ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملے: ’تین دن اور تین رات شہر جلتا رہا‘

936

دوسری عالمی جنگ میں امریکہ نے چھ اگست کو جاپان کے شہر ہیروشیما جبکہ نو اگست کو ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے تھے۔ اس واقعے میں ریکارڈ شدہ اموات محض ایک تخمینہ ہیں لیکن یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ ہیروشیما کی ساڑھے تین لاکھ آبادی میں سے تقریبا ایک لاکھ 40 ہزار افراد جبکہ ناگاساکی میں کم از کم 74 ہزار افراد ان حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔

جاپان پر ہونے والے اِن حملوں کے فوراً بعد ایشیا میں دوسری عالمی جنگ کا اچانک خاتمہ ہو گیا تھا اور بالآخر 14 اگست 1945 کو جاپان نے اپنی ہار تسلیم کرتے ہوئے ہتھیار ڈال دیے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اپنے شہروں پر ایٹمی حملوں سے قبل ہی جاپان ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کر چکا تھا۔

اِن ایٹمی حملوں میں زندہ بچ جانے والے ہیروشیما اور ناگاساکی کے رہائشیوں کو جاپان میں ’ہیباکوشا‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ زندہ بچ جانے والوں کو ایک خوفناک انجام کا سامنا کرنا پڑا تھا جس میں ایٹمی تابکاری کے دیرپا اثرات اور نفسیاتی صدمے بھی شامل ہیں۔

برطانوی فوٹو جرنلسٹ کیرن لی سٹو اُن خواتین کی کہانیاں سنانے میں مہارت رکھتی ہیں جو تاریخ کے قابل ذکر واقعات کی چشم دید گواہ ہیں۔ لی اسٹو نے ایسی تین خواتین کے انٹرویوز کیے ہیں جنھیں ہیروشیما اور ناگاساکی میں 75 برس قبل ہونے والے بم دھماکے اب بھی اچھی طرح یاد ہیں۔

تنبیہ: اس مضمون میں ایسی تفصیلات ہیں جو بعض لوگوں کے لیےپریشان کُن ہو سکتی ہیں۔

ٹیروکو یواینو
ٹیروکو اُس وقت 15 سال کی تھیں جب ہیروشیما پر ایٹمی بم گرایا گیا، تاہم وہ اس حملے میں زندہ بچ گئی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہ

Lee Karen Stow

،تصویر کا کیپشن
بمباری کے چند سال بعد ٹیروکو نے ہسپتال میں نرس کی حیثیت سے ملازمت

بمباری کے وقت ٹیروکو ہیروشیما ریڈ کراس ہسپتال میں نرسنگ سکول کے دوسرے سال کی طالبعلم تھیں۔

بم دھماکے کے نتیجے میں ہسپتال کے طلبا کے ہاسٹل میں آگ لگ گئی تھی۔ ٹیروکو نے آگ بجھانے میں مدد کی لیکن ان کے بہت سے ساتھی طلبا اس آتشزدگی کے نتیجے میں ہلاک ہوئے تھے۔

ان کی بم دھماکے کے بعد کے ہفتے کی صرف خوفناک یادیں ہیں۔ وہ ہفتہ جس میں وہ زخمیوں اور متاثرہ افراد کا علاج کرنے کے لیے دن رات کام کر رہی تھیں اور اُن سب کے پانی اور خوراک کا بندوبست بھی۔

نرسنگ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ٹیروکو نے ہسپتال میں کام جاری رکھا جہاں انھوں نے ابتدا میں انسانی جلد پر ہونے والے آپریشنز میں ڈاکٹروں کو مدد فراہم کی۔

ایسے آپریشنز کے دوران مریض کی ران سے جلد لی جاتی اور جسم کے ان اعضا پر اس کی پیوند کاری کی جاتی جہاں زخم یا جل جانے کی وجہ سے انمٹ نشان پڑ چکے تھے۔

بعد میں انھوں نے اس ایٹمی حملے میں زندہ بچ والے ایک شخص تاتسویوکی سے شادی کر لی۔

جب ٹیروکو پہلی مرتبہ حاملہ ہوئیں تو انھیں اس بات کی فکر تھی کہ آیا اُن کا بچہ صحتمند پیدا ہو گا یا نہیں اور کیا وہ زندہ بھی بچ پائے گا؟

،تصویر کا ذریعہ

Lee Karen Stow

،تصویر کا کیپشن
ٹیروکی کی بیٹی توموکو کا پیدائش کے بعد ایک ہسپتال میں چیک اپ کیا جا رہا ہے

