ایک دن پہلے یاددہانی کرا رہا ہوں، آئندہ کل ۲ جون ہے، یہ دن اسلیئے سَنگھی ظلم و ستم کا استعارہ بن رہاہے کیونکہ نریندرمودی کے وزیراعظم بننے کےبعد اسی دن مودی کے وزارت عظمیٰ میں پہلی ماب۔لنچنگ ہوئی تھی

آج سے سات سال پہلے ۲ جون 2014 کو مہاراشٹر کے پونے میں محسن شیخ نامی اعلی تعلیم یافتہ مسلم نوجوان ہندو دہشتگردوں کے ہاتھوں قتل ہوا تھا، ۷ سال پہلے ۲ جون کو سافٹویر انجینئر محسن شیخ اپنے دوست ریاض کے ساتھ مسجد میں عشاء کی نماز پڑھ کر لوٹ رہےتھے تبھی انہیں ہجومی دہشتگردی کا شکار بنالیا گیا

محسن شیخ کا یہ قتل انڈیا میں سنگھیوں کے ذریعے مسلمانوں پر ہجومی دہشتگردی کا آغاز ثابت ہوا، محسن شیخ کی ماب لنچنگ کروانے والے لیڈر کا نام دھننجے دیسائی ہے اس کے ساتھ ہندوراشٹر سینا نامی دہشتگرد تنظیم کے کارکنان تھے

خود کلیدی دہشتگرد دھننجے دیسائی تنظیم ہندوراشٹر سینا کا چیف تھا

اس وقت مہاراشٹر میں کانگریس کی سرکار تھی
اور انصاف کی صورتحال کیا تھی؟ آپ اس سے اندازہ لگا سکتےہیں کہ ہندوتوا کے اس دہشتگرد دھننجے دیسائی کی حمایت میں آر ایس ایس نظریات کے حامل ہندو شدت پسندوں نے جلوس تک نکالا تھا
بھارت کی عدالتوں کا حال یہ ہیکہ، وہ سنگھی غنڈہ دھننجے دیسائی جوکہ کلیدی ماخوذ ہے اس مقدمے میں وہ ضمانت پر آزاد گھوم رہاہے، ایسے قاتل آزاد ہوجاتے ہیں اور خالد۔سیفی شرجیل امام اور عمر خالد جیسے حقوق انسانیت کے بیشمار بہادر کارکنان جیلوں میں ٹھونس دیے گئے ہیں ۔

ہندوتوا دہشتگردی کا شکار ہوجانے والے محسن کی شہادت کو سات سال ہورہےہیں
محسن کی مظلومانہ شہادت آج بھی ہمارے دلوں میں تازہ ہے

ہندوراشٹر سینا اور اس کے دہشتگرد کارکنوں کو جب تک قانون پھانسی پر نہیں لٹکاتا ہمارا درد کبھی کم نہیں ہوسکتا اور مودی کے خونی استعمار کا یہ دن اس کی تاریخ کا ہمیشہ حصہ بنا رہےگا
محسن شیخ پر ہجومی دہشتگردی کرنے والے مجرمین صرف محسن کے نہیں بلکہ آج تک کی تمام ماب لنچنگ کے مجرم ہیں

اگر یہ وبائی لاکڈاون کا وقت نہ ہوتا تو پورا ہندوستان محسن کی مظلومانہ شہادت کے خلاف سڑک پر گونج رہا ہوتا ( البتہ حکمت و مصلحت کےساتھ غیرجذباتی مشینی انداز میں)

ہندوتوا کی دہشتگردی میں ہندو دہشتگردوں کے ذریعے محسن جیسے نجانے کتنے شہید ہوچکےہیں اور آج تک سب کے سب شہیدوں کا خون انصاف کا منتظر ہے، ان کے گھرانے فریادی ہیں

اسی واسطے انصاف پسندوں اور مسلمانوں کی طرف سے اور ” Justice For Mohsin movement ” والوں کی طرف سے ۲ جون کو محسن شیخ کے لیے مختلف کوششیں ہوتی ہیں اور ہوں گی، اسی میں سے ٹوئٹر پر ٹرینڈ بھی چلتاہے، لہذا کل شام 4 بجے سے محسن شیخ کو انصاف دلانے کے لیے اور ہندوراشٹر سینا کا مکروہ دہشتگرد چہرہ دنیا کو بتانے کے لیے ٹرینڈ کمپین شروع ہوگی، آپ سب ابھی سے اپنے اوقات خالی کرکے اس میں ضرور شریک ہوں ۔
#JusticeForMohsin یہ # ٹیگ

یہ سب معمولی اور چھوٹے سے کام مودی کے راون راجیہ کے پہلے شکار محسن کی شہادت کو یاد رکھنے کے لیے نوجوان کرتے رہتےہیں تاکہ بےحسی انہیں بھی فراموش نہ کردے، اس کےعلاوہ ان ہندوتوا مظالم کو روکنے کے لیے جو بڑے اقدامات مطلوب ہیں اونچی سطح سے ان پر 2014 سے ملت کے ” سنجیدہ سمجھدار وسائل یافتہ مالدار اور غیرجذباتی دانشوران و قائدین ” سوچ بچار کررہےہیں، گرچہ اس ” حکمت و مصلحت ” کی سوچ سے ابھی تک ماب۔لنچنگ نہ روکی جاسکی ہے ناہی سات سالوں میں کوئی رزلٹ یا انصاف بیچارے شہیدوں کو مل سکا، اتنے سالوں میں کوئی ایک قاتل کیفرکردار کو گرچہ نہیں پہنچ سکا ! لیکن ہمیں ” قوی امید ” ہے بلکہ نوجوانوں سے مخلصانہ اپیل کرتےہیں کہ اگر ملت کے نوجوان اپنے "سوالات اور جذباتیت” سے بڑے بزرگوں اور سینئرز کی سوچ بچار کے مرحلے میں خلل نہ ڈالیں… ہنگامے کرکے ان کی عقلوں کو ڈسٹرب نہ کریں، صبر کرتے رہیں، تو ” اعلان شدہ مثبت نتیجہ ” آنے والے کچھ سالوں میں ضرور پیدا ہوجائے گا، ان شاءالله العزیز۔

خیر، پونہ کے محسن شیخ کو بھولنا نہیں ہے،

دادری کے اخلاق، حافظ جنید، پہلو اور تبریز سمیت ماب۔لنچنگ کے ہر شہید کو یاد رکھیں، انصاف دیر سویر ہوسکتا ہے، لیکن قائم ضرور ہوگا_

#JusticeForMohsin

*سمیــع اللّٰہ خان*

1 جون بروزمنگل ۲۰۲۱

ksamikhann@gmail.com