاعر نہیں تھا بلکہ وہ شاعرانسانیت تھا ۔

پروفیسرجلیل احمد نے مرزا غالب کی شاعری پرگفتگو کرتے ہوئے کہاکہ غالب کی شاعرانہ عظمت کااندازہ پروفیسر رشیداحمد صدیقی کے ذیل کے جملے سے ہوتا ہے ۔انھوں نے کہاتھا کہ’اگر کوئی اُن سے پوچھے کہ مغلیہ سلطنت نے ہندوستان کو کیا دیا ہے تو میں کہوں گا”غالب“ اردو اور تاج محل “ ۔

پروفیسرجلیل کے بعد پربھنی سے پروفیسر نورالامین نے ویڈیو گرافی کے ذریعہ نشست میں حصہ لیا انھوں نے مرزاغالب کے افکار‘خیالات طرز بیان پرمدلل گفتگو کی اور غالب کوموجودہ دور کابھی سب سے بڑاشاعر ودانشور بتایا ۔ پروفیسر ارشاداحمدخاں نے غالب کے خطوط اور خطوط نگاری کے حوالے سے غالب کی شخصیت ‘شاعری اورزندگی کااحاطہ خوبصورت انداز میں کیا ۔ عبدالملک نظامی ‘ڈاکٹرانیس الرحمن نے بھی اپنے خیالات پیش کئے۔ علیم اسرار نے غالب کی بحر میں خوبصورت نظم سناکر خوب داد حاصل کی۔آخر میں سبھی شرکاءنے طئے کیا کہ ہرسال یوم غالب اور یوم اردو کے موقع پرا سطرح کی ادبی نشستیں منعقد کی جائیں گی۔