آواز: عبدالہادی اور محمد یوسف۔ اس ٹریک میں موسیقی کے آلات کا استعمال نہیں کیا گیا ہے جو اسلام میں ممنوع ہے۔ صرف آواز اور ڈف استعمال کیا گیا

ارمانوں کے پھول کھلیں گے ہر شہری مسکا ۓ گا
ہندوستان ہمارا رشک ِجنت پھر کہلائے گا

سرمہ’ چندن’ مٹی اس کی’ آباء کا یہ کہنا تھا
آزادی حا صل کرنے زنجیر کا گہنا پہنا تھا
جان کا نذرانہ دے کر اس گلشن ہی میں رہنا تھا
عشق کا منتر ایسا کوئی جب جب بھی دہرائے گا
ہندوستان ……..

ہندو مسلم سکھ عیسائی رہتے ہیں خوش حال یہاں
ہمت ‘ عزم سے قائم رہتا ہے اپنا اقبال یہاں
کنیا کماری سے کشمیر تلک ہے اک سُر تال یہاں
جو اک بار یہاں آیا’ یاں کا ہو کر رہ جاے گا
ہندوستان……

ہر اک جلوہ نشّہ آور’ نغمہ یہ مستانہ ہے
نور و نصرت کی تاريخوں سے پُر یہ افسانہ ہے
اس دھرتی کا جو دیوانہ ہے بس وہ فرزانہ ہے
مہر وماہ کو حسن سے اپنے صدیوں یہ برمائےگا
ہندوستان…..

عظمتِ گنگا ‘ شوکتِ ہمپی ‘ اور صحرائے تھار کی آن
حسن ِ اجنتا اور ایلورا’ تاج محل کی اپنی شان
ٹیپو’ گاندھی’ نہرو جوہر’لکشمی بای کی یہ جان
دوبارہ سونے کی چڑیا کا قصہ دہراے گا
ہندوستان……

آزادی ‘ جمہور ‘ اخوت کا ایسا انظام رہے
عدل و آئیں کی مئے چھلکے ‘ دستوری وہ جام رہے
طرز ِحکومت ہو وہ مثالی، ہند کا اونچا نام رہے
شاہی ایوانوں کو جشنِ جمہوری للکارے گا
ہندوستان……

پاس ِنبی ہم کو دائم ہو’ حق کا ہم اعلان بنیں
تھام لیں اپنے رب کی رسی’ اور کامل انسان بنیں
دیش ہماری شان ہے اور ہم اپنے دیش کی شان بنیں
دیکھ کے باطل اپنے عزائم ججھکے گا شرمائے گا
ہندوستان..,..

شب کی تحریروں پہ قابض نورانی سی تحریریں
نسلِ نو کے ہاتھ ترقی کی ہیں ایسی تصویریں
کل تک خواب جو دیکھے ان کی حاصل ہونگی تعبیریں
خوش رنگ و سر مست ترنگا ہر سو پھر لہرائے گا
ہندوستان….

تیری عظمت تا بہ ابد ہو ‘ نام ہو تیرا رخشندہ
دہر میں تیرا اوج سلامت ‘ تابندہ اور پائندہ
کیف ِ ماضی تو ہے اور توہی نور ِآئندہ
مٹی سونا اگلے گی اور بادل ہن برسائے گا
ہندوستان……

Artist : Abdul Hadi S.M & Mohammed Yusuf K
Aud & Vid : R S D S ( +91 998 699 1120 )
Poetess : Farzana Farah Mohtesham
Label : R S D S
Special Thanks : Ali Public School Bhatkal – Management & Staff