یعقوب میمن کی قبر پر تنازعہ، پولیس نے ایل ای ڈی لائٹس ہٹا دیں

856

ممبئی حملے کے مجرم یعقوب میمن کی قبر پر تنازع شروع ہو گیا ہے۔ یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب بتایا گیا کہ یعقوب میمن کی قبر کو سجایا گیا ہے اور اسے ایک مزار میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ یہ قبر بڑے قبرستان میں موجود ہے۔ اس سارے معاملے پر بڑے قبرستان کے ٹرسٹی شعیب خطیب نے کہا کہ یہ خبر درست نہیں ہے۔

اے بی پی نیوز پر شائع خبر کے مطابق بی ایم سی کمشنر اقبال چہل نے کہا کہ بڑا قبرستان ہمارے یعنی بی ایم سی کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، جس کی وجہ سے ہم اس پر کوئی کارروائی یا تحقیقات نہیں کر سکتے۔ یہ ایک نجی مسلم ٹرسٹ کا قبرستان ہے۔ ممبئی میں کئی قبرستان ہیں جو بی ایم سی کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، اگر ایسا کوئی قبرستان ہوتا تو ہم اس کا تفصیلی جائزہ لیتے۔ یہ بڑا قبرستان ہے جو ممبئی ٹرسٹ کی جامع مسجد کے نام ہے۔

اس سارے معاملے پر بڑے قبرستان کے ٹرسٹی شعیب خطیب نے کہا کہ یہ خبر صحیح نہیں ہے۔ یہ روشنی شب برأت کے دن کی ہیں۔ یہاں پر اس قبر کے علاوہ 17 اور قبریں ہیں اور اس قبر پر ماربل سات سال پہلے لگایا گیا تھا۔ اب جو خبریں پھیلائی جا رہی ہیں وہ سب غلط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لائٹس غسل خانے کی وجہ سے لگائی گئی ہیں۔ یعقوب میمن کے لیے کوئی خاص کام نہیں کیا گیا۔ یہاں میمن کی قبر کے قریب ایک درخت گر گیا تھا جس کے بعد ان کے اہل خانہ نے ان کی قبر کی مرمت کی اجازت مانگی تھی جو ہم نے دے دی تھی۔ وہاں لائٹ کسی اور وجہ سے لگائی گئی ہے، یعقوب میمن کے لیے نہیں لگائی گئی ہیں۔

اے بی پی پر شائع خبر کے مطابق پولیس کی تفتیش میں پتہ چلا ہے کہ یہ لائٹس 18 مارچ 2022 کو لگائی گئی تھیں اس دن شب برأت تھی۔ اس دن لوگ اپنے آباؤ اجداد کی قبروں پر جا کر فاتحہ پڑھتے ہیں تاکہ مرحوم سے جو بھی گناہ سرزد ہوئے ہیں وہ معاف ہو جائیں۔ یہ روشنیاں باقی دن استعمال نہیں ہوتیں۔ فی الحال اس معاملے میں پولیس نے تفتیش شروع کر دی ہے۔