اور پھر اُن کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام توموکو رکھا گیا۔ یہ بچی صحت مند تھی جس کی وجہ سے ٹیروکو کو اپنے خاندان کو مزید وسعت دینے کی ہمت پیدا ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہ

Lee Karen Stow

،تصویر کا کیپشن
توموکو اپنے والدین کے ہمراہ

ٹیروکو کہتی ہیں کہ ’میں جہنم میں نہیں گئی اس لیے میں نہیں جانتی کہ وہ کیسا ہوتا ہے، لیکن جہنم شاید ویسا ہی ہو گا جس سے ہم گزرے تھے۔ ایسا پھر کبھی کہیں نہیں ہونے دینا چاہیے۔‘

’ایسے لوگ ہیں جو جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ میرے خیال میں پہلا قدم مقامی حکومت کے رہنماؤں کا اس ضمن میں کام کرنا ہے۔‘

’اور پھر ہمیں قومی سطح کے رہنماؤں اور پوری دنیا تک پہنچنا ہو گا۔‘

،تصویر کا ذریعہ

Lee Karen Stow

،تصویر کا کیپشن
یہ تصویر سنہ 2015 کی ہے جس میں ٹیروکو اپنی بیٹی توموکو اور نواسی کونیکو کے ساتھ ہیں

ٹیروکو کی بیٹی توموکو نے کہا کہ ’لوگ کہتے تھے کہ 75 سال تک یہاں کوئی درخت یا سبزہ نہیں اُگے گا، لیکن اب ہیروشیما ایک ہرا بھرا خوبصورت شہر بن گیا ہے جہاں دریا بھی ہے۔‘

تاہم، تابکاری کے اثرات سے بعد بھی ’ہیباکوشا‘ پریشان رہے۔

’اب جبکہ ہیروشیما اور ناگاساکی کی یادیں لوگوں کے ذہنوں سے مٹ رہی ہیں۔۔۔ ہم ایک دو راہے پر کھڑے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’مستقبل ہمارے ہاتھ میں ہے۔ امن تب ہی ممکن ہے جب ہم غور کریں، دوسرے لوگوں کے بارے میں سوچیں، جو کچھ ہم کر سکتے ہیں کریں، اور امن کے قیام کے لیے ہر روز انتھک کوششیں جاری رکھیں۔‘

ٹیروکو کی نواسی کونیکو نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’مجھے جنگ یا ایٹمی بمباری کا تجربہ نہیں، میں تعمیر نو کے بعد والے ہیروشیما کی جانتی ہوں۔ میں صرف اُس واقعے کا تصور ہی کر سکتی ہوں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر ’ہیباکوشا‘ کی بات سنتی ہیں اور شواہد کی بنیاد پر ایٹمی دھماکے کے حقائق کا مطالعہ کرتی ہیں۔

’اُس دن شہر میں سب کچھ جل کر راکھ ہو گیا تھا۔ لوگ، پرندے، ڈریگن فلائیز، گھاس، درخت، سب کچھ۔‘

،تصویر کا ذریعہ

Getty Images

،تصویر کا کیپشن
ایٹم بم گرائے جانے کا بعد ہیروشیما میں تباہی کا ایک منظر

’جو لوگ ایٹمی حملے کے بعد امدادی کاموں یا اپنے اہلخانہ اور دوستوں کی تلاش کے لیے شہر میں داخل ہوئے تھے اُن میں سے بھی بہت سے افراد تابکاری اثرات کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے اور جو لوگ زندہ بچ گئے وہ مختلف بیماریوں کا شکار بنے۔

’میں صرف ہیروشیما اور ناگاساکی میں ہیباکوشا کو قریب سے جاننے کی کوشش میں ہی نہیں رہی بلکہ یورینیم کان کے کارکنوں، بارودی سرنگوں کے قریب رہنے والے افراد، جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور جانچ میں مصروف افراد، اور تباہ حال خاندانوں سے بھی تعلقات بنائے رکھنے کی کوشش کرتی ہوں۔‘

جب ہیروشیما پر ایٹمی حملہ ہوا اس وقت ایمیکو کی عمر صرف آٹھ برس تھی۔

ان کی بڑی بہن میاکو اور چار دیگر رشتہ دار اس حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

ایمیکو اور اُن کے اہلخانہ کی بہت ساری تصاویر اس واقعے کے دوران کھو گئیں، لیکن ان ہیروشیما سے دور رہنے والے ان کے رشتہ داروں کے گھروں میں رکھی ہوئی اُن کی چند تصاویر بچ گئیں، اِن تصاویر میں اُن کی بہن کی تصویر بھی شامل ہے۔

