BiP Urdu News Groups

دہشت گردی کو ہوا دینے پاکستان کی ناپاک کوششیں برقرار ، ہم مشرقی لداخ میں چین کی حرکتوں سے واقف تھے : فوجی سربراہ

نئی دہلی : ملک کی شمالی اور مشرقی سرحدوں پر چوکسی برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے فوجی سربراہ جنرل ایم ایم نروانے نے کہا کہ ہندوستانی فوج، کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے۔ تمام حکمت عملیوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے چوکسی برقرار رکھی جائے گی۔ ان تمام کیلئے تشویش کی وجہ نہیں ہے۔ ہماری فوجی تیاریاں اعلیٰ سطح کی ہیں۔ یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فوجی سربراہ نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ دہشت گردی کو ہوا دینے کی اپنی پالیسی پر گامزن ہے۔ مسلح فوج، دہشت گردی سے سختی کے ساتھ نمٹے گی۔ پاکستان کو واضح پیام دیا جاتا ہے کہ اس کی ناعاقبت اندیش کارروائیوں کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے اظہار اطمینان کیا کہ فوج کو گزشتہ سال بجٹ میں مختص رقومات موصول ہوچکی ہیں۔ فوج ان رقومات سے ضروری تیاری کرتے ہوئے خود کو چوکس کرلیا ہے۔ ہر ایک ہتھیار اور ہماری سرویس جو ضرورت تھی، وہ پوری ہوچکی ہے۔ ہمیں فوجی ڈھانچہ کو پہلے سے زیادہ مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پر ہمہ رخی خطرات منڈلا رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اور چین مل کر ہمیں پریشان کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے ان کے منصوبوں کے جواب میں موثر منصوبے تیار کرچکے ہیں۔ مشرقی لداخ میں جاری تعطل کے درمیان فوجی سربراہ نے چین اور پاکستان کو جواب دیا ہے اور کہا کہ ملک کی فوج نہ صرف مشرقی لداخ بلکہ شمالی سرحد پر بھی ہائی الرٹ پر ہے۔ ہمارے جوان ہر چیلنج سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں۔ صحیح وقت پر جواب دیا جائے گا۔ فوجی سربراہ منوج مکند نروانے نے مزید کہا کہ مشرقی لداخ کی گلوان وادی میں ہوئے پرتشدد جھڑپ چین کی طرف سے کوئی نہیں بات نہیں تھی۔ ہر سال چینی فوج یہاں ٹریننگ کیلئے آتی ہے، اس سال بھی ہمیں پتہ تھا کہ یہ کس جگہ پر آئے گی۔ ہم نے اس پر نظر بھی رکھی تھی۔ بعض مقامات پر اس نے جو تعیناتی کی تھی، اس کا علم صرف چین کو تھا۔ ہم چین کی نیت بھانپ نہیں سکے، چین ایسا کرے گا ہم نے سوچا نہ تھا۔ گزشتہ سال ہمارے لئے چیلنجوں سے بھرا تھا۔ سرحد پر کشیدگی تھی، کورونا انفیکشن کا بھی خطرہ تھا۔ فوج نے کامیابی سے اس کا سامنا کیا۔ سردیوں کے موسم میں لداخ اور شمالی سرحد پر برفباری ہوتی ہے، فوج نے اس موسم کی پوری تیاری کرلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس خطے میں ہمیں پرامن حل کی امید ہے۔ ہندوستانی فوج کی تیاری کے بعد چین نے دور دراز علاقوں سے اپنی فوج کو واپس طلب کیا ہے۔ جب سے ٹریننگ علاقوں کو خالی کردیا گیا ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں