یوم القدس اور یوم کشمیر پر وادی میں جلوس اور ریلیاں، سرینگر اور کپواڑہ میں جھڑپیں

0 4

سری نگر: وادی کشمیر میں ماہ مبارک رمضان کے آخری جمعہ کو یوم القدس اور یوم کشمیر کے طور پر منایا گیا۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد وادی کی مساجد، خانقاہوں، زیارت گاہوں اور امام باڑوں سے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی اور قبلہ اول کی آزادی کے حق میں ریلیاں نکالی گئیں۔ ان ریلیوں میں شامل لوگوں جنہوں نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینرس اٹھا رکھے تھے، نے قبلہ اول کی آزادی کے لئے مسلم ممالک کے درمیان اتحاد کو ناگزیر قرار دیا۔ ریلیوں کے شرکاء کی جانب سے فلسطین اور کشمیر کے حق میں نعرے بازی کی گئی۔

وادی کشمیر کے علاوہ جموں اور لداخ میں بھی یوم القدس کے موقع پر جلوس بر آمد کئے گئے جن میں لوگوں کے جم غفیر نے شرکت کی اور فلسطین کے حق میں اور اسرائیل کی مخالفت میں جم کر نعرہ بازی کی۔ جمعتہ الوداع کی مقدس تقریب اور یوم القدس کے سلسلے میں سب سے بڑے اجتماعات کشمیر کی مرکزی و تاریخی جامع مسجد سری نگر اور آثار شریف درگاہ حضرت بل میں منعقد ہوئے جن میں وادی کے اطراف و اکناف سے آئے ہوئے ہزاروں فرزندان توحید، مردو زن اور پیر وجوان نے شرکت کی اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور انتہائی عاجزی و انکساری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلام کی سربلندی، ملت کے جملہ مسائل کے حل کے لئے دعائیں مانگیں۔

کشمیر میں جمعتہ الوداع کی تقریب حسب سابق مشترکہ مزاحمتی قیادت کے پروگرام کے مطابق یوم القدس اور یوم کشمیر کے بطور منائی گئی۔ اگرچہ یوم القدس اور یوم کشمیر کے سلسلے میں نکالے جانے والی بیشتر ریلیاں پرامن طور پر اختتام پذیر ہوئیں تاہم سری نگر کے نوہٹہ اور شمالی کشمیر کے قصبہ کپواڑہ میں احتجاجیوں کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق سری نگر کے نوہٹہ میں واقع مرکزی جامع مسجد اور قصبہ کپواڑہ میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد احتجاجی نوجوانوں نے بیت المقدس اور کشمیر کی آزادی کے حق میں شدید نعرے بازی شروع کردی، تاہم جب احتجاجی نوجوان سیکورٹی فورسز پر پتھرائو کے مرتکب ہوئے تو انہوں نے ردعمل میں آنسو گیس کے گولے داغے اور مبینہ طور پر پیلٹ شلنگ کی۔ نوہٹہ میں طرفین کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ قریب ایک گھنٹے تک جاری رہا۔ جھڑپوں کے دوران متعدد افراد بشمول سیکورٹی فورسز اہلکاروں کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئیں۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق وادی کے بیشتر علاقوں میں یوم القدس اور یوم کشمیر کے سلسلے میں نکالے جانے والی ریلیاں پرامن طور پر اختتام پذیر ہوئیں۔ ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اسرائیل کی بیت المقدس پر غاصبانہ قصبے کے خلاف اور اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے مطالبے میں تقریریں کیں۔ مقررین نے کہا کہ بیت القدس کی آزادی امت مسملہ کا مشترکہ چلینج ہے اور اس کی آزادی کے لئے امت وک ایک ہوکر کمر بستہ ہونا چاہئے۔ انہوں نے بیت المقدس کی آزادی کے لئے دعائیں بھی کیں۔

یوم القدس منانے کا آغاز ایران میں امام خمینی (رح) نے سنہ 1979ء کے اسلامی انقلاب کے ساتھ ہی کیا تھا۔ علماء کا کہنا ہے کہ امام خمینی (رح) کا مقصد فلسطینیوں کے لئے عالم اسلام کی یکجہتی کے لئے عالمی دن مقرر کرنا تھا کیونکہ فلسطین کے مسئلے کو لیکر وہ بے حد فکر مند تھے اور اس کو مسلمانان عالم کا مشترکہ مسئلہ سمجھتے تھے۔

اس دوران تاریخی و مرکزی جامع مسجد کے ایک ترجمان نے کہا کہ جمعتہ الوداع کے سلسلے میں میں سب سے بڑا اجتماع جامع مسجد سری نگر میں منعقد ہوا جہاں وادی کے طول و عرض سے ہزاروں فرزندان توحید نے نماز جمعہ میں شرکت کے ساتھ ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور دعا اور توبہ و استغفار کیا جبکہ کشمیر میں جمعتہ الوداع کی تقریب حسب سابق یوم قدس اور یوم کشمیر کے طور پر بھی منائی گئی ۔

دریں اثنا مشترکہ مزاحمتی قیادت کے مشترکہ فیصلے کے مطابق امسال بھی حسب سابق جمعتہ الوداع کو یوم قدس اور یوم کشمیر کے طور پر منایا گیا۔ اس ضمن میں مزاحمتی قیادت نے مشترکہ طور جو قرارداد مرتب کی تھی وہ پورے جموں وکشمیر کی مرکزی مساجد، خانقاہوں، امام باڑوں اور آستانوں میں عوام الناس کے سامنے پیش کی گئی اور ان سے تائید حاصل کی گئی۔

قرارداد میں کہا گیا کہ ‘یہ اجتماع فلسطین اور کشمیری عوام پر ہو رہے مظالم اور ان دونوں دیرینہ تنازعوں کے حل کے تئیں عالمی برادری کی عدم توجہی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ ان دونوں مسئلوں کو ان کے تاریخی تناظر میں حل کرنے کے لئے اقوام متحدہ اور عالمی برادری اپنا کردار ادا کرے’۔

قرارداد میں کہا گیا کہ یہ اجتماع قبلہ اول، بیت المقدس کی بازیابی کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ فلسطین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کی پر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے دنیا کے بااثر مسلم ممالک کے ساتھ ساتھ او آئی سی پر زور دیتا ہے کہ وہ قبلہ اول کی بازیابی اور فلسطینی عوام پر ہو رہے مظالم کو بند کرانے کے لئے آگے آئیں’۔

Source بشکریہ قومی آواز بیورو—