سری نگر۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والی 25سالہ عائشہ عزیز ملک کی سب سے کم عمر خاتون پائلٹ بن کر کشمیری عورتوں کے لئے حوصلہ افزائی اور خود مختاری کا ذریعہ بنی ہیں۔

سال 2011میں عزیز سب سے کم عمر ہوابازطالب علم بنیں تھیں جس کو 15سال کی عمر میں لائسنس ملا اور وہ اسی سال میں روس کے اسکول ائیر بیس میں ایم ائی جی29جٹ اڑانے کی تربیت حاصل کرنے کے لئے چلی گئیں تھیں۔

بی ایف سی سے گریجویٹ
بعدازیں ممبئی فلائنگ کلب(بی ایف سی) سے انہوں نے ہوا بازی میں گریجویٹ کیا اور 2017میں کمرشیل لائسنس حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔

اے این ائی سے بات کرتے ہوئے عزیز نے کہاکہ ان کاماننا ہے کہ کشمیری عورتیں پچھلے کچھ سالوں میں بہتر ترقی کی ہیں اور تعلیم کے میدا ن میں غیرمعمولی مظاہرہ کیاہے۔انہوں نے کہاکہ ”میں سمجھتی ہوں کشمیری عورتیں بہتر کام کررہی ہے بالخصوص تعلیم کے میدان میں۔ ہر دوسری عورت کشمیر میں اپنا ماسٹر یا پھر ڈاکٹریٹ کررہی ہیں۔

وادی کے لوگ بہت بڑے کام کررہے ہیں“۔ملازمت کے لئے درکار عجیب اوقات اور کام کے متحرک ماحول کے باوجود مذکورہ 25سالہ کا کہنا ہے کہ وہ ان چیالنجوں کے لئے کافی خوش ہیں۔

انہوں نے اے این ائی کو بتایاکہ”میں نے اس شعبہ کاانتخاب اس لئے کیا ہے کیونکہ مجھے کم عمر سے ہی سفر کا شوق رہا ہے اور مجھے اڑان بھرنے میں کافی لطف آتا ہے۔

کئی لوگوں سے ملاقات کاموقع ملتا ہے۔ اسی وجہہ سے میں ایک ہوا باز بنی ہوں۔ اس میں کچھ چیالنج ضرور ہے کیونکہ یہ 9-5کا عام کام نہیں ہے۔

کوئی مقررہ طریقہ کار نہیں ہے اور اسی کے ساتھ میں نئے مقامات ک سامناکرنے‘ مختلف اقسام کے موسم اور نئے لوگوں سے ملاقات کے لئے بھی تیارہوں“۔

انہوں نے مزیدکہاکہ ”اس پیشہ میں ایک ذہنی صلاحیت بہت ہی مضبوط ہونے چاہئے کیونکہ آپ200مسافرین کو لے کر اڑرہے ہیں اوریہ بڑی ذمہ داری ہے“

والدین کی شکر گذاری
انہوں نے اپنے والدین سے اظہار تشکر کیا‘ جنھوں نے ان کے اس خواب کو پورا کرنے میں ان کی مدد کی ہے۔انہوں نے کہاکہ ”میں بہت خوش قسمت ہوں کہ میرے پاس ایسے والدین ہیں جنھوں نے ہر چیز میں میری مدد کی ہے۔

ان کے بغیر آج میں جہاں ہوں وہاں پر میرا ہونا ممکن نہیں تھا۔

میں مسلسل پیشہ واران اور ذاتی سطح پر ترقی کی متمنی ہوں۔ میرے والد میرے لئے سب سے بڑی مثل راہ ہیں“۔


اپنی رائے یہاں لکھیں