Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

ہندوستان میں مسلمانوں کا عرش حیات تنگ- از: جاویدجمال الدین

IMG_20190630_195052.JPG

ہندوستان میں گزشتہ دیڑھ دومہینے سے کووڈ19یعنی کورونا وائرس نے اپنے پیر پساردیئے ہیں اور ملک میںتشویش ناک اطلاعات موصول ہورہی ہیں ،لیکن ایک خبر نے صورتحال کو انتہائی سنگین بنا کر رکھ دیا ہے ،اور تبلیغی جماعت کے مرکز میں لاک ڈاﺅن کی وجہ سے پھنس گئے دیڑھ دوہزار مسلمانوں کے معاملے کو ایک مبینہ سازش کے تحت اتنا اچھالا گیا اور نیوزچینلز نے جو گھناونا رول اداکیاہے ،اس واقعہ سے ملک میں اس بات کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ مسلمانوں کے لیے اس ملک میں عرش حیات تنگ کرنے کی سازش رچی جارہی ہے ،بلکہ اس کی شروعات کو ایک عرصہ سے ہوچکی ہے لیکن اس واقعہ کے بعدملک کے مختلف حصوں اور خصوصی طورپر اترپردیش اور بہار وغیرہ سے اس قسم کی انتہائی تشویش ناک خبریں موصول ہوئی ہیں کہ کئی شہروںمیں مسلمانوںکی نقل وحمل پر پابندی عائد کردی گئی ہے ۔اترپردیش کے ضلع بستی کے چھاونی علاقے کے ایک گاو ¿ں پرتاپ پور گاو ¿ں میں مسلمانوںکے گاﺅںمیں داخلے پر پابندی سے متعلق بورڈ آویزاں کردیاگیا ،حالانکہ پولیس نے دوافرادپرنس عرف پرشانت سنگھ اور بھون نشاد کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔ لیکن یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ تبلیغ جماعت کے معاملے کو ٹی وی نیوز چینلز سے اتنا زہر اگلاگیا اور اشتعال انگیزی کی گئی کہ یوپی کے متعددشہروںاور قصبوں میں یہی ماحول نظرآرہا ہے اور اکثریتی فرقے کے اور وہ بھی تعلیم یافتہ طبقہ کے ذہن میں یہ بات نقش کرگئی ہے کہ کورونا وائرس صرف اور صرف مسلمانوں کی وجہ سے ملک میں پھیلا ہے ۔ اس کی وجہ سے ایسے سبزی فروش،اورروزمرہ کی اشیاءفروخت کرنے والے مسلمان متاثر ہورہے ہیں ۔اور اگر کوروناوائرس کے تعلق سے فرقہ وارانہ پروپیگنڈہ جاری رہا تو ملک میں مسلمانوں کے لیے چھوٹے شہروںاور دیہی علاقوںمیں کافی تشویش ناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔معاشرے میں’ ہم اوروہ‘ کا ماحول بننے سے نہیں روکا جاسکتا ہے۔
حال میں دہلی میں مرکز کے واقعہ کو دہلی حکومت ،پولیس اور انتظامیہ نے جس اندازمیں حل کرنے کی کوشش کی اور جس اندازمیں مبالغہ آمیز بیانات سامنے آئے ہیں ، سوشل میڈیا اور ٹیلی ویزن پر مسلمانوں کے خلاف زہر آلود پروپیگنڈہ ہوا۔اس کے پیش نظر کورونا وائرس کے سلسلہ میں ارد گرد تعصب کی دیوار کھڑی ہوچکی ہے ۔اور اس کے خطرناک نتائج مستقبل میں سامنے آنے کا خطرہ پیدا ہوچکا ہے۔جیسا کہ پہلے ذکر کیا جاچکا ہے کہ جگہ جگہ مسلمان پھل بیچنے والے ، چھوٹے دکانداروں اور چھوٹا موٹا کام کرنے والوں کے خلاف مہم شروع کی جاچکی ہے اور نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان دکانداروں اور کارکنوں کو معاشرے میں پابندی عائد کرنے پر اتفاق کیاجارہا ہے۔چاروں طرف جس منصوبہ بند طریقہ سے مسلمانوں کے بارے میں بہت سی افواہوں کو پھیلایا گیا اور حکومت وقت نے بڑی خوبصورتی سے اپنی ناکامی کو پس پردہ ڈالنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔یعنی ملک بھر میں اگر مسلمانوں کے ساتھ خصوصی طورپر محنت کش طبقے اور دفاتر میں برسرروزگار مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک میں اضافہ ہوگیا تو حالات تشویش ناک رُخ اختیار کرسکتے ہیں۔
