سکیولر جمہوری ہندوستان کے ویژن کی دھجیاں اُڑا دی گئیں، برطانیہ کو ہندوستان سے چوکس رہنے برطانوی تھنک ٹینک کا مشورہ

نئی دہلی : برطانیہ کی تھنک ٹینک نے خبردار کیا کہ ہندوستان کے ساتھ برطانیہ کے تعلقات دیرینہ ہونے کے باوجود آنے والے دنوں میں مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ ہندوستان میں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتی طبقات کے حقوق کو پامال کیا جارہا ہے۔ پنڈت جواہر لال نہرو کے نظریات کے مطابق سکیولر اور جمہوری ہندوستان کے ویژن کی دھجیاں اُڑائی جارہی ہیں۔ اکثریتی طبقہ میں عدم رواداری بڑھتی جارہی ہے جو تشویش کا باعث ہے۔ ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان مابعد بریگزٹ تعلقات کو ازسرنو ترتیب دیا جارہا ہے۔ ب

رطانیہ کے بڑے تھنک ٹینک نے حکومت برطانیہ کو خبردار کیا کہ وہ ہندوستان کو زیادہ توجہ دینے سے پہلے محتاط رہے۔ برطانوی حکومت کو ان تعلقات کی شکل میں براہ راست قومی مفادات کو ملحوظ رکھنا بھی ضروری ہوگا، چاہے یہ معاشی ہو یا سفارتی آگے چل کر ہندوستان کے ساتھ مل کر مشکلات پیدا کریں گے۔ چھاتھم ہاؤز کی نئی رپورٹ کے مطابق ’’عالمی برطانیہ، عالمی بروکر‘‘ کے عنوان پر کئی سوالات اٹھائے گئے کہ آیا برطانیہ اپنی مضبوط میراث کے باوجود وہ دنیا بھر میں اپنے اثر و رسوخ سے محروم ہونے سے گریز کرنے کے قابل ہوگا۔ اس تھنک ٹینک کا احساس ہے کہ تمام خرابیوں کے باوجود برطانیہ اب بھی دیگر ممالک پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔ چند ممالک ایسے ہیں، اس کیلئے قومی اثاثہ بن سکتے ہیں۔

سفارتی، فوجی، انٹلیجنس اور انسانیت کی بنیاد پر برطانیہ اپنی سمندری سرحدوں کو پھلانگ کر مفادات کو ملحوظ رکھتے ہوئے آگے بڑھ سکتا ہے۔ برطانیہ کی حکمت عملی پر مبنی پالیسی میں تبدیلی کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کو ہندوستان کے ساتھ قریبی اور مضبوط تعلقات فروغ دینے سے پہلے زیادہ سے زیادہ حقائق کا جائزہ لینا ہوگا، کیونکہ ہندوستان ان ممالک میں شامل ہوگیا ہے جو برطانیہ کیلئے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔ اس میں چین، سعودی عرب اور ترکی شامل ہیں۔ ان چاروں ممالک کو ’’چار مشکلات‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ برطانیہ کیلئے ہندوستان کی اہمیت ناقابل قیاس ہے، لیکن اس کو اب اپنے تعلقات گہرے بنانے سے پہلے محتاط ہونا چاہئے۔ ہندوستان کی طرف سے جو کچھ بھی وعدے کئے جارہے ہیں۔ ان کو پورا کیا جانا ضروری ہے۔ برطانوی نوآبادیاتی حکمرانی کی میراث نے تعلقات میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔ اس کے برعکس امریکہ اب ہندوستان کیلئے نہایت ہی اہم ترین اسٹراٹیجک پارٹنر بن گیا ہے۔ امریکی نظم و نسق نے حال ہی میں برطانیہ کو کنارے کرکے ہندوستان کے ساتھ سکیورٹی تعلقات مضبوط بنائے ہیں۔ یہ رپورٹ ہندوستان کی موجودہ پیچیدہ صورتحال اور ہندو قوم پرستانہ سیاست کا جائزہ لینے کے بعد تیار کی گئی ہے۔ کئی ممالک نے ہندوستان میں آزادانہ تجارت اور بیرونی سرمایہ کاری کے بارے میں اپنے تحفظات ِ ذہنی کا اظہار کیا ہے۔ مزید برآں ہندوستان کی ہندو قوم پرست بی جے پی نے مسلمانوں اور دیگر طبقات کو کمزور کرنا شروع کیا۔ برطانوی خارجہ پالیسی کو اب ازسرنو تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ نئی پالیسیوں کے تحت انڈو۔ پیسیفک فرنٹ پر لانے کی ضرورت ہے۔

BiP Urdu News Groups

اپنی رائے یہاں لکھیں