ہندوستانی کرنسی پر لکشمی-گنیش کی تصویر چھاپنے کے مطالبے پر پارلیمنٹ میں حکومت کا اہم بیان

1,853

نئی دہلی: دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے حال ہی میں کرنسی نوٹوں پر ہندو دیوی اور دیوتا لکشمی اور گنیش کی تصویر چھاپنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس مطالبے پر حکومت نے پارلیمنٹ میں جواب دیا ہے۔ حکومت نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ اسے ہندوستانی کرنسی نوٹوں پر نامور شخصیات، دیوی دیوتاؤں اور حتیٰ کہ جانوروں کی تصاویر چھاپنے کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں، اس کے ساتھ ہی حکومت نے کرنسی نوٹوں سے بابائے قوم مہاتما گاندھی کی تصویر ہٹانے کے کسی بھی منصوبے سے انکار کر دیا ہے۔لوک سبھا میں حکومت سے پوچھا گیا کہ کیا ہندوستانی کرنسی نوٹوں پر دیوی لکشمی اور دیوتا گنیش کی تصاویر سمیت مزید تصاویر لگانے کے مطالبے کے بارے میں حکومت سے کوئی درخواست کی گئی ہے؟ ایسے میں اس مطالبے کے حوالے سے حکومت کا کیا لائحہ عمل ہے؟ اس سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے خزانہ پنکج چودھری نے قبول کیا ہے کہ یہ مطالبہ حکومت سے درخواست کر کے کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آزادی پسندوں سے لے کر کرنسی نوٹوں پر نامور افراد، دیوی دیوتاؤں اور جانوروں کی تصویریں چھاپنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آر بی آئی ایکٹ 1934 کے سیکشن 25 کے تحت بینک نوٹ کے ڈیزائن، فارم اور مواد کے استعمال سے متعلق آر بی آئی کے سنٹرل بورڈ آف ڈائریکٹرز کی سفارش کے بعد حکومت سے منظوری لینی ہوتی ہے جس کے بعد ہی تبدیلیاں ممکن ہیں۔حکومت سے پوچھا گیا کہ کیا ہندوستانی کرنسی نوٹوں سے بابائے قوم مہاتما گاندھی کی تصویر ہٹانے کا منصوبہ زیر غور ہے؟ تو وزیر مملکت برائے خزانہ نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کو کرنسی نوٹوں پر تصویر کے حوالے سے بہت سی درخواستیں اور تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ پنکج چودھری نے کہا کہ 6 جون 2022 کو آر بی آئی نے ایک پریس ریلیز جاری کر کے واضح کیا کہ موجودہ کرنسی نوٹوں کو تبدیل کرنے کی کوئی تجویز نہیں ہے۔ غورطلب ہے کہ تب آر بی آئی کو موجودہ کرنسی نوٹوں اور بینک نوٹوں سے بابائے قوم مہاتما گاندھی کی تصویر ہٹانے کی افواہوں کی تردید کرنی پڑی تھی۔خیال رہے کہ ایسی خبریں گردش کر رہی تھیں کہ وزارت خزانہ اور ریزرو بینک آف انڈیا رابندر ناتھ ٹیگور اور میزائل مین سابق صدر اے پی جے کلام کی تصویروں والے نوٹوں کی ایک نئی سیریز چھاپنے پر غور کر رہے ہیں۔ جس کے بعد آر بی آئی کو اس خبر کی تردید کے لیے آگے آنا پڑا تھا۔