مسلمانوںکو مذکورہ حالات کا سامنا انتہائی ثابت قدمی سے کرنا ہوگا اور اس کا جو اب مو ¿ثر طریقے سے دینا ہے نہ کہ جذبات کی رومیں نہیں بہنا ہوگااگر یہ سلسلہ جاری رہا تو معاشی پسماندگی کی ایک نئی شکل ابھرے گی۔کیونکہ مسلمانوں کی اکثریت اپنی روزی روٹی غیرمنظم شعبوں اور خود روزگار منحصر ہے۔ شہروںمیں ان کی اکثریت خودروزگار میں منحصر ہے جبکہ ملازمتوںاور سرکاری ملازمتوں میں ان کا تناسب کافی کم ہے۔ملک کی معیشت میں ان کی حصہ داری نہ کے برابر ہے ۔مسلمانوں کی تعلیمی حالت کے بارے میں حقیقت حال سے سبھی بخوبی واقف ہیں ،کچھ عرصہ قبل سچرکمیٹی نے اپنی رپورٹ میں حکومت کو آئینہ دکھا دیا تھا کہ مسلمان ملک کے دلتوں اور پسماندہ افراد سے بھی زیادہ بے حال ہے اور انکی پسماندگی انتہائی تشویشناک کہی جاسکتی ہے ،لیکن ایک عرصہ گزر جانے کے باوجودمسلمانوں کو انکا حق دینے سے کوتاہی برتی گئی ہے۔پہلے کانگریس نے بڑے دل کا مظاہرہ نہیں کیا اور نہ ہی کبھی کچھ زیادہ کرنے کی کوشش کی ،حالانکہ ووٹ بینک کا الزام ضرور لگ گیا اوراس چیم کو بی جے پی نے بھنانے میں کامیابی حاصل کی ہے ، مسلمان 2014سے منظم امتیازی سلوک کا شکار بن رہے ہیں،اس موقع پر سرکاری اور نجی سیکٹر کی ملازمتوں اور اعلیٰ عہدوں پر کتنے مسلمان فائز ہیں ،اس بحث میں پڑنے کا موقعہ نہیں ہے ،لیکن ہاں اتنا کہا جاسکتا ہے کہ ان کی گنتی انگلیوں پر کی جاسکتی ہے ،ہاں اس سچائی سے منہ نہیں موڑکرسکتے ہیں کہ دوسری سرکاری ملازمتوں میں بھی مسلمان بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ حالانکہ حالیہ دہائیوں میں حقیقت میں یہ مسلمانوں کی ترقی مختلف شعبوںمیں کم ہوئی ہے،خصوصی طورپر تعلیم میں 1990کی دہائی میں بہتری کے بعد پھر وہیں پہنچ چکے ہیں۔اور موجودہ حالات میں اگر محنت کش طبقے کے مسلمانوں کے خلاف یہ امتیازی سلوک معاشرے میں گرفت پکڑلیتا ہے تو اس کے نتائج تباہ کن ثابت ہوں گے۔پہلے بابری مسجد کی شہادت کے بعد ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے نتیجے میں مسلمان ملی جلی آبادیوں اور بستیوں سے نکل کر اپنی بستیوں میں آکر آباد ہوگیاتھا ،اور ان میں بڑی تعداد لبرل خیالات والے مسلمانوں کی بھی تھی۔اس طرح کئی دہائیوں سے مسلمان اور ہندووں نے خود کو اپنے اپنے علاقوںمیں بانٹ لیا ہے ،یہ ممبئی جیسے کاسموپولیٹن شہر میں ہوا ہے اور اس تقسیم کو روکنے کی ارباب اقتدار نے کوشش نہیں کی ۔کانگریس بھی ناکام رہی تھی اور بی جے پی تو یہی چاہتی ہے۔