،تصویر کا ذریعہ

Courtesy of Emiko Okada

،تصویر کا کیپشن
ایمیکو اپنے والدہ فوکو نکاساکو کی گود میں ہیں جبکہ ان کی بہن میاکو پاس کھڑی ہیں

ایمیکو نے بتایا ’اس دن میری بہن یہ کہتے ہوئے گھر سے روانہ ہوئی کہ ’میں تمہیں بعد میں ملوں گی!‘ وہ صرف بارہ سال مگر زندگی سے بھرپور شخصیت تھی۔‘

’لیکن وہ کبھی واپس نہیں آئی۔ کوئی نہیں جانتا ہے کہ اس کا کیا ہوا۔‘

’میرے والدین نے اسے بہت تلاش کیا، انھیں اس کی لاش کبھی نہیں ملی، اس لیے وہ ہمیشہ کہتے رہے کہ وہ کہیں زندہ ہو گی۔‘

’اس وقت میری والدہ حاملہ تھیں لیکن اُن کا اسقاط حمل ہو گیا۔‘

’ہمارے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ ہمیں تابکاری کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا، لہذا ہمیں کھانے کے لیے جو ملا بغیر سوچے سمجھے اٹھا لیا اس حقیقت سے قطع نظر کہ یہ سب تابکاری مواد سے آلودہ تھا۔‘

’چونکہ کھانے کو کچھ نہیں تھا اس لیے لوگ چوری چکاری کر رہے تھے۔ کھانا سب سے بڑا مسئلہ تھا۔ پانی مزیدار تھا! لوگوں کو اُس وقت اسی طرح رہنا پڑا، لیکن اب سب فراموش ہوتا جا رہا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہ

Courtesy of Emiko Okada

،تصویر کا کیپشن
ایمیکو کی بہن کی روایتی لباس میں رقص کرتے ہوئے تصویر

وہ کہتی ہیں کہ ’پھر میرے بال گرنے لگے، اور میرے دانتوں سے خون بہنے لگا۔ میں مستقل طور پر تھکا ہوا محسوس کرتی اور ہمیشہ لیٹی رہتی تھی۔‘

’اس وقت کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ تابکاری کیا ہے۔ بارہ سال بعد مجھ میں اپلیسٹک انیمیا یعنی خون کی کمی یا نیا خون نہ بننے کی تشخیص ہوئی۔‘

’ہر سال کئی بار ایسا ہوتا کہ غروب آفتاب کے وقت آسمان گہرا سرخ ہو جاتا، اتنا سرخ کہ اس کی روشنی میں لوگوں کے چہرے سرخ ہو جاتے۔‘

’اور آج بھی میں ایٹمی بمباری کے دن ہونے والے غروب آفتاب کے بارے میں سوچنا روک نہیں پاتی۔ تین دن اور تین رات تک شہر جلتا رہا تھا۔‘

’مجھے غروب آفتاب سے نفرت ہے۔ اب بھی غروب آفتاب مجھے جلتے ہوئے شہر کی یاد دلاتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہ

Getty Images

،تصویر کا کیپشن
ہیروشیما میں تباہی کا ایک منظر

’بہت سے ہیباکوشا ان چیزوں یا بمباری کی تفصیلات بتائے بغیر ہی فوت ہو گئے۔ اب وہ بول نہیں سکتے، لہذا میں بول رہی ہوں۔‘

’بہت سے لوگ عالمی امن کے بارے میں بات کرتے ہیں، لیکن میں چاہتی ہوں کہ لوگ عمل کریں۔ میں چاہتی ہوں کہ ہر شخص جو وہ کر سکتا ہے کرنا شروع کر دے۔‘

’میں خود بھی کچھ ایسا کرنا چاہتی ہوں تاکہ ہمارے بچے اور پوتے پوتیاں، جو ہمارا مستقبل ہیں، ایسی دنیا میں رہ سکیں جہاں وہ ہر روز مسکرا سکیں۔‘

ریکو ہادا
ریکو ہادا نو سال کی تھیں جب ان کے آبائی شہر ناگاساکی پر نو اگست سنہ 1945 کو 11 بج کر دو منٹ پر ایٹم بم گرایا گیا۔

،تصویر کا ذریعہ

Lee Karen Stow

،تصویر کا کیپشن
بائيں جانب پانچ سال کی ریکو اور دائیں جانب سنہ 2015 میں لی گئی ان کی تصویر جب وہ 79 برس کی تھیں

اس صبح ایک ہوائی حملے کے لیے انتباہ جاری کیا گیا تھا، لہذا ریکو گھر پر ہی تھی۔

جب سب ٹھیک ہونے کا اعلان ہوا تو وہ قریبی عبادت گاہ گئیں جہاں اس کے پڑوس کے بچے سکول جانے کے بجائے تعلیم حاصل کرتے تھے۔ حملوں کے پیش نظر سکول بند تھے۔

