• 425
    Shares

لکھنؤ: افغانستان میں طالبان کا تسلط قائم ہونے کے بعد دنیا کے ساتھ ہندوستان میں بھی مختلف طرح کے بیان دئے جا رہے ہیں۔ مشہور شاعر منور رانا نے طالبان پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو بے رحمی اور ظلم افغانستان میں کیا جا رہا ہے، اس سے کہیں زیادہ بے رحمی تو یہاں ہندوستان میں میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے رامراج تھا لیکن اب کامراج ہے، اگر رام سے کام ہے تو ٹھیک، ورنہ کچھ نہیں۔

 

منور رانا نے کہا کہ ہندوستان کو طالبان سے خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ افغانستان کا ہندوستان سے ہزاروں برس کا تعلق رہا ہے اور اس نے ہندوستان کو کبھی نقصان نہیں پہنچایا۔ یہاں تک کہ جب ملا عمر کی حکومت تھی تو اس وقت انہوں نے بھی ہندوستان کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا، کیونکہ اس کے باپ-دادا نے ہندوستان سے ہی کما کر لے گئے تھے۔

منور رانا نے کہا کہ جتنی اے کے-47 طالبان کے پاس نہیں ہوں گی اس سے زیادہ تو ہندوستان میں مافیا کے پاس ہیں۔ طالبان کو اسلحہ چھین کر اور ان سے مانگ کر لاتے ہیں لیکن ہمارے یہاں مافیا تو ہتھیار خریدتے ہیں۔اتر پردیش حکومت کی جانب سے دیوبند میں اے ٹی ایس سنٹر کھولنے پر منور رانا نے کہا کہ جب تک یہ حکومت ہے یہ کچھ بھی کر سکتی ہے۔ لیکن موسم ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ تبدیلی مذہب جیسے مسائل ملک کو برباد کر دیتے ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک پہلے جیسا ہو ہو جائے۔

 

منور رانا نے کہا کہ اتر پردیش میں بھی تھوڑے بھہت طالبانی ہیں، یہاں نہ صرف مسلمان ہیں بلکہ ہندو طالبان بھی موجود ہیں۔ دہشت گرد کیا صرف مسلمان ہیں، ہندو بھی ہوتے ہیں! مہاتما گاندھی سیدھے تھے اور ناتھورام گوڈسے طالبانی تھا۔ یوپی میں بھی طالبان جیسا کی کام کیا جا رہا ہے۔حال ہی میں سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ شفیق الرحمن برق نے بھی طالبان جنگجووں پر بیان دیتے ہوئے ان کا موازنہ موازنہ جنگ آزادی کے مجاہدین سے کیا تھا۔ جس کے بعد اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