ہم کہاں سے آئے، ایشیا پر انسانوں کی دستک… وصی حیدر

(دسویں قسط)

اب تک ہم جنیٹکس اور عالمی موسم کے لحاظ سے افریقہ سے باہر آنے والے ہوموسیپین کے بارے میں معلومات کا ژکر کر رہے تھے۔ لیکن اگر مختلف جگہوں پر کھدائی کی معلومات پر غور کریں تو کچھ نئی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ جنیٹکس ہم کو یہ بتاتی کہ افریقہ سے نکلنے والے کن انسانوں کی نسلیں آگے بڑھیں اور اب تک موجود ہیں جبکہ کھدائی میں ان لوگوں کے بھی نشانات ہیں جو کبھی آئے، لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر ہمیشہ کے لئے ختم ہوگئے اور ان کی نسلیں آگے نہیں بڑھیں۔ سائنس کی ان دونوں شاخوں کے فرق شائد وقت کے ساتھ ختم ہوجائیں گے جیسے جیسے اور زیادہ پرانے انساںی ڈھانچے دریافت ہوں اور ان کے ڈی این اے کی جانچ ہو سکے گی۔

♨️Join Our Whatsapp 🪀 Group For Latest News on WhatsApp 🪀 ➡️Click here to Join♨️

مثال کے طور پر اسرائیل میں مسیلیا (Misilya)فار میں کچھ دانت ملے جو ایک لاکھ اسی ہزار سال پرانے انسان کے ہیں۔ یہ جگہ کچھ ایسی ہے کہ جہاں پر انسانوں کی ہوموسیپین سے پہلے کی آبادی لاکھوں سال سے آباد ہوتی رہی۔ یہ تاریخ موجودہ دنیا میں ہوموسیپین (جو 50 سے 60 ہزار سال پہلے) کے افریقہ میں سے آنے کے بہت پہلے کی ہیں۔ کھدائی کے ذریعہ اس طرح کی انگنت چیزیں نہ صرف اسرائیل، سیریا، جارڈن کے آس پاس بلکہ سعودی عربیہ میں بھی ملیں ہیں۔

اپریل 2018 میں کھدائی کے ماہرین نے اعلان کیا سعودی عرب کے الوستہ (Al-Wusta)میں پرانی جھیل کے آس پاس انسانی انگلی ملی جو 88 ہزار پرانے انسان کی ہے۔ ہم سبھی کو تعجب ہوگا کہ کھدائی کی تحقیقات سے یہ معلوم ہوا کہ سعودی عرب جو اب بیشتر ریگستان ہے ایک زمانے میں ہرا بھرا تھا اور وہاں تقریباً 10 ہزار جھیلیں تھیں جن کے آس پاس انسان بستے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا نون لیگ کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے؟

نئی تحقیات سے یہ سچ سامنے آیا کہ افریقہ سے ایشیا میں انسانوں کا آنا تقریباً 3 لاکھ سال پہلے شروع ہوچکا تھا لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اتنا پہلے آنے والوں کی نسلیں کیوں نہیں پھیلنے میں کامیاب ہوئیں اور پھر کافی دنوں بعد (60 ہزار پہلے) ہی افریقہ سے آنے والے لوگ دنیا کو آباد کرنے میں کامیاب ہوئے۔ افریقہ سے آنے والے انسانوں کی اور نسلیں (Homo Erectus)تقریباً 20 لاکھ سال پہلے نکلے اور انہوں نے اپنی نسلیں نینڈر تھیلس (Neanderthal) اور ڈنیسون(Denisons) کو چھوڑا اور یہ ہوموسیپین سے بہت پہلے ایشیا آئے۔

ہوموسیپین کی نسلوں کا پہلے نہ بڑھ پانے کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔ پہلی تو یہ کہ زیادہ سردی اور پھر گرمی کے موسموں کی تبدیلی سے افریقہ سے ایشیا کے دروازہ کھلتے اور بند ہوتے رہے ہیں۔ لیکن شائد اہم وجہ نینڈر تھیل کی یورپ اور ایشیا میں ہوموسیپین سے پہلے موجودگی۔ وہ اسی ٹھنڈ کے عادی تھے اور آنے والے ہوموسیپین ان کے مقابلے میں کامیاب نہ ہو پائے۔

نینڈر تھیل کے نشانات اسرائیل میں طبون غار میں ایک لاکھ 20 ہزار پرانے ملے ہیں، اس دوران آنے والے ہوموسیپین ان کے مقابلے میں کامیاب نہیں ہوئے لیکن اس کے 50 ہزار سال بعد ہوموسیپین آخرکار کامیاب ہوئے اور پھر پوری دنیا کو آباد کیا۔

افریقہ سے باہر پھیلنے والے انسانوں کے ایشیا اور یورپ جانے کے چار آسان راستہ ہیں۔ پہلا راستہ مراکش سے اسپین جانے کا جبراٹل ہوتے ہوئے۔ دوسرا ٹیونیشیا سے سسلی کی طرف، تیسرا مصر سے سینیا (Sinia)ہوتے ہوئے عراق، سیریا، جارڈن اور اسرائیل کے آس پاس اور چوتھا راستہ اریٹیریا سے یمن اور سعودی عرب باب المنڈیب ہوتے ہوئے ریڈ سی کو پار کر کے۔

یہ بھی پڑھیں:  सऊदी अरब को इतनी सुरक्षा की चिंता है तो अमेरिका की गोद में बैठना छोड़ दे- ईरान

ان چار ممکن راستوں میں سے پہلے دونوں راستوں (جو سیدھا یورپ کو جاتے ہیں) کے استعمال کے کوئی بھی نشانات نہیں ملے ہیں اسی لئے زیادہ لئے زیادہ تر سائنسدان یہ مانتے ہیں کہ شائد یورپ میں ہوموسیپین ایشیا سے ہی گئے ہوں گے۔ تیسرے اور چوتھے راستہ کا ایشیا میں آنا کافی مقبول راستہ رہا جو افریقہ سے نکلنے والے ہوموسیپین اور ان سے بھی ہلے انسانوں کی اور نسلوں نے استعمال کیا۔

اس بات کے امکانات بہت زیادہ ہیں کہ سخت سردیوں کے موسم میں یورپ میں پہلے سے موجودہ نینڈر تھیل یورپ سے جنوب کی طرف آئے ہوں گے اور انہوں نے نئے نئے آئے ہوموسیپین کو شروع میں ختم کر دیا ہو۔

ہم کو یہ بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ پرانے زمانہ میں کچھ سوچ سمجھ کر انسان ایک بر صغیر سے دوسرے بر صغیر کی طرف ہجرت نہیں کرتا تھا جہاں ہری بھری چراگاہوں میں شکار کرنے کے لئے جانور آسانی سے مل سکیں۔ اگلی قسظ میں افریقہ سے یمن میں ہوموسیپین کے آنے کا ذکر کچھ تفصیل سے ہوگا۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

WARAQU-E-TAZA ONLINE

I am Editor of Urdu Daily Waraqu-E-Taza Nanded Maharashtra Having Experience of more than 20 years in journalism and news reporting. You can contact me via e-mail waraquetazadaily@yahoo.co.in or use facebook button to follow me

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