عبادت گاہ میں تقریبا 40 منٹ کی کلاس کے بعد ٹیچر نے کلاس ختم کر دی اور ریکو گھر واپس آ گئیں۔

ریکو نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’میں ابھی اپنے گھر کے دروازے تک پہنچی تھی اور مجھے لگتا ہے کہ میں نے ایک قدم گھر کے اندر بھی رکھ دیا تھا کہ اچانک یہ سب ہو گیا۔ میری آنکھوں کے سامنے بجلی کوند گئی، پیلے، خاکی اور مالٹائی سب رنگ ایک ساتھ مل گئے تھے۔‘

’میرے پاس حیرت کا اظہار کرنے کا وقت بھی نہیں تھا کہ یہ کیا ہے۔۔۔ پل بھر میں ہر چیز سفید ہو گئی تھی۔‘

’ایسا محسوس ہوا جیسے مجھے بالکل تنہا چھوڑ دیا گیا ہے، اگلے ہی لمحے ایک زور دار دھاڑ جیسی آواز سنائی دی۔ پھر میں بے ہوش ہو گئی۔‘

،تصویر کا ذریعہ

Getty Images

،تصویر کا کیپشن
بمباری کے بعد ناگاساکی شہر کا منظر

’تھوڑی دیر بعد مجھے ہوش آیا۔ ہمارے استاد نے ایمرجنسی کی صورت میں ہمیں فضائی حملے سے محفوظ رکھنے والی پناہ گاہ میں جانے کے لیے کہا تھا، لہذا میں نے گھر کے اندر اپنی ماں کی تلاش کیا اور ہم اپنے پڑوس میں فضائی حملے سے بچنے والی پناہ گاہ میں چلے گئے۔

’مجھے ایک خراش بھی نہیں آئی۔ مجھے کوہ (پہاڑ) کونپیرا نے بچا لیا تھا۔ لیکن پہاڑ کے دوسری طرف کے لوگوں کے لیے دنیا ہی دوسری تھی۔ انھیں بدترین صورتحال کا سامنا تھا۔‘

’بہت سے لوگ پہاڑ کونپیرا کے پار سے ہماری طرف بھاگے آئے۔ ان کی آنکھیں اُبل پڑی تھیں، ان کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ تقریبا سبھی لوگ برہنہ تھے، بُری طرح جھلسے ہوئے۔ ان کی جلدیں پھٹ کر نیچے لٹک رہی تھیں۔‘

’میری والدہ نے گھر میں تولیے اور چادریں اٹھا لیں اور خاندان کی دیگر خواتین کے ساتھ بھاگ کر آنے والے لوگوں کو قریبی کمرشل کالج کے آڈیٹوریم میں لے گئیں جہاں وہ آرام کر سکتے تھے۔‘

’انھوں نے پانی مانگا۔ مجھ سے انھیں پانی دینے کو کہا گیا، مجھے ایک چپٹا سا کٹورا ملا جسے لے کر میں قریب کی ندی پر گئی اور اسے بھر کر واپس بھاگی۔‘

’پانی پینے کے بعد چند لوگ مر گئے۔ لوگ ایک کے بعد ایک مرتے گئے۔‘

’گرمی کا موسم تھا۔ کیڑے مکوڑوں اور انتہائی تعفن کی وجہ سے لاشوں کی فوری تدفین ضروری تھی۔ انھیں کالج کے سوئمنگ پول میں ڈال دیا گیا اور لکڑی کے ٹکڑوں میں دفن کر دیا گيا۔‘

’یہ معلوم کرنا ناممکن تھا کہ یہ لوگ کون تھے۔ وہ انسانوں کی طرح نہیں مرے تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہ

Courtesy of Reiko Hada

،تصویر کا کیپشن
بائیں جانب ریکو اپنے والد کے ساتھ اور دائیں طرف اپنی بڑی بہن شیزور اورا کے ساتھ

’مجھے امید ہے کہ آنے والی نسلوں کو کبھی بھی ایسے حالات سے گزرنا نہیں پڑے گا۔ ہمیں کبھی بھی ان (جوہری ہتھیاروں) کو استعمال نہیں ہونے دینا چاہیے۔‘

’یہ وہ لوگ ہیں جو امن قائم کرتے ہیں۔ اگرچہ ہم مختلف ممالک میں کیوں نہ رہتے ہوں اور مختلف زبانیں کیوں نہ بولتے ہوں تو بھی ہماری امن کی خواہش ایک جیسی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہ

Lee Karen Stow