ہم کیسے مسلمان ہیں ہم کیسے مسلمان! شکیل رشید ( ایڈیٹر ، ممبئی اردو نیوز )

2,930

ہم کس بے غیرتی کی زندگی جی رہے ہیں اس کو سمجھنے کے لیے ، ایک مثال اُن دو لڑکوں سے دی جا سکتی ہے ، جنہوں نے ایک کورین لڑکی کے ساتھ دست درازی کی ، اور پولیس کی کال کوٹھری میں جا پہنچے ۔ یہاں ’ہم ‘ سے مراد ’ مسلمان ‘ ہیں ۔ گذشتہ دنوں شہر ممبئی میں پیش آنے والا یہ واقعہ مسلمانوں کی ذہنی پسماندگی کی نشاندہی بھی کرتا ہے ، اور اس حقیقت کی بھی کہ آج ہم اور ہمارا معاشرہ پستی کی انتہا کو پہنچ چکا ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ کوئی واحد واقعہ ہے ، ایسے متعدد واقعات ہو چکے ہیں ،اور لوگ خوب اُن واقعات سے واقف ہیں ۔

میں یہاں آفتاب کی بات نہیں کروں گا ، جو ایک لڑکی کے ساتھ ’ لیو اِن ریلیشن شپ ‘ میں تھا اور ایک دن اسے قتل کرکے اس کی لاش کی تکا بوٹی کرکے دہلی کے سنسان علاقوں میں پھینک آیا تھا ۔ یہ اپنی نوعیت کا انتہائی افسوس ناک ، قابلِ مذمت اورشرم ناک واقعہ ہے ، اور باوجود اس کے کہ وہ ایک غیر اسلامی فعل کا مرتکب تھا کہ ناجائز جسمانی تعلقات اسلام میں ’ حرام ‘ ہیں ، لیکن چونکہ اس کا نام آفتاب ہے ، اور قتل ہونے والی کا شردھا ، اس لیے قتل کی یہ واردات آسانی کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں سے جوڑ دی گئی ۔

لیکن اگر آفتاب کے ہاتھوں شردھا کا قتل نہ بھی ہوا ہوتا تو بھی ہمارے معاشرے میں جو گندگی پھیلی ہوئی ہے ، وہ اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے کافی ہے ۔ کل وی ٹی اسٹیشن کے قریب سے گذرتے ہوئے ایک برقعہ پوش لڑکی کو دیکھا جو ٹائمز آف انڈیا کی دیواروں پر نکلے ہوئے پتھر پر ایک لڑکے کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی ، دونوں ہی اسکولی طالب علم تھے ، لیکن ان کی حرکتیں ایسی تھیں کہ آنے جانے والوں کو شرم لگ رہی تھی ، ایسے نظارے عام ہیں ۔

ایک واقعہ اور بتاتا چلوں ، میرا روزانہ لوکل ٹرین سے سفر ہوتا ہے ، ایسے نوجوان جو اپنے حلیے سے دور سےہی مسلمان لگتے ہیں ، سر پر ٹوپی ہے ، ریش ہے ، ٹرین میں ایسے کرتب دکھاتے ہیں کہ دیکھنے والوں کو لگتا ہے کہ یہ ٹرین سے کہیں نیچے نہ جا پڑیں یا کسی کھمبے سے ٹکرا نہ جائیں ۔ ایک دن کسی صاحب نے ایسے ہی کرتب دکھانے والے بچوں کو ڈانٹ کر روکنا چاہا ، جواب میں اُسے گالیاں پڑیں ، اندازہ کریں لوگوں کا مسلمانوں کے بارے میں ، ان کی اخلاقیات کے بارے میں کیا تاثر پیدا ہوا ہوتا ہوگا ۔ گرد ، ایم ڈی اور چرس و گانجا ہمارے محلوں میں کسی روک ٹوک کے بِنا دھوم سے بِیچی جاتی ہے ، اور اس کا کاروبار کرنے والے ہمارے ہی لوگ ہیں ۔ نوجوانوں ہی میں نہیں کم عمر کے بچوں میں بھی نشے کی لت پھیلی ہوئی ہے ، نتیجے میں والدین پریشان ، محلے والے حیران ہیں ۔ کبھی کبھی تو نشے کی لت میں بچے اپنوں پر ہی حملے کر دیتے ہیں ، یا پیسے کے لیے گھر والوں پر ہی تشدد کرتے یا گھروں کے اندر ہی چوری کرتے ہیں ۔ اور پھر وہ عادی مجرم بن جاتے ہیں ۔ بے راہ روی ، بے حیائی ، ڈرگ ، موبائل فون کا بیجا استعمال ، جوا ، رسومات ، میاں بیوی کے جھگڑے ، طلاق کے واقعات میں اضافے ، یہ سب ہمارے معاشرے کے مہلک عارضے ہیں ۔ اور ایک بڑا عارضہ مذہب کو تج کرکے یا نظرانداز کرکے شادیاں کرنا ہے ۔

ان عوارض سے نمٹنے کے لیے ، بچوں کی تعلیمی رہنمائی کے لیے اور اصلاح ِ معاشرہ کے لیے ہمارے پاس باضابطہ نہ کوئی منصوبہ ہے ، اور نہ ہی کسی طرح کی منصوبہ بندی کی فکر ہے ! آنے والے دنوں میں صورتِ حال کس قدر بدترین ہو سکتی ہے اس کا بس اندازہ یا احساس ہی کیا جا سکتا ہے ۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ صورتِ حال کا اندازہ کرنے یا احساس کرنے کے لیے کسی کے پاس وقت نہیں ہے ، نہ والدین کے پاس اور نہ ہی دانشورانِ ملت کے پاس ۔