Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

ہندوستان امن کا خواہاں ہے لیکن اشتعال انگیزی پر منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے : مودی

IMG_20190630_195052.JPG

وزیر اعظم نریندر مودی نے لداخ میں چینی فوج سے جھڑپ میں 20 انڈین فوجیوں کی ہلاکت پر اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ ان کا ملک امن کا خواہاں ہے لیکن اشتعال انگیزی پر منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ 20 انڈین فوجیوں کی ہلاکت پریشان کن اور تکلیف دہ نقصان ہے اور ’قوم سرحد پر مارے جانے والے فوجیوں کی بہادری اور قربانی کبھی فراموش نہیں کرے گی‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس مشکل وقت میں قوم فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چین اور انڈیا کے وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وادی گلوان میں ہونے والی جھڑپ کے بعد پیدا ہونے والے حالات سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک چھ جون کو فوجی سطح پر ہونے والے سمجھوتے کے تحت آگے بڑھیں گے۔

انڈیا اور چین کی افواج کے درمیان پر تشدد جھڑپوں کے بعد انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے چین کے وزیر خارجہ وانگ یی سے بدھ کو فون پر بات کی ہے۔

لداخ میں 15 جون کو چینی فوج سے جھڑپ میں 20 انڈین فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ انڈیا نے چین کو جانی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے لیکن چین کی جانب سے کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

انڈین وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ دونوں ممالک اس بات کے لیے تیار ہیں کہ فوجی سطح پر چھ جون کو ہونے والے سمجھوتے کے مطابق ہی اب مستقبل میں قدم اٹھائیں گے۔

انڈیا کی وزارت خارجہ نے اس بیان میں بتایا کہ ’6 جون کو دونوں ممالک کے سینیئر ملٹری اہلکاروں کے درمیان ایل اے سی پر حالات بہتر کرنے اور فوجیوں کے پیچھے ہٹنے کے بارے میں سمجھوتہ ہوا تھا۔‘

اس سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی نے لداخ میں چینی فوج سے جھڑپ میں 20 انڈین فوجیوں کی ہلاکت پر اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ ان کا ملک امن کا خواہاں ہے لیکن اشتعال انگیزی پر منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

انڈیا اور چین کے وزرائے خارجہ کی بات چیت

انڈین حکومت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈیا نے پیر کی رات ہونے والے تشدد کے واقعے پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ واقعہ چین کے اشتعال دلانے اور پہلے سے سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت پیش آیا۔ جس کی وجہ سے تشدد ہوا اور انڈین فوجی ہلاک ہوئے‘۔

انڈیا کی وزارت خارجہ نے اس بیان میں بتایا کہ ’6 جون کو دونوں ممالک کے سینیئر ملٹری اہلکاروں کے درمیان ایل اے سی پر حالات بہتر کرنے اور فوجیوں کے پیچھے ہٹنے کے بارے میں سمجھوتہ ہوا تھا۔ گزشتہ ہفتے گراونڈ کمانڈرز لگاتار ایک دوسرے سے مل رہے تھے تاکہ طے شدہ نکات کے مطابق حالات بہتر کیے جا سکیں۔ اسی درمیان چین کی جانب سے ایل اے سی پر انڈیا کے علاقے میں تعمیرات کی کوشش کی گئی۔ یہ تنازع کی وجہ بن گئی۔ چین کی جانب سے سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت کیے جانے والے اقدامات کی وجہ سے تشدد اور ہلاکتیں ہوئیں۔’

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین کو اپنے اقدامات کی ذمہ داری لیتے ہوئے غلطیوں کو درست کرنے کے اقدامات کرنے چاہییں۔ ’دونوں ممالک کو چاہیے کہ چھ جون کو ہونے والے سمجھوتے میں طے شدہ نکات کے مکمل ذمہ داری کے ساتھ پابند رہیں‘۔

انڈین وزارت خارجہ کے مطابق چین کے وزیر خارجہ نے اس معاملے پر چین کا موقف سامنے رکھا ہے۔ دونوں رہنماوٴں نے بات چیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انڈیا اور چین کو نریندر مودی اور شی جن پنگ کے درمیان اتفاق کا پابند ہونا چاہیے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریقین نے وادی گلوان میں ہونے والی جھڑپ کے بعد پیدا ہونے والے حالات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔

انڈین وزیر خارجہ نے بیان میں بتایا کہ ‘دونوں ممالک اس بات کے لیے تیار ہیں کہ فوجی سطح پر چھ جون کو ہونے والے سمجھوتے کے مطابق ہی اب مستقبل میں قدم اٹھائیں گے۔ امن کو یقینی بنانے کے لیے دو طرفہ سمجھوتے اور پروٹوکالز کے تحت دونوں ممالک کو چاہیے کہ اس مسئلے کو مزید بڑھانے کی جانب دونوں میں سے ایک بھی فریق کوئی قدم نا اٹھائے۔’

وزیراعظم نے چین سے کشیدگی کے معاملے پر جمعے کو کل جماعتی کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان بھی کیا ہے

نریندر مودی نے کیا کہا تھا

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے لداخ میں چینی فوج سے جھڑپ میں 20 انڈین فوجیوں کی ہلاکت پر اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ ان کا ملک امن کا خواہاں ہے لیکن اشتعال انگیزی پر منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

یہ 15 جون کو وادی گلوان میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر ہونے والی جھڑپ پر انڈین وزیراعظم کا باقاعدہ طور پر پہلا بیان تھا۔

