ہندوستانی مسلمانوں کو مسلم پرسنل لابورڈ پر پورا اعتماد. سیف الدین سوز حقیقت سے پرے

0 14

محمد منصور عالم رحمانی

سابق مرکزی وزیر سیف الدین سوز کے حقیقت سے پرے ایک بیان کے جواب میں ، جس میں انہوں نے یہ اظہار خیال کیا ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ عائلی قوانین کے تحفط میں غیر سنجیدہ اور غفلت کا شکار ہے۔

۲۵ / ممالک میں تین طلاق ایک مانی جاتی ہے، جس میں سعودی عرب بھی شامل ہے ، مطلقہ خواتین کی خبر گیری بورڈ کی جانب سے کبھی نہیں کی گئی ، بورڈ کی جانب سے صرف فتوی بازی ہو رہی ہے ۔ مسلمانان ہند اور اسلامی اداروں سے انہوں نے متبادل ادارے کے قیام کی پر زور اپیل کی ہے ۔

سوز صاحب کا یہ بیان حقائق سے ناواقفیت کی بنیاد پر ہے ۔ میڈیا سے متاثر ہوکر انہوں نے یہ بیان دیا ہے ۔ بورڈ کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں کونسا ایسا موڑ ہے جہاں بورڈ نے اقدام یا دفاع نہیں کیا ہے ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ویب سائٹ میں جائیں، آپ کو پوری تاریخ رقم ملے گی۔

وہ کونسے ۲۵ / ممالک ہیں ؟ جہاں تین طلاق ایک مانی جاتی ہے ۔
سعودی عرب کو مثال میں پیش کیا ہے ، جب کہ سعودی عرب میں تین طلاق تین مانی جاتی ہے ۔

پھر یہ کہ ہمارے لیے کوئی ملک آئیڈیل نہیں ہے ، ہمارے لئے ہماری شریعت ہے ، تین طلاق ہماری شریعت کا حصہ ہے ،عقیدہ و عمل دونوں باب سے تعلق رکھتا ہے ، تین طلاق دینا یقینا بری چیز ہے لیکن بری ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ واقع ہی نہ ہو ، قتل جرم اور گناہ عظیم ہے تو کیا قتل کرنے سے قتل نہیں ہوتا ہے ؟

عوام و خواص اہل علم اور عام مسلمان سبھوں کو بورڈ پر اعتماد ہے ، ہمیں کسی نئے ادارے کی ضرورت نہیں ہے ۔
جہاں تک مطلقہ کی خبر گیری کی بات ہے تو یہ بورڈ کے دائرہ کار سے باہر ہے اس کام کو مسلمانوں کے دوسرے رفاہی ادارے بخوبی انجام دے رہے ہیں

بی جے پی نے اس آرڈیننس کے ذریعے ہندو وزٹرز کو متحد کرنے کی کوشش کی ہے آپ نے بھی موقع کو غنیمت جانا : کہ ہندوستانی مسلمانوں کا متحدہ متفقہ پلیٹ فارم آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سے مسلمانوں کا اعتماد ختم کردیا جائے اور سارے مسلم ووٹرز کی توجہ کانگریس کی جانب مرکوز ہو جائے

عائلی قوانین کے تحفظ میں بورڈ مکمل سنجیدہ ، چست و مستعد اور پورے طور پر بیدار ہے ۔

مسلم خواتین کی لاکھوں کی تعداد میں خاموش جلوس ، کروڑوں دستخط بورڈ کی جانب سے بڑا اقدام تھا۔

لاء کمیشن کی جانب سے بھیجے گئے سوالات کے مکمل و مدلل تحریری جوابات کی پیشی اور پھر ملاقات بھی بہت اہم حصہ ہے

تحریک اصلاح معاشرہ کے ذریعے گھروں ، بستیوں ، شہروں اور چھوٹے بڑے ہر طرح کے تعلیمی اداروں تک عائلی قوانین کی تفصیل ، تشریح ، اہمیت ، اور أبغض المباحات الطلاق کا مسلمانوں کو احساس دلانے کی مہم سوشل میڈیا ڈیسک ، مسجدوں کے منبروں، محاضرات، جلسے اور مختلف مختصر اور مفصل تحریروں کے ذریعے جاری ہے ۔

بورڈ ہم مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن ہے ، ہماری دھڑکن کو کمزور یا بند کرنے کا خواب نہ دیکھیں.

سوشل میڈیا ڈسک آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