ابوظہبی : دی ورلڈ ایمونائزیشن و لاجسٹک کانفرنس آج اختتام پذیر ہوئی جس میں شرکاء نے یہ عہد کیا کہ عالمی سطح پر ایمونائزیشن کو لے کر جو فاصلہ یا خلاء پایا جاتا ہے اُسے دور کیا جائے گا ۔ کانفرنس میں شریک متعدد ہیلتھ کیئر قائدین ، پروفیشنلس ، مخیر حضرات و فیصلہ ساز سرکاری عہدیداروں نے یہ بھی عہد کیا کہ کووڈ ۔19 سے لڑنے کیلئے ویکسین کی دستیابی ہر ایک کیلئے ممکن بنائی جائے گی۔ اس موقع پر ابوظہبی کے محکمہ صحت کے صدرنشین عزت مآب عبداللہ بن محمد الحامد نے انوویشن کے موضوع پر تقریر کی جس میں کووڈ ۔19 کی صورت میں عالمی سطح پر موجود چیلنج سے نمٹنے کا تذکرہ کیا گیا ۔انہوں نے کہاکہ 2020ء کاپورا سال گزر گیا اور 2021 کے جتنے بھی مہینے گزرے ہیں وہ تمام اب تک عالمی سطح پر کووڈ۔19 کی صورت میں سب سے بڑے چیلنج کے طور پر موجود ہیں جو انتہائی پیچیدہ چیلنج ہے لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ کس طرح عالمی سطح پر تمام ممالک نے یکجا ہوکر اس وباء سے لڑنے کا عہد کیا ۔ ڈائرکٹر جنرل انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ کووڈ ۔19 کی وباء نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ عالمی سطح پر یگانگت کا پہلو نہ صرف درست ہے بلکہ حکمت عملی کے طور پر اسے ’’ اسمارٹ ‘‘ بھی کہا جاسکتا ہے ۔ ڈیمانڈ پلاننگ کے موضوع پر پہلا پیانل مباحثہ منعقد ہوا جس میں عالمی سطح پر ماہر سمجھے جانے والوں میں پروفیسر ناچمین ایش ، ندیم زہاوی ، ڈاکٹر فریدہ الحسنی اور راشد سیف کے نام قابل ذکر ہیں ۔ جبکہ فوکس آن مڈل ایسٹ کے موضوع پر ایک دیگر پیانل مباحثہ بھی ہوا جس میں ڈاکٹر مریم ابراہیم الہاجری ، ڈاکٹر ہانی جوکدر ، سائمن بلانڈ ، ڈاکٹر رعنا حجہ کے نام قابل ذکر ہیں ۔ یاد رہے کہ ہوپ کنزور ٹیم ایک پبلک ۔پرائیوٹ شراکت داری ہے جسے ایک بین الاقوامی موقف عطا کیا گیا ہے جس کے ذریعہ اس میں نئے شراکت دار جیسے ایجیلیٹی ، آرامیکس ، بولور لاجسٹکس ، ڈی ایچ ایل ، ہیل مان اور آر ایس اے گلوبل شامل ہوئے ہیں ۔


اپنی رائے یہاں لکھیں