ہندوستان میں اب چاول کی قیمت میں اضافہ کا اندیشہ

241

دنیا کے بازاروں میں چاول کی کمی مہنگائی کو مزید بڑھانے کی طرف اشارہ دے رہی ہے۔ اس بحران کی وجہ ہے ہندوستان کے کچھ علاقوں میں کم بارش کے سبب دھان کی بوائی میں کمی۔ ملک میں گزشتہ تین سالوں میں دھان کی زراعت کا بوائی علاقہ سب سے کم ہو گیا ہے۔ دراصل ہندوستان چاول کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک ہے، ایسے میں یہاں دھان کی بوائی کم ہونے سے چاول کی پیداوار کم ہوگی اور اس کا اثر گھریلو بازار کے ساتھ ساتھ ان ممالک پر بھی پڑے گا جہاں ہندوستان چاول برآمد کرتا ہے۔ پیداوار کم ہونے سے اس کی قیمتیں بھی بے تحاشہ بڑھ سکتی ہیں۔ اس کے آثار تو کچھ ریاستوں میں دکھائی بھی دینے لگے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق چاول کی پیداوار پر خطرہ ایسے وقت میں منڈلا رہا ہے جب دنیا بھر کے ملک خوردنی اشیاء کی لگاتار بڑھتی قیمتوں سے پریشان ہیں۔ ہندوستان میں اس سال اب تک دھان کی بوائی میں 13 فیصد تک کی کمی آ چکی ہے اور اس کی وجہ ہے ملک کے کچھ حصوں، خصوصاً بنگال اور اتر پردیش جیسی ریاستوں میں کم بارش ہونا۔ قابل ذکر ہے کہ صرف دو ریاستیں ہی مل کر ملک میں تقریباً ایک چوتھائی چاول کی پیداوار کرتی ہیں۔

چاول تاجروں کا ماننا ہے کہ ملک میں اس کی کم پیداوار جہاں مہنگائی کے ساتھ لڑائی کو کمزور کرے گی وہیں ہمیں برآمدات پر پابندی لگانے کے لیے مجبور بھی کرے گی۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ہندوستان کے چاول پر منحصر کروڑوں لوگوں کو اس کے منفی نتائج برداشت کرنے پڑیں گے۔ دنیا بھر میں چاول کے کاروبار میں ہندوستان کی شراکت داری 40 فیصد ہے۔ حکومت ملک میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے گیہوں اور چینی کی برآمدات پر پہلے ہی بندش لگا چکی ہے۔

ہندوستان میں چاول کی بڑھی ہوئی قیمتیں بھی پیداوار میں کمی کے تئیں فکر کو ظاہر کرتی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چاول کی کچھ قسموں کی قیمتیں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران بارش میں کمی کے سبب ملک کی بڑی چاول پروڈیوسر ریاستوں مغربی بنگال، اڈیشہ اور چھتیس گڑھ میں دس فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔ بنگلہ دیش میں طلب بڑھنے سے بھی ان ریاستوں میں چاول کی قیمتوں میں تیزی آ رہی ہے۔ واضح رہے کہ دنیا میں چاول کی سب سے زیادہ پیداوار اور استعمال ایشیا میں ہی ہوتی ہے۔ ایشیائی ممالک میں سیاسی اور معاشی استحکام کے لحاظ سے یہ ایک اہم کڑی ہے۔ روس کے یوکرین پر حملہ کے بعد گیہوں اور مکئی کی قیمتوں میں اضافہ آنے کے بعد چاول پر انحصار بڑھا ہے۔ اس سے فوڈ بحران کو دور کرنے میں تو مدد ملی ہے، لیکن ساتھ ہی چاول کا ذخیرہ بھی کم ہو گیا ہے۔

چاول کی پیداوار میں کمی سے ملک میں جاری مہنگائی سے لڑائی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ملک میں مہنگائی کی شرح آر بی آئی کی ٹولرنس سطح چھ فیصد سے اوپر بنی ہوئی ہے۔ اس سے شرح سود میں اضافہ کا امکان بھی بڑھ گیا ہے۔ آر بی آئی روپے میں مضبوطی لانے کی کوشش کے تھت اس ہفتے اس پر فیصلہ لے سکتا ہے۔