• 425
    Shares

نیو دہلی :یتیم ہندو لڑکی کی سرپرستی کرنے والا مسلمان شخص سوشل میڈیا صارفین کا دل جیتنے میں کامیاب ہوگیا۔بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والی اس یتیم لڑکی کی شادی بھارتی شہر وجے پور میں 31 جولائی کو طے پائی۔ کہانی میں جو چیز قابل ذکر ہے وہ یہ ہے کہ 18 سالہ پوجا کی سرپرستی بھارت سے ہی تعلق رکھنے والے محبوب مسلی نامی مسلمان شخص نے کی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق لڑکی ایک دہائی قبل یتیم ہوئی تھی جس کے بعد رشتے داروں کی جانب سے لڑکی کی کفالت سے انکار کردیا گیا تاہم یہ ذمہ داری محبوب مسلی نے بخوشی قبول کرلی اور ایک باپ کی حیثیت سے لڑکی کی 10سال دیکھ بھال کی۔بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محبوب مسلی کا کہنا تھا کہ یہ میری ذمہ داری تھی کہ میں اس لڑکی کی شادی اسی کے مذہب سے تعلق رکھنے والے کسی شخص سے کراؤں۔ محبوب مسلی کے مطابق پوجا ایک دہائی تک میرے گھر میں رہی لیکن ہم نے کبھی بھی پوجا کو اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے یا کسی مسلمان مرد سے شادی کرنے پر مجبور نہیں کیاکیوں کہ یہ ہمارے مذہب کے خلاف ہے۔جبکہ گزشتہ برس بھارت میں ایک مسلمان لڑکی کو اس لیے زندہ جلا دیا گیا تھا کہ اس نے ایک ہندو لڑکے سے شادی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

یڈیا کے مطابق یہ انسانیت سوز واقعہ ریاست بہار کے ضلع وِشالی میں پیش آیاجہاں ایک 20 سالہ لڑکی کو 3 ہندو نوجوانوں نے مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگادی۔ رپورٹ کے مطابق 20 سالہ گلنازکو ستیش نامی نوجوان کئی ماہ سے مسلسل تنگ کررہا تھا اور شادی کرنے پر اصرار کررہا تھا۔آگ کے باعث گلناز کے جسم کا 75 فیصد حصہ بری طرح جھلس گیا تھا اور اسپتال میں 15 روز بعد وہ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسی۔موت سے قبل اپنے ویڈیو بیان میں گلناز نے بتایا کہ ستیش اسیکئی دنوں سے تنگ کررہا تھا جس پر ایک دن اس نے صاف کہہ دیاکہ وہ مسلمان ہے اور اس سے شادی نہیں کرسکتی جس کے بعد جب وہ کچرا پھینکنیباہر گئی تو ستیش نے دیگر 2 افراد کے ہمراہ اس پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگادی۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