یورپ کے بعد امریکا میں بھی ‘منکی پاکس’ کے ایک کیس کی تصدیق

امریکا میں ایک شخص میں منکی پاکس کی تشخیص ہوئی ہے جس نے حال ہی میں کینیڈا کا سفر کیا تھا۔یہ کیس ریاست میساچوسٹس میں سامنے آیا اور طبی حکام اب یہ جانچ پڑتال کررہے ہیں کہ اس کا تعلق یورپ میں حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے کیسز سے تو نہیں۔

منکی پاکس ایسی بیماری ہے جو عموماً افریقا تک محدود رہتی ہے اور کبھی کبھار ہی دنیا کے دیگر حصوں میں اس کے کیسز سامنے آتے ہیں اور اکثر افریقی ممالک کا سفر کرکے آنے والے افراد اس سے متاثر ہوتے ہیں۔
مگر مئی 2022 کے دوران برطانیہ، پرتگال ، اٹلی اور اسپین جیسے یورپی ممالک میں منکی پاکس کے مصدقہ یا مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

امریکا کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن (سی ڈی سی) نے بتایا ہے کہ وہ برطانیہ اور کینیڈا کے حکام سے رابطے میں ہیں مگر ابھی یہ کہنا ممکن نہیں کہ میساچوسٹس کے مریض کا برطانیہ کے کیسز سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

سی ڈی سی کی عہدیدار جینیفر میکوئسٹن کے مطابق یہ امریکا میں رواں سال کے دوران پہلا کیس ہے جس کا ہمیں علم ہوا ہے ، مگر ہم مزید کیسز کے امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے تیاری کررہے ہیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ امریکا میں منکی پاکس کے جس کیس کی تشخیص ہوئی اس سے عوام کو کوئی خطرہ نہیں اور اسپتال میں داخل مریض کی حالت بہتر ہے۔
منکی پاکس سے متاثر افراد میں بیماری کا آغاز فلو جیسی علامات سے ہوتا ہے اور لمفی نوڈز سوج جاتی ہیں، جس کے بعد چہرے اور جسم میں خارش کا سامنا ہوتا ہے۔

افریقا میں چوہوں یا چھوٹے جانوروں کے کاٹنے سے لوگ اس بیماری سے متاثر ہوتے ہیں مگر یہ ایک سے دوسرے فرد میں آسانی سے پھیلتی نہیں۔

مگر یورپ میں حالیہ کیسز زیادہ تر ہم جنس پرست مردوں میں سامنے آئے اور اس کو مدنظر رکھتے ہوئے بیماری کے پھیلاؤ کے مزید امکانات کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے۔عام طور پر منکی پاکس کی شدت معمولی یا معتدل ہوتی ہے ، مگر اس کی 2 اقسام کو زیادہ خطرناک سمجھا جاتا ہے۔

کانگو میں منکی پاکس کی قسم میں شرح اموات 10 فیصد ہے جبکہ مغربی افریقا میں موجود اس کی قسم سے متاثر ہونے والے افراد میں شرح اموات ایک فیصد ہے۔