صنعاء : یمن کے صوبے لحج میں تبن ضلع میں مفت طبی کیمپ کے ذریعے ایک یمنی لڑکی کو پیدائش کے 22 برس بعد بینائی واپس مل گئی۔کیمپ کا انعقاد کویت کی ایک فلاحی انجمن “الخیر” کی سرپرستی میں ہوا۔ اس میں دو دیگر اداروں کا بھی تعاون حاصل رہا۔ ماضی میں ڈاکٹروں نے یمنی لڑکی رندا حسین کے حوالے سے اس بات پر اتفاق ظاہر کیا تھا کہ اس کا علاج اور بینائی کی واپسی دشوار ہے۔ اس طرح وہ دو دہائیوں تک آنکھوں کی روشنی سے محروم رہی۔رندا یونیورسٹی میں تیسرے سال کی طالبہ ہے اور اس کا مضمون عربی زبان ہے۔ وہ نابینا افراد کے لوازمات کے ساتھ تعلیم حاصل کر رہی ہے۔رندا کا کیس ردفان میں الحبیلین شہر میں آنکھوں کے ایک طبی مرکز میں پیش کیا گیا۔ رندا کے معائنے کے بعد اس کا آپریشن ہوا اور اس کی آنکھ سے موتیا نکال دیا گیا۔