ہندوستان میں کورونا وائرس نے ایک بار پھر قہر برپانا شروع کر دیا ہے۔ فروری اور مارچ کے شروع میں جہاں کورونا کیسز بہت کم ہو گئے تھے، وہیں مارچ کے آخر میں ایک بار پھر روزانہ تقریباً 50 ہزار نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں جس سے لوگوں کی فکر بہت بڑھ گئی ہے اور یہ سوال ذہن میں گردش کرنے لگا ہے کہ کیا کورونا کی دوسری لہر ملک کو پھر سے لاک ڈاؤن کی طرف لے جائے گا۔ ابھی تک مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے حالانکہ ایسے کسی بھی امکان سے انکار کیا ہے، لیکن ایس بی آئی (اسٹیٹ بینک آف انڈیا) نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ کورونا کی دوسری لہر 100 دنوں تک چل سکتی ہے۔ گویا کہ لوگوں کو مزید تین مہینے خوف کے سایہ میں زندگی گزارنے پڑ سکتے ہے۔

 

ایس بی آئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 23 مارچ کے رجحانات کی بنیاد پر ہندوستان میں دوسری لہر میں کورونا وائرس کے معاملوں کی کل تعداد تقریباً 25 لاکھ ہونے کی امید ہے۔ اس رپورٹ کے صفحہ نمبر 28 میں کہا گیا ہے کہ مقامی لاک ڈاؤن یا پابندیاں بے اثر ہیں اور اجتماعی ٹیکہ کاری وبا کے خلاف لڑائی جیتنے کی واحد امید ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پہلی لہر کے دوران روزانہ نئے معاملوں کے عروج تک پہنچنے کے دنوں کی تعداد کو دھیان میں رکھتے ہوئے اس بار ہندوستان میں اپریل وسط کے بعد کورونا کے معاملے عروج پر پہنچ سکتے ہیں۔

 

یہاں قابل ذکر ہے کہ مہاراشٹر کے تین اضلاع ناگپور، نانڈیر اور بیڈ میں مکمل لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔ ناگپور میں جہاں 31 مارچ تک کے لیے یہ لاک ڈاؤن نافذ ہے وہیں بیڈ اور نانڈیر میں 4 اپریل تک مکمل لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔ اسی طرح سے مدھیہ پردیش کے کچھ شہروں میں بھی سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ کئی ریاستوں میں جہاں کورونا کے کیسز پھر سے بڑھنے لگے ہیں، وہاں احتیاطی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور ہولی کو لے کر بھی کئی ریاستوں میں گائیڈ لائنس جاری کیے گئے ہیں۔ اس کے باوجود اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر لوگ بداحتیاطی کریں گے تو حالات فکر انگیز ہو جائیں گے۔یہاں قابل ذکر ہے کہ مہاراشٹر کے تین اضلاع ناگپور، نانڈیر اور بیڈ میں مکمل لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔ ناگپور میں جہاں 31 مارچ تک کے لیے یہ لاک ڈاؤن نافذ ہے وہیں بیڈ اور نانڈیر میں 4 اپریل تک مکمل لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔ اسی طرح سے مدھیہ پردیش کے کچھ شہروں میں بھی سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ کئی ریاستوں میں جہاں کورونا کے کیسز پھر سے بڑھنے لگے ہیں، وہاں احتیاطی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور ہولی کو لے کر بھی کئی ریاستوں میں گائیڈ لائنس جاری کیے گئے ہیں۔ اس کے باوجود اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر لوگ بداحتیاطی کریں گے تو حالات فکر انگیز ہو جائیں گے۔