جمعرات کو ٹی وی پر اپنی تقریر میں نریندر مودی نے کہا کہ ’میں قوم کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہمارے جوانوں کی قربائی رائیگاں نہیں جائے گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے لیے ملک کی سالمیت اور خودمختاری اور اتحاد سب سے اہم ہے۔۔۔۔ انڈیا امن چاہتا ہے لیکن اگر اسے اشتعال دلایا گیا تو وہ ترکی بہ ترکی جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔‘

وزیر اعظم نریندر مودی ، وزیر داخلہ امیت شاہ اور 15 ریاستوں اور مرکزی علاقوں کے وزرائے اعلیٰ نے وادی گلوان میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے لیے دو منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی۔

انڈین وزیراعظم کے دفتر نے اس تقریر سے قبل اس معاملے پر جمعے کو کل جماعتی کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

نریندر مودی کی تقریر سے قبل انڈین حکومت کی جانب سے جھڑپ پر پہلا سرکاری بیان بدھ کو ہی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے دیا۔

PMO India

✔@PMOIndia

In order to discuss the situation in the India-China border areas, Prime Minister @narendramodi has called for an all-party meeting at 5 PM on 19th June. Presidents of various political parties would take part in this virtual meeting.

انڈین حکام نے جھڑپ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے نام اور دیگر تفصیلات بھی جاری کی ہیں۔ مرنے والوں میں ایک کرنل، تین نائب صوبیدار، تین حوالدار، ایک نائیک اور 12 سپاپی شامل ہیں۔

’چین جھڑپ کا ذمہ دار نہیں‘

ادھر چین نے کہا ہے کہ اسے وادی گلوان میں ہونے والی سرحدی جھڑپ کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا اور انڈین فوجیوں نے سرحدی پروٹوکول کی خلاف وزری کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹANIImage captionچین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا ہے کہ وادی گلوان پر خودمختاری ہمیشہ سے چین کی ہی رہی ہے

لداخ میں ہونے والی اس جھڑپ میں چین کی جانب سے تاحال کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا ہے کہ ’وادی گلوان پر خودمختاری ہمیشہ سے چین کی ہی رہی ہے۔ انڈین فوجیوں نے سرحدی معاملات پر ہمارے پروٹوکول اور کمانڈرز کی سطح کے مذاکرات پر طے شدہ اتفاقِ رائے کی سنگین خلاف ورزیاں کیں‘۔

ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ’چین مزید تنازعات نہیں چاہتا‘۔ انھوں نے کہا کہ صورتحال اب مستحکم اور قابو میں ہے۔

اس سے قبل چینی فوج کے ایک ترجمان نے انڈیا کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کو قابو میں رکھے۔ چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) ویسٹرن تھیٹر کمانڈ کے ترجمان چینگ شویلی کا بیان پی ایل اے کے مصدقہ ویبو اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا گیا ہے۔

اس بیان میں چانگ نے کہا کہ انڈیا سختی کے ساتھ اپنے فوجیوں کو روکے اور تنازع کے خاتمے کے لیے بات چیت کے صحیح راستے پر آگے بڑھے۔

چینگ نے کہا: ‘انڈین فوجیوں نے اپنے وعدے کی خلاف ورزی کی اور پھر سے ایک بار ایل اے سی کو عبور کیا۔ دانستہ طور پر چینی فوجیوں کو اکسایا اور ان پر حملہ کیا۔ اس کے نتیجے میں دونوں فریقوں کے مابین آمنے سامنے کا تصادم ہوا اور یہی بات اموات کی وجہ بنی۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ انڈیا اپنی فوجیوں کو سختی کے ساتھ روکے اور تنازعے کو بات چیت کے ذریعے حل کرے۔’

تصویر کے کاپی رائٹAFP/GETTY IMAGESImage captionانڈیا میں چین سے سرحدی جھڑپ کے بعد چین مخالف مظاہرے بھی ہوئے ہیں

منگل کی صبح بتایا گیا تھا کہ پیر کی شب چینی فوج کے ساتھ وادی گلوان میں ہونے والی سرحدی جھڑپ میں انڈین فوج کے ایک افسر سمیت تین فوجی ہلاک ہوئے ہیں تاہم منگل کی شب انڈین فوج نے کہا کہ جھڑپ میں شدید زخمی ہونے والے فوجیوں میں سے مزید 17 فوجی ہلاک ہوگئے ہیں اور ہلاک شدگان کی کل تعداد 20 ہو گئی ہے۔

چین اور انڈیا کی متنازع سرحد پر کسی جھڑپ میں ہلاکت کا کم از کم 45 برس میں یہ پہلا واقعہ ہے۔

وادی گلوان لداخ میں انڈیا اور چین کی سرحدی لائن کا علاقہ ہے۔ اس علاقے میں انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی نے حالیہ دنوں میں ایک بار پھر سر اٹھایا ہے اور اس تناؤ کو سنہ 1999 میں انڈیا کے روایتی حریف پاکستان کے ساتھ کارگل میں ہونے والی جنگ کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی کشیدگی کہا جا رہا ہے۔

اس سے قبل سنہ 2017 میں انڈیا اور چین کی افواج ڈوکلام کے مقام پر آمنے سامنے آئی تھیں لیکن گذشتہ ایک ماہ کے دوران مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ سمیت انڈیا اور چین کے درمیان لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے مختلف مقامات پر دونوں جانب سے افواج کی موجودگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔

ماضی قریب میں انڈیا اور چین کے درمیان اس علاقے میں چار جھڑپیں ہوئی ہیں لیکن کسی میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

لداخ میں پینگونگ ٹیسو، گالوان وادی اور دیمچوک کے مقامات پر دونوں افواج کے درمیان جھڑپ ہوئی جبکہ مشرق میں سکم کے پاس بھی ایسے ہی واقعات پیش آئے ہیں۔

بشکریہ بی بی سی اردو