بنگلورو ، 6 جون (یو این آئی) کرناٹک میں قیادت کی تبدیلی کی قیاس آرائیوں کو ختم کرنے کی کوششوں کے تحت وزیر اعلی بی ایس یدیورپا نے اتوار کو اعلان کیا کہ وہ عہدہ چھوڑنے اور دوسروں کو اقتدار سنبھالنے کی راہ ہموار کرنے کے لئے تیار ہیں۔

پارٹی کے کچھ رہنماؤں اور کابینہ کے ممبر کے اپنے طرز عمل کے بارے میں مبینہ طور پر دیئے گئے بیانات سے پریشان مسٹر یدیورپا نے یہاں صحافیوں کو بتایا کہ "اگر پارٹی کی اعلی قیادت چاہے تو میں اپنے عہدے سے استعفی دینے کے لئے تیار ہوں۔” تاہم انھوں نے اس کی تردید کی کہ ان کے لئے کوئی متبادل نہیں ہے اور کہا کہ پارٹی کے مرکزی قائدین نے انہیں ریاست میں مختلف ذمہ داریاں سنبھالنے کا کافی موقع فراہم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے رہنما ایسے ہیں جو ریاست کا چارج سنبھال سکتے ہیں۔ پارٹی کے کچھ رہنماؤں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جو ریاستی حکومت کے کام کاج پر کھلے عام تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "میں چاہتا ہوں کہ پارٹی کی اعلی قیادت ایسی حرکتوں کو روکنے کے لئے اقدامات کرے۔ ”

واضح رہے کہ ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ سی پی یوگیشور نے اپنے بیان میں عوامی طور پر کہا تھا کہ ریاست میں بی جے پی کی کوئی حکومت نہیں ہے ، بلکہ ‘تین پارٹیوں کی سمجھ والی حکومت’ ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما اور بی جے پی کے ایم ایل اے بسون گوڈا پاٹل یتنال نے بھی وزیر اعلی کو استعفی دینے کا مشورہ دیا تھا۔ مسٹر باسون گوڈا ہمیشہ سے یدیورپا کے بیٹے اور پارٹی کے ریاستی نائب صدر بی وائی وجیندر کے خلاف آواز بلند کرتے رہے ہیں۔ ‘‘