متحدہ عرب امارات کے مرکزی بنک نے 2026ء میں ملک کی پہلی ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔

دنیا بھرکے متعدد ممالک کے مرکزی بنکوں نے حال ہی میں اپنی اپنی ڈیجیٹل کرنسیاں متعارف کرانے کے اعلانات کیے ہیں اور انھوں نے بٹ کوائن ایسی کرپٹوکرنسیوں پر تنقید کی ہے۔

یواے ای کے مرکزی بنک نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’وہ ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کے علاوہ ملک میں مالیاتی خدمات کے شعبے کوڈیجیٹل بنانے کے لیے بھی اقدامات کرے گا اور اس سلسلے میں مصنوعی ذہانت اور بِگ ڈیٹا سالوشنز کو بروئے کارلائے گا۔‘‘

یواے ای کے سرکاری میڈیا کے بیان کے مطابق مرکزی بنک کا یہ اعلان اس کے 2023ءسے 2026ء تک کے منصوبے کا حصہ ہے۔اس کے تحت وہ خود کو دنیا کے دس سرفہرست مرکزی بنکوں میں شمارکرنا چاہتا ہے۔

واضح رہے کہ 2019ء میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے سرحدپار ترسیلات زر کے لیے اپنی مشترکہ کرپٹوکرنسی کے آزمائشی مرحلے کا اعلان کیا تھا۔

اس وقت کروناوائرس کی وبا کے تناظر میں دنیا بھر میں کرپٹوکرنسی بِٹ کوائن کی مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے۔اس کے علاوہ آن لائن رقوم کی ادائی اور منتقلی کے رجحان کوتقویت ملی ہے،اس کے پیش نظر دنیا کے مرکزی بنک خود اپنے اپنے متبادل حل کی تلاش میں ہیں۔

چین نے مارچ میں کرپٹوکرنسیوں کی اس دوڑ میں شریک ہونے کا اعلان کیا تھا۔اس نے ’’ڈیجیٹل یوآن‘‘ کو متعارف کرایاتھا اور اس کے آزمائشی مرحلے کا آغاز کیا تھا۔

امریکا ، یورپی یونین اور برطانیہ کے مرکزی بنک بھی اپنی اپنی ڈیجیٹل کرنسیوں کو متعارف کرانے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔اگر وہ بھی ڈیجیٹل کرنسیوں میں لین دین شروع کردیتے ہیں تو پھر اس کرنسی کی مارکیٹ میں استحکام لانے میں مدد ملے گی۔

یادرہے کہ بِٹ کوائن کو2008ء میں روایتی کرنسیوں کے متبادل کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا۔اب یہ دنیا کی مقبول ترین کرپٹوکرنسی اور ورچوئل یونٹ بن چکی ہے لیکن حال ہی میں چین کی جانب سے کرپٹوکرنسیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد بِٹ کوائن کی قدر میں کمی واقع ہوئی ہے۔