عید کے ایسے تحفہ کو مسلمان تصور بھی نہیں کر سکتے تھے اور وہ بھی ایسے ماحول میں جب پورے ملک میں فرقہ واران کشیدگی اپنے شباب پر ہے۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بہترین مثال پیش کرتے ہوئے دو ہندو بہنوں نے مسلمان بھائیوں کو عید کا تحفہ دیا ہے۔ انہوں نے اپنے مرحوم والد کی خواہش کے مطابق تقریباً چار بیگھہ زمین عیدگاہ کی توسیع کے لیے عطیہ کی ہے۔ دونوں شادی شدہ بہنوں کے اہل خانہ کاشی پور پہنچ گئے ہیں اور زمین کا قبضہ عیدگاہ کمیٹی کو دے دیا ہے۔

عید گاہ کمیٹی نے بنیادیں کھود کر باؤنڈری کا کام بھی شروع کر دیا ہے۔ واضح رہے اس زمین کی مارکیٹ قیمت 1.5 کروڑ روپے سے زیادہ بتائی گئی ہے۔ ان دنوں جب لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر آمنے سامنے آ رہے ہیں، اس وقت دو ہندو بہنوں نے عید سے عین قبل مسلمان بھائیوں کو تحفہ دے کر معاشرے کے سامنے ایک مثال قائم کی ہے۔
مرحوم لالہ برجنندن پرساد رستوگی کے خاندان کے پاس کاشی پور میں عیدگاہ میدان کے قریب زرعی زمین ہے۔ اس زمین پر تقریباً چار بیگھہ ایکڑ نمبر 827 (1) اور (2) عیدگاہ کی حدود سے متصل ہے۔ برجنندن یہ زمین عیدگاہ کے لیے عطیہ کرنے کے لیے تیار تھے، لیکن یہ زمین ان کی دو بیٹیوں سروج رستوگی اور انیتا رستوگی کے نام تھی۔

جس کی وجہ سے وہ شادی شدہ بیٹیوں سے عیدگاہ کے لیے زمین دینے کے لئے کہہ بھی نہیں سکتے تھے۔ تاہم، انہوں نے سابق رکن پارلیمنٹ ستیندر چندر گوڈیا سے اپنے ارادے کا ذکر کیا تھا۔ برجنندن پرساد رستوگی کا عیدگاہ کمیٹی کے عہدیداروں سے قریبی تعلق تھا۔ وہ ہر سال عیدگاہ کے لیے چندہ دیا کرتے تھے۔ برجنندن رستوگی کا انتقال 25 جنوری 2003 کو ہوا اور ان کے انتقال کے بعد معاملہ سرد خانے میں چلا گیا۔

بعد میں جب بیٹیوں سروج رستوگی اور انیتا رستوگی کو والد کی خواہش کا علم ہوا تو انہوں نے زمین عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ بھائی راکیش رستوگی کی مدد سے کمیٹی کے صدر حسین خان سے رابطہ کیا اور عیدگاہ سے متصل زمین عطیہ کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس وقت سروج کا خاندان میرٹھ میں رہتا ہے اور انیتا کا خاندان دہلی میں رہتا ہے۔ دونوں بہنوں کی رضامندی پر سروج کے شوہر سریندر ویر رستوگی اور بیٹا وشواویر رستوگی اور انیتا کے بیٹے ابھیشیک رستوگی اتوار کو کاشی پور پہنچے۔

سماجی کارکن پشپ اگروال، راکیش رستوگی، عیدگاہ کے صدر حسین خان کی موجودگی میں لیکھ پال کو بلایا گیا اور زمین کی پیمائش کی گئی اور عیدگاہ سے ملحقہ زمین کا قبضہ کمیٹی کو دے دیا گیا۔ دونوں بہنوں کے اہل خانہ نے کہا کہ انہوں نے آنجہانی برجنندن رستوگی کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے ایسا کیا ہے۔