کورونا وائرس کی وباءکے دوران دہلی میںپیش آئے تبلیغ جماعت کے مرکز کے واقعہ کو جس اندازمیں پیش کیا گیا ،اس نے نسلی امتیاز میں اضافہ کردیا ہے ۔فی الحال لاک ڈاﺅن میں اس کا پتہ نہیں چل رہا ہے ،جب ممبئی میں لوکل ٹرینیں دوڑنے لگیں گی اور میونسپل کارپوریشن کی بسیں اور دہلی کی میٹروکے چلنے پر مسلم مسافروں کے ساتھ جو امتیازی سلوک ہونے والا ہے ،اس کا تصور کرکے روح کانپ جاتی ہے ،کیونکہ 1992-93میں ایک برقعہ پوش خاتون مسافراور کرتہ پاجامہ میں ملبوس داڑھی ٹوپی والے مسافروں کے ساتھ برادران وطن کے ایک طبقہ کا جو رویہ رہا ، آج بھی وہ مناظر آنکھوں کے سامنے گھوم جاتے ہیں۔
حالانکہ تبلیغ جماعت کے معاملہ میں بی جے پی صدرنڈا نے ورکرس کو قابل اعتراض بیان دینے سے منع کیا ہے ،لیکن ان کا آئی ٹی سیل اپنا کام جاری رکھطے ہوئے ہے اور ہمنوا نیوزچینل کو جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈہ کرنے سے روکنے کے لیے سرکاری سطح پر کوئی قدم نہیں اٹھایا گیاہے، جوکہ ایک افسوس ناک پہلو ہے۔پوری مسلم قوم کو موردالزام قراردینے کی کوشش کے سلسلے میں سرکاری بیان نہ آنا افسوس ناک پہلو ہے۔چینلز بے لگام ہوچکے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ 2014 میں مودی کی قیادت میں بی جے پی کے برسراقتدار آنے کے بعد ایسے عناصر نے سراٹھالیا جوکہ ایک ایجنڈے پر کئی عشرے سے کام کررہے ہیں اور سرگرم نظرآرہے ہیں۔حالانکہ مسلمانوں کو قریب لانے کے لیے سرکاری سطح پر چند قدم ضروراٹھائے گئے ،لیکن اس کے نتائج خاطرخواہ سامنے نہیں آئے ہیں۔معاشی طورپر انہیں قومی دھارے میں لانے کی کوشش کے طورپروزارت اقلیتی امور نے جگہ جگہ ہنرہاٹ کا اہتمام کرنا شروع کیا اور اس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔فروری میں خود وزیراعظم نریندر مودی نے دہلی پرگتی میدان میں منعقد کیے گئے ہنرہاٹ کا دورہ کیا اور مسلمان دستکاروں کے درمیان بھی وقت گزارکر مسرت کا اظہار کیا ،یاد رہے کہ 2019میں ایک سال قبل دوبارہ اقتدار میں آنے پر انہوںنے اقلیتی فرقہ کو اعتماد میں لینے کی بات ،پارلیمنٹ کے مرکزی ہال میں نومنتخب ایم پیز سے خطاب کرتے ہوئے کہی تھی۔لیکن تین طلاق اور کشمیر کے جھمیلے میں ایسے پھنسا دیئے گئے کہ ہندوستانی مسلمانوں کو اعتماد میں لینے کا انہیں موقعہ ہی نہیں ملا ۔دراصل مسلمان سیاسی طورپر کافی کمزور ہیں اور انکی یہی کمزوری انہیں معاشرتی اور معاشی طور پر بااختیار بنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔اس لیے تعلیم یافتہ مسلمانوں کوسیاسی و اقتصادی میدانوںمیں مسلمانوں کو سرخ روکرنے کے لیے منصوبہ بندی کرنا ہوگی، ورنہ سماجی و معاشی طورپر کوئی ساتھ نہیں دے گا۔حال میں تالی اور تھالی کے ساتھ پھر موم بتی اور دیا جلانے کے اعلانات پر اکثریتی فرقے نے جس انداز میں لبیک کہا ،اس سے مودی کی ملک میں کامیابی ثابت ہوتی ہے کہ ارباب اقتدار نے اکثریتی فرقے کو متحد کرنے میں ایک حد تک کامیابی حاصل کرلی ہے۔ایسے موقعہ پرمسلمانوں اور ان کی لیڈرشپ کو اپنا محاسبہ کرنا لازمی ہوگیاہے۔
javedjamaluddin
9867647741
Javed Jamaluddin,
Editor In Chief ./HOD

Contact :9867647741.
02224167741