صرف چند ماہ پہلے تک یورپ میں کورونا وائرس کے کیسز اس عالمی وبا کے آغاز کے بعد سے کم ترین سطح پر تھے۔مگر اس ہفتے یورپ میں متعدد مقامات پر کورونا وآیرس کی وبا سے نمٹنے کے حوالے سے احتجاجی مظاہرے دیکھے گئے جن میں پولیس کو تعینات کرنا پڑا اور گاڑیوں کو آگ لگائے جانے کے پرتشدد واقعات بھی ہوئے۔

مگر اس سب کے پیچھے غصے کی وجہ کیا ہے؟

یورپ میں کیا ہو رہا ہے؟
گذشتہ اختتامِ ہفتہ کو متعدد ممالک میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ ہالینڈ میں مظاہرین پولیس سے لڑے، پولیس پر پتھراؤ کیا اور گاڑیاں جلائیں۔

حکام نے جوابی کارروائی میں لاتھی چارج کیا، واٹر کینن استعمال کیا اور کتوں اور گھوڑوں کی مدد سے مظاہرین کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی۔ ہالینڈ کے وزیراعظم مارک رتے نے اس مظاہروں کو شفاف تشدد قرار دیا۔
ادھر بلجیئم میں بھی مظاہرے پرتشدد ہوگئے اور پولیس کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ یہاں بھی حکام نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔

سنیچر کے روز آسٹریا کے دارالحکومت ویئینا میں دائیں بازر کی جماعت فریڈم پارٹی نے بھی احتجاجی مظاہرہ کیا تاہم وہ قدرے پرامن رہا۔ان کے علاوہ اٹلی، ڈنمارک، اور کروئیشیا میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔

لوگوں کو غصے کس بات کا ہے؟
اس عضے کے پیچھے کیا اس بات کا بنیادی جواب ہے، کورونا وائرس کے حوالے سے لگائی گئی نئی پابندیاں۔

ہالینڈ میں کرورنا وائرس کے کیسز میں تیزی کے بعد تین ہفتوں کا جزوی لاک ڈاؤن لگایا گیا تھا۔ شراب خانوں اور ریتورانوں کو جلدی بند کرنا تھا اور کھیلوں کے مقابلوں پر تماشائیوں پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

بلجیئم میں چہرے پر ماسک پہننے کے قوانین سخت تر کر دیے گئے تھے، اور ان مقامات پر بھی یہ پابندی لاگو تھی جہاں جانے کے لیے پہلے ہی کووڈ پاس درکار تھے جیسے کہ ریتوران وغیرہ۔ اس کے علاوہ زیادہ تر لوگوں کو کہا گیا تھا کہ وہ دسمبر کے وسط تک ہفتے میں کم از کم چار دن گھر سے کام کریں۔

خطے کے متعدد ممالک جیسے جرمنی، یونان، اور چیک ریپبلک میں بھی ایسی ہی پابندیاں لگائی گئی تھیں۔

تاہم ان میں سے سخت ترین آسٹریا میں لگائی گئی ہیں۔ ملک میں مکمل لاک ڈاؤن کے ساتھ ساتھ لوگوں کو کہا گیا ہے کہ وہ گھر سے بغیر ضرورت نہیں نکل سکتے اور آسٹریا وہ پہلا تورپی ملک بن گیا ہے جہاں کورونا وائرس کی ویکسین لگانا قانونی طور پر لازمی ہوگیا ہے اور فروری سے یہ قانون لاگو کر دیا جائے گا۔

شدید مخالفت کے باوجود چانسلر ایلکزینڈر شالنبرگ کا کہنا ہے کہ ویکسین کی مخالفت کی وجہ سے یہ قانون بنانا ضروری تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اینٹی ویکسرز اور ویک نیوز کی وجہ سے ہم سے سے بہت سے لوگ ویکسینز نہیں لگوا رہے۔ ‘اس کا نتحجہ یہ ہے کہ ہمارے انتہائی نگہداشت کے سنٹرز میں رش ہے اور بہت زیادہ لوگ مشکلات میں ہیں۔‘

یہ پابندیاں اس وقت کیوں لگائی گئی ہیں؟
یہ نئی پابندیاں خطے میں کووڈ کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے لگائی جا رہی ہیں۔ گذشتہ چند ماہ میں یورپ میں کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے حالانکہ دنیا کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں یورپ میں ویکسین لگوانے والے افراد کی شرح کافی زیادہ ہے۔

جرمنی اور ہالینڈ میں گذشتہ ماہ کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہفتہ وار کیسز آ رہے ہیں جبکہ آسٹریا میں یہ تناسب پانچ گیا ہے۔

عالمی ادارۃِ صحت کے علاقائی ڈائریکٹر یورپ ڈاکٹر ہانز کلیج نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر کچھ نہ کیا گیا تو مارچ تک پانچ لاکھ اموات ہو سکتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یورپ میں ہونے والے زیادہ تر اقدامات کی حمایت کرتے ہیں مگر آسٹریا جیسی ویکسین لگوانے کی قانونی ذمہ داری کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ بالکل آخری حربہ ہونا چاہیے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اس بارے میں قانونی اور سماجی بحث ہو۔انھوں نے ماضی میں ماسک کو لازم قرار دینے اور کووڈ پاس کے قوانین کی حمایت کی ہے۔

کیسز اتنی تیزی سے کیوں بڑھے ہیں؟
اس کی مختلف ممالک میں مختلف وجوہات ہیں۔ ڈاکٹر کلیج کا کہنا ہے کہ سردیوں کے موسم، ویکسینوں کی ناکافی کوریج، اور خطے میں ڈیلٹا قسم کے کورونا وائرس کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔

بہت سے یورپی ممالک نے کووڈ کی پابندیاں جیسے کہ سماجی فاصلے یا ماسک پہننے کی پابندیوں میں کیسز میں کمی اور ویکسینیشن کی بڑھتی ہوئی شرح کے بعد نرمی کر دی تھی۔ تاہم ویکسین لگوانے کے بعد بھی ڈیلٹا وائرس تیزی سے پھیل سکتا ہے۔

کیا اموات کی تعداد بھی اسی تیزی سے بڑھ رہی ہے؟
تاہم کچھ اچھی خبر ہے۔ ویکسینز کی وجہ سے لوگوں کے انتہائی شدید بیمار ہونے یا ہلاک ہونے کا امکان کافی کم ہو جاتا ہے۔

کورونا وائرس کی وبا کے آغاز میں جب کیسز بڑھتے تھے تو اموات میں بھی تیزی سے اضافہ ہو جاتا تھا تاہم ویکسینز کے آجانے کے بعد اس وائرس سے متاثر ہونے اور اس کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کے تناسب میں کافی فرق پڑا ہے۔(بہ شکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام)

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