ہندپاکستان سیریز دنیا کی سب سے ہٹ سیریز ہو گی: وقار

9

waqr-1584456602نئی دہلی، یکم جون (یو این آئی ) پاکستان کے سابق کپتان اور فاسٹ بولر وقار یونس کا کہنا ہے کہ ہندستان اور پاکستان کے درمیان کرکٹ سیریز ہونی چاہئے اور دونوں ملکوں کے درمیان سیریز دنیا کی سب سے ہٹ سیریز ثابت ہوگی۔ہندستان بمقابلہ پاکستان نے آخری بار 2012۔2013میں دو طرفہ سریز کھیلی تھی جس کے بعد کچھ سیاسی کشیدگی کے سبب ہندستان اور پاکستان کے کھیل رشتے صرف آئی سی سی اور كونٹی نینٹل ٹورنامنٹ تک سمٹ کر رہ گئے ہیں۔


وقار نے گلوفینس کی سیریز کیو20 میں کرکٹ شائقین کے سوالات پر کہاکہ اگر آپ دونوں ملکوں میں جا کر کسی بھی کرکٹ پرستار سے پوچھیں گے کہ ہندستان اور پاکستان کو آپس میں کھیلنا چاہیے تو تقریبا 95 فیصد لوگ یہی کہیں گے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ ہونا چاہئے۔ اس کا نام چاہے ‘عمران-کپل’ سریز بنا لیں یا ‘انڈی پینڈنس سریز’، یا پھر کچھ بھی نام دیا جائے، وہ دنیا کہ سب سے ہٹ کرکٹ سریز ہوگی۔


سابق پاکستانی کپتان نے ساتھ ہی کہا کہ ایسے میچ باقاعدہ طور پر ہونے چاہئے تاکہ کرکٹ شائقین اس سے محروم نہ رہیں ۔ انہوں نے کہاکہ میں ہندستان اور پاکستان کو دو طرفہ سریز کھیلتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ میں یہ نہیں بتا سکتا کہ میچ مقام کیا ہوگا لیکن یقینا شائقین یہ میچ اپنے اپنے ملک میں دیکھا جانا زیادہ پسند کریں گے۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ آنے والے چند سالوں میں ہندستان اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ سریز ممکن ہے۔


وقار یونس نے سابق ہندستانی اور پاکستانی کپتانوں گوتم گمبھیر اور شاہد آفریدی کو مشورہ دیا ہے کہ انہیں سوشل میڈیا پر تکرار کے بجائے سمجھداری اور نرمی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔وقار نے گلوفینس کے چیٹ شو ‘کیو 20’ میں کہا کہ گمبھیر اور آفریدی کے درمیان سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کو لے کر تبصرہ بہت طویل عرصے سے چل رہا ہے جو انہوں نے بھی دیکھا ہے۔ شائقین کے سوالوں پر وقار نے فینس کے ذریعے کئے گئے سوالوں پر اپنے جواب دئے جس کی ویڈیوز گلوفینس کے ٹوئٹر ہینڈل پر ریلیز کی جائے گی۔سابق پاکستانی کپتان وقار نے کہاکہ مجھے لگتا ہے کہ شاہد اور گوتم کا ایک دوسرے پر طنز کا سلسلہ کافی طویل کھنچ گیا ہے۔ دونوں کو سب سے پہلے پرسکون رہنے کی ضرورت ہے اور اس کو سمجھداری اور سہولت سے سنبھالنے کی ضرورت ہے۔ دونوں کو دنیا کے کسی بھی حصے میں مل بیٹھ کر ٹھنڈے دماغ سے بات کرنی چاہئے۔
وقار نے اپنے تجربہ کار نظریہ سے کہاکہ اگر سوشل میڈیا پر اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہا تو لوگوں کو ان سب کو دیکھ کر کافی مزہ آئے گا اور لوگ ان کا مزہ لے رہے ہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ دونوں کرکٹرز کو سمجھداری سے کام لینا چاہئے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے بالنگ کوچ وقار یونس نے کہا کہ کوویڈ 19 کی وجہ سے ہر کھیل پر اثر پڑ رہا ہے، کھیل اور کھلاڑیوں پر ہی نہیں بلکہ شائقین کھیل پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں، کیونکہ عوام کھیلوں کے لائیو مقابلے صبح و شام دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں اور اب جب انہیں دیکھنے کو کچھ نہیں مل رہا تووہ پریشانیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔
‏سابق فاسٹ بولر نے کہا کہ اگر کھلاڑی اور کوچ کی حیثیت سے بات کروں تو میں سمجھتا ہوں کہ سب سے متاثر کھیل کرکٹ ہو گا، کیونکہ اس میں بال ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ جاتی ہے، کھلاڑی تھوک اور پسینے سے گیند کو چمکاتے ہیں، جبکہ ایسی ہی چیزوں سے کورونا وائرس کے پھیلنے کا خدشہ سب سے زیادہ ظاہر کیا جاتا ہے، اسی لیے میں کہتا ہوں، کورونا وائرس کی وجہ سے کرکٹ کے اصل رنگ پھیکے پڑ جائیں گے اور نئے قوانین اور روایات کھلاڑیوں کے لیئے ایک جھٹکا ثابت ہوں گی۔
‏انہوں نے کہا کہ بیٹ اور بال میں تواز ن قائم رکھنے کی ضرروت ہے ۔ابھی بال کو اثر سے پاک کرنے کی بھی بات ہو رہی ہے، اگر ایسا کیا جاتا ہے تو اس سے بھی گیند بازوں کو نقصان ہو گا، ان کا فائدہ مزید کم ہو جائے گا، کیونکہ اس سے بھی بال سوئنگ نہیں ہو گی ایسا حل نکالنا ہو گا جس سے توازن قائم رہے۔پہلے ہی فلیٹ پچ کی وجہ سے گیند بازوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بال ڈس انفیکٹ کرنا ہے تو پہلے اس کی آزمائش کی جائے۔‏وقار یونس نے کہا کہ اصل دھچکا سیلی بریشن کے حوالے سے ہو گا۔ کھیل میں اصل مزہ ہی کامیابی حاصل کرنے کے بعد جشن منانے میں ہے، جب یہ ختم ہو جائے گا یہ کھلاڑیوں کے لیئے دھچکے سےکم نہیں ہے، کھلاڑی ہائی فائیو کرتے ہیں، فزیکل کانٹیکٹ ہوتا ہے، سنچری بنانے کے بعد گلے ملتے ہیں ، یہ سب نہ کرنا کھلاڑیوں کے لیئے بہت مشکل ہو گا، لیکن احتیاط کرنا پڑے گی، لیکن اس سے رنگ ضرور پھیکا پڑ جائے گا۔