ہوشیار، گیان واپی مسجد کا سودہ نہ ہونے دیں/2 ✍:پرویز نادر

عقیدے کی جنگ میں گیان واپی مسجد کی حیثیت، اس سے دست برداری پر بھارتی مسلمانوں کے مستقبل کی صورت حال، مسلم قیادتوں کے مجرمانہ اور مصلحت پسندانہ کردار کی قلعی کھولنے اور اگلی قسط میں کچھ گزارشات کے وعدے کے ساتھ میں نے اپنی تحریر کو ختم کیا تھا،میں ایک ایسا عملی خاکہ پیش کرنا چاہتا ہوں، جو سبھی کے نزدیک قابل قبول ہو اور جس سے کم سے کم اختلاف کیا جا سکے،گیان واپی مسجد کیس میں چاہے وہ مسلم پرسنل لاء بورڈ ہو یا جمیعت علماء ہند ہو،وہ جس انداز سے کیس کو لڑنا چاہتے ہیں یہ امت کے سامنے ہے انہیں اس سےکوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون کیا سوچتا ہے؟، امت کیا چاہتی ہے؟،میں جو گزارشات کررہا ہوں اس کا مخاطب میرا قاری اور عام مسلمان ہیں، بحرحال۔۔۔
گیان واپی مسجد کے تحفظ اور بت پرستوں کی گندی نظر سے مسجد کو بچانے کے لیے سب سے پہلی گزارش یہ ہیکہ دن و رات کے چوبیس گھنٹے مسجد کے اندر و باہر پہرہ دیا جائے،کیوں کہ حدیث کی رو سے مومن ایک بل سے دو بار ڈسا نہیں جا سکتا،ماضی کا تجربہ بتاتا ہیکہ بابری مسجد پر پولس کے پہرے کے باوجود رام کی مورتیاں رات کے پہر مسجد میں رکھی گئیں، یہی چال آج بھی کھیلی جا سکتی ہے ،اور کسی بھی وقت مسجد کے منبر و محراب سے مورتیاں برآمد ہو سکتی ہیں، جو لوگ ایک پھوارے کو دن دہاڑے اور ساری دنیا کے سامنے ڈھٹائی سے شولنگ ثابت کرنے پر ڈٹ جائیں ان سے کچھ بھی توقع کی جا سکتی ہے،اس لیے کم از مسجد کی انتظامیہ کی طرف سے دس سے بیس نوجوانوں کو مسجد کی حفاظت کے لیے طئے کیا جائے، اگر مجھے مفت میں حج کا موقع ملے اور اسی وقت مسجد کی حفاظت کے لیے میرا نام طئے کیا جائے تو میں گیان واپی مسجد جاؤں گا۔
2)دوسری تجویز یہ ہیکہ پنج وقتہ نماز و جمعہ میں زیادہ سے زیادہ لوگ مسجد پہنچیں تاکہ بت پرستوں کی بد روحیں،وہاں ڈیرا نا ڈال سکے،یاد رکھیے ہماری ذرا سی کوتاہی عدالت کو مسجد پر قفل ڈالنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔
3) مسجد کے فریق کے طور پر جو لوگ کیس لڑرہے ہیں،ماضی میں انہوں نے بابری مسجد کو بت پرستوں کو تحفے میں دیا ہے اور جمہوری اقدار و عدلیہ کے قصیدے پڑھنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا،ان لوگوں پر کوئی اعتبار نہیں کیا جا سکتا، ان دنوں ہوئی مسلم پرسنل لاء کی ایکزیکیٹو باڈی کی میٹنگ میں ایک ایسی کوشش کا فیصلہ کیا گیا جس کے تحت ریاستی حکومتوں اور دیگر سیاسی پارٹیوں سے 1991 میں عبادت گاہوں پر بنے ایکٹ پر اپنا موقف واضح کرنے کے لیے کہا گیا یہ بات ایسی ہے کہ بر سر اقتدار جماعت کے لیڈران اور مسجد پر قبضہ کرنے والے لوگ خود چاہتے ہیں کہ اس قانون میں ترمیم کی جائے جو بالکل بھی نا ممکن بات نہیں ہے پھر ہماری طرف سے یہ راہ آسان کرنا کتنی احمقانہ کوشش ہے۔اسی لیے بااثر افراد کو چاہیے کہ مسجد کے کیس میں شامل کمیٹی میں، مسجد کے بارے میں بے لاگ و مضبوط موقف رکھنے والے افراد کو شامل کیا جائے،میں اگر کچھ لوگوں کے نام بتاؤں تو یہ جانب داری ہوگی۔
4)مسجد سے متعلق عدالت کے کسی بھی غاصبانہ فیصلے کو مقامی و ملک کے سارے مسلمانوں کی طرف سے رد کردیا جائے اسی صورت میں عدالت کا فیصلہ قابل قبول ہوگا جو مسجد کے حق میں آئے،عدالت کے فیصلے کو رد کرنے اور مسجد کے تحفظ کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے احتجاج ۔
جب ہم نے سی اے اے اور این آر سی کے خلاف منظم احتجاج کا تجربہ کردیا،کسان یونین نے کسانوں کے خلاف بنے کالے قوانین کو ختم کرانے کے لیے 750 سے زیادہ جانوں کی قربانیاں پیش کردی تو اس بات سے مفر کیوں کر کیا جا سکتا ہے کہ گیان واپی مسجد کی حفاظت اور اس کو بت پرستوں اور کفر کے علمبرداروں کی نظر بد سے بچانے کے لیے عام احتجاج اور جب تک عدالت کا فیصلہ مسجد کے حق میں نہیں آجاتا مستقل احتجاج منظم کرنے کی اشد ضرورت ہے، اور اسی طرح مسلمانوں کی مسجد سے محبت و عقیدت کی اہمیت بھی عدلیہ اور حکومت کو سمجھ آئے گی
یاد رکھیے جدوجہد میں زندگی ہے اور جمود و سکوت میں موت، مزاحمت کی راہ پر چل کر دنیا کی کئی قوموں نے اپنے وجود و شناخت کو باقی رکھا ہوا ہے اور جہاں اپنی بقاء کی خاطر جدوجہد اور مزاحمت نے دم توڑا وہی سے غلامانہ اور ذلت و نکبت کی زندگی کا آغاز ہوجایا کرتا ہے۔
اسی سلسلے میں ایک اہم گزارش ملک و عرب ممالک میں قیام پذیر ہندوستانی مسلمانوں سے ہیں، کہ وہ جس جگہ رہتے ہیں، وہ ہندوتوادی دہشت گردوں اور ان کی سر پرست حکومت کے مسلمانوں کے خلاف ناپاک مقاصد اور مساجداللہ سے متعلق مذموم ارادوں کو آزاد میڈیا اور حکمرانوں و عوام تک پہنچائیں، کیوں کہ بھارت کے وسیع سطح پر مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی و تجارتی تعلقات استوار ہیں اور اسی تعلق کو بچانے کے لیے بابری مسجد کی شہادت کے وقت کانگریس گورنمنٹ نے مسلم وزیروں کو مسلم ممالک کے دورے کراکر یہ یقین دلانے کی کوشش کی تھی کہ بابری مسجد کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا اور جو نقصان ہوا بھی اس کی جلد بھرپائی کی جائے گی،آج بھی اسی قسم کے بلکہ ان سے بھی بد ترین قسم کے منافق چہروں کو وہی سب کچھ کرنے لگایا جا سکتا ہے۔
عزم کیجیے،فیصلہ کیجئے، اللہ کے گھر کی حفاظت میں آپ کا کیا کردار ہوگا،